’الیکٹرانک کرائم بل ایک بھیانک قانون ثابت ہو گا‘

تصویر کے کاپی رائٹ BoloBhi
Image caption ’حکومت اس مسودے پر خفیہ طریقہ سے کام کرنے کی بحائے اس معاملے پر عوامی سماعت کا اہتمام کرے‘

پاکستان کی پارلیمان کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی نے بھی اس ’الیکٹرانک کرائم بل 2015‘ کی منظوری دے دی ہے جس پر انٹرنیٹ کی آزادی کے لیے کام کرنے والوں اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے کاروبار سے وابستہ افراد نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

پاکستان میں اس سلسلے میں کام کرنے والی تنظیم بولو بھی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس بل کو خفیہ رکھنے کی بجائے عوام کے سامنے لائے۔

انٹرنیٹ کی آزادی کے لیے سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ اس بل کے مسودے کے مطابق انٹرنیٹ پر سیاسی تنقید کرنا اب جرم تصور کیا جائے گا جو کہ نہ صرف اظہار رائے کی آزادی کے منافی ہے بلکہ اس سے الیکٹرانک میڈیا کی صحافتی آزادی پر بھی قدغن لگائی جا رہی ہے۔

اس سلسلے میں قائم کی گئی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا کہنا ہے کہ ’یہ بل انٹرنیٹ کے صارفین، آئی ٹی کی صنعت اور الیکٹرونک میڈیا کے علاوہ پڑھے لکھے نوجوانوں کے ایک بھیانک قانون ہو گا۔‘

اس کمیٹی کے رکن اور انٹرنیٹ فراہم کرنے والی کمپنیوں کی تنظیم کے سربراہ وہاج السراج نے بتایا کہ مجوزہ مسودے کی شق 17 اور 18 کے تحت سیاسی یا مزاحیہ تنقید جرم تصور ہو گی۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس قانون کے غلط استعمال کا خدشہ بہت زیادہ ہے۔

’قانونی مسودے کے تحت کسی بھی نامعلوم صارف کو کسی قسم کا اشتہار، پیغام، تصویر یا ای میل بھیجنا بھی جرم ہو گا یعنی اگر میں نے آپ کو کسی پریس کانفرنس کے بارے میں مطلع کرنے کے لیے ای میل بھیجی ہے تو آپ چاہیں تو میرے خلاف شکایت کر سکتی ہیں اور اس کی سزا ایک برس قید یا دس لاکھ روپے جرمانہ ہو سکتی ہے۔‘

وہاج السراج کا کہنا تھا کہ ’اسے سپمینگ کہتے ہیں اور کاروباری سپمینگ کے قواعد و ضوابط ضرور واضح ہونے چاہییں مگر اس کے علاوہ ہونے والی سپمینگ کے خلاف دیوانی مقدمہ تو ہو سکتا ہے مگر فوجداری نہیں۔‘

ایکشن کمیٹی کے مطابق اس مسودے میں ایک متنازع شق کے مطابق ایسے ریستوران یا کیفے جہاں انٹرنیٹ کی سہولت دستیاب ہے، ان پر لازم ہو گا کہ وہ 90 دن کا انٹرنیٹ ڈیٹا محفوظ رکھیں۔

کمیٹی کا کہنا ہے کہ اس سے نہ صرف کاروبار کرنے والوں کے اخراجات میں اضافہ ہو گا بلکہ ایسی جگہوں پر انٹرنیٹ کی سہولت بھی مفت دستیاب نہیں ہو سکے گی۔

کمیٹی کے رکن اور پاکستان سوفٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن (پاشا) کے رکن مقیت احمد نے اس بل کے منظوری پر پیدا ہونے والے کاروباری خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ’آئی ٹی ان چند صنعتوں میں سے ہے جو ترقی کر رہی ہیں۔ خود سرکاری اعداد و شمار کہتے ہیں کہ گذشتہ برس اس صنعت میں 35 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ پانچ سو ملین ڈالر کا زرمبادلہ پاکستان آیا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اس کے باوجود حکومت اس طرح کی قانون سازی کر رہی ہے جو ہمیں بین الاقوامی سطح پر بینکوں کے ساتھ آن لائن بینکنگ کے لیے معاہدے کرنے سے روکے گی۔‘

مقیت احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اس قانون کو نافذ کرنے کے لیے ایک نیا ادارہ بنایا جائے گا جس کے پاس اختیار ہو گا کہ وہ شک کی بنیاد پر کسی بھی کمپنی پر چھاپہ مار سکتا ہے اور ادارے کے اہلکاروں کے پاس کمپنی کے سرورز نہ صرف ضبط کرنے بلکہ معلومات بھی حاصل کرنے کا اختیار ہو گا۔‘

ان کے بقول ’اس قانون کی وجہ سے عالمی کمپنیاں ہمارے ساتھ کام نہیں کریں گی کیونکہ کوئی کمپنی بھی نہیں چاہتی کہ ان کے کاروباری راز دنیا کو پتہ چلیں۔ اس سے ان کا کاروبار متاثر ہو گا۔‘

انٹرنیٹ کی آزادی کے لیے کام کرنے والی تنظیم ’بولو بھی‘ کی ڈائریکٹر فریحہ عزیز کا کہنا ہے کہ اس بل کی تیاری کے سلسلے میں متعلقہ سماجی کارکنوں کو کسی بھی مرحلے پر تجاویز کے لیے نہیں بلایا گیا۔

انھوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس مسودے پر خفیہ طریقہ سے کام کرنے کی بحائے اس معاملے پر عوامی سماعت کا اہتمام کرے۔

ان کا مزید کہنا تھا: ’حکومت اس مسودے کو اتنا خفیہ رکھ رہی ہے کہ حزب اختلاف کی جماعتوں کے بیشتر اراکین کو بھی یہ مسودہ نہیں دکھایا گیا، اس میں اتنے قانونی مسائل ہیں کہ یہ بڑی آسانی سے سیاسی یا ذاتی دشمنی نکالنے کے لیے بھی استعمال ہو سکتا ہے۔‘

انھیں خدشہ ہے کہ حکومت پارلیمان میں اپنی اکثریت کا استعمال کرتے ہوئے اس قانون کو منظور کروا لے گی۔

اسی بارے میں