’کتوں کے کاٹنے سے روزانہ 160 افراد ہلاک‘

کتا تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption کتوں کے کاٹنے سے لگنے والی بیماری سے ہلاک ہونے والی کی زیادہ تعداد ایشیا اور افریقہ کے لوگوں کی ہے

گلوبل الائنس فار ریبیز کنٹرول کی ایک رپورٹ کے مطابق ہر سال تقریباً 59,000 افراد کتوں سے لگنے والی بیماری ریبیز سے ہلاک ہوتے ہیں اور ان کی تعداد غریب ممالک میں زیادہ ہوتی ہے۔

رپورٹ کے مصنفین کا کہنا ہے کہ زیادہ کتوں کی ویکسین کرنا چاہیے۔

کتے کے کاٹنے کے بعد لگائی جانے والی ویکسین کو بھی عام لوگوں کے لیے سستا کیا جائے اور یقینی بنایا جائے کہ یہ ان ممالک میں آسانی سے میسر ہو سکے۔

ریبیز ایک ایسی وائرل انفیکشن ہے جو کہ بہت مہلک ہے اور اسے تقریباً 100 فیصد روکا جا سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ انفیکشن سبھی دودھ پلانے والے جانوروں کو لگ سکتی، لیکن پالتو کتے زیادہ تر 99 فیصد انسانی اموات کی وجہ بنتے ہیں۔

زیادہ ترقی یافتہ ممالک نے، جن میں برطانیہ بھی شامل ہے، کتوں کی آبادی سے ریبیز کو بالکل ختم کر دیا ہے۔

لیکن کئی ترقی پذیر ممالک میں پالتو کتوں میں ریبیز موجود ہے اور اکثر اس کو اچھی طرح کنٹرول نہیں کیا جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پوری دنیا میں 160 افراد روزانہ اس بیماری سے ہلاک ہوتے ہیں، جن میں سے زیادہ تعداد ایشیا میں ہے (60 فیصد) اور اس کے بعد افریقہ (36 فیصد) آتا ہے۔

صرف انڈیا میں ہی ریبیز سے 35 فیصد انسانی جانیں ضائع ہوتی ہیں جو کہ کسی بھی ملک سے سب سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق افریقہ اور ایشیا میں ویکسین کیے جانے والے کتوں کی تعداد بہت کم ہے۔

پارٹنرز فار ریبیز پروینشن گروپ کے تحقیق کے مطابق ریبیز کی وجہ سے وقت سے پہلے ہونے والی اموات، متاثرین کی آمدنی کا خاتمہ اور انسانی ویکسین کا خرچ تقریباً 8.6 ارب ڈالر ہے۔

اس تحقیق کی سربراہ یونیورسٹی آف گلاسگو کی ڈاکٹر کیٹی ہیمپسن کے مطابق اس تحقیق سے کتوں سے لگنے والی ریبیز بیماری کے اثر کا پتہ چلتا ہے اور کس طرح اسے دنیا کے مختلف ممالک میں کنٹرول کیا جا رہا ہے۔

گلوبل الائنس فار ریبیز کنٹرول کے ایگزیکیوٹو ڈائریکٹر پروفیسر لوئس نیل کہتے ہیں کہ ’کسی کو بھی ریبیز سے نہیں مرنا چاہیے اور ہم عالمی طور پر ریبیز کے خاتمے کے لیے کام کرتے رہیں گے۔‘

اسی بارے میں