بھارت میں ’نیٹ نیوٹریلیٹی‘ کا بڑھتا مطالبہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پرچون فروش اور فون نیٹ ورک کمپنیاں کہتی ہیں کہ وہ انٹرنیٹ کی سروسز کے لیے غیر جانبداری کی حامی ہیں

بھارت میں ٹیلی کام انتظامیہ اور صارفین ایک ایسی آن لائن جنگ لڑ رہے ہیں جو ملک میں انٹرنیٹ کے مستقبل کا فیصلہ کر سکتی ہے۔

ایک ہفتے سے بھی کم دنوں میں ٹیلی کام انتظامیہ کو آٹھ لاکھ سے زائد ایسی ای میلز موصول ہوئیں جن میں صاف اور شفاف بنیادوں پر انٹرنیٹ سروس حاصل کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

اس سلسلے میں کام کرنے والے سماجی کارکنوں نے ویب سائٹس بنائی ہے جیسے نیوٹریلٹی ڈاٹ نیٹ اور سیو دی انٹرنیٹ وغیرہ۔

معروف کامیڈی گروہ کی جانب سے نیٹ نیوٹریلٹی نامی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کی جانے والی ایک ویڈیو کو بہت زیادہ دیکھا جا رہا ہے۔

یہ ویڈیو معروف برطانوی کامیڈین جان اولیور کے شو سے مماثلت رکھتی ہے جو گذشتہ سال جون میں انٹرنیٹ کی غیر جانبداری کے موضوع پر کیا گیا تھا۔ اس شو میں امریکی انتظامیہ پر نیٹ کی غیر جانبداری اور شفافیت کے لیے زور ڈالا گیا تھا۔

اسی طرح چند کمپنیاں جن میں میڈیا بیموتھ ٹائم گروپ بھی شامل ہے، اصولوں کی خلاف ورزی کے خدشے کی بِنا پر سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک کی انٹرنیٹ ڈاٹ او آر جی سے باہر نکل گئی تھیں۔

نیٹ نیوٹریلیٹی کا مطلب ہے کہ کہ انٹرنیٹ سروس پر تمام ٹریفک سے یکساں برتاؤ کیا جائے۔ یعنی تمام صارفین کو یکساں قیمت پر ایک جتنی رفتار کے ساتھ انٹرنیٹ تک رسائی کی سہولت موجود ہو۔

بھارت میں ٹیلی کام اتھارٹی کی انتظامیہ ٹی آر اے آئی کی جانب سے 117 صفحات پر مشتمل ایک تحقیقی رپورٹ میں انٹرنیٹ پر دی جانے والی سرِ فہرست سروسز کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ ان سروسز میں سکائپ، وٹس ایپ بھی شامل ہیں۔

Image caption ٹیلی کام انتظامیہ کو آٹھ لاکھ سے زائد ایسی ای میلز موصول ہوئیں جن میں صاف اور شفاف بنیادوں پر انٹرنیٹ سروس کا مطالبہ کیا گیا

شدید ردِعمل

صارفین ڈیٹا چارجز تو دیتے ہیں مگر شاید وہ منتظمین کی آمدنی بھی کھا جاتے ہیں۔ مثلاً آپریٹر کو ادائیگی کے بغیر وہ میلوں دور بیٹھ کر سکائپ پر مفت کال کرتے ہیں۔

اس حوالے سے کی جانے والی تحقیقی رپورٹ میں ایئر ٹیل کی جانب سے گذشتہ سال دسمبر میں انٹرنیٹ پر کی جانے والی فون کال پر لگائے جانے والے اضافی چارج پر بھی بات کی گئی ہے مگر صارفین کی جانب سے شدید ردِ عمل سامنے آنے پر ایئر ٹیل نے اپنے اس منصوبے کو ختم کر دیا۔

سماجی کارکوں کی توجہ ’ایئر ٹیل زیرو‘ پر مرکوز ہے جو صارفین کو موبائل ایپلی کیشنز تک مفت رسائی دیتا ہے۔ اس میں انٹرنیٹ ڈیٹا کے چارجز ان ایپلی کیشنز کی مالک کمپنیاں ادا کرتی ہیں۔

اس عمل کو زیرو ریٹنگ بھی کہا جاتا ہے اور منتظمین اسے ’ٹول فری ڈیٹا‘ کہتے ہیں۔

بھارت میں آن لائن پر سب سے بڑے پرچون فروش فلپ کارٹ نے ایئر ٹیل کے ساتھ اپنا معاہدہ ختم کر دیا تھا جس کا مقصد یہ تھا کہ صارفین ان کی ویب سائٹ پر مفت رسائی حاصل کر سکیں۔

سوشل میڈیا پر شدید ردِ عمل سامنے آنے کے بعد فلِپ کارٹ نے انٹرنیٹ ڈیٹا کی قیمتوں میں اضافے کی منصوبہ بندی کی۔

مگر پرچون فروش اور فون نیٹ ورک کمپنیاں کہتی ہیں کہ وہ انٹرنیٹ کی سروسز کے لیے غیر جانبداری کی حامی ہیں۔

اسی عرصے میں امریکہ میں فیڈرل کمیونیکیشنز کمیشن، ایف سی سی نے اپنے قواعد شائع کیے ہیں جنھیں رواں سال جون میں لاگو کرنا ہے۔ اس میں ادارے کو بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں گوگل اور ایمزون کی حمایت حاصل ہے۔

اگرچہ بھارت میں یہی کمپنیاں اس موضوع پر خاموش دکھائی دیتی ہیں۔

گوگل’ زیرو ریٹڈ‘ ڈیل میں ٹیلی کام آپریٹرز کا حصہ رہا ہے اور بقول سماجی کارکن انٹرنیٹ کی غیر جانبداری کی خلاف ورزی ہے۔

بھارت میں ایمازون کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ آن لائن پرچون فروش ’بغیر کسی تخصیص کے آزاد انٹرنیٹ‘ فراہم کرنے کے حامی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس کا مقصد آسان نرخوں پر سب کو انٹرنیٹ تک رسائی دلوانا ہے۔

ایمازون کے ترجمان نے مزید کہا کہ انٹرنیٹ پر اپنی مرضی کے مواد تک رسائی کے لیے صارف کے راستے میں امتیازی قیمت کی صورت میں کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جہاں بلاتخصیص یعنی یکساں طور پر انٹرنیٹ کی رسائی کی بات ہوتی ہے وہیں انٹرنیٹ کی آزادی پر بھی فکر کا اظہار دکھائی دے رہا ہے

بڑھتے ہوئے قواعد

فری مارکیٹ کے حامی اور سرمایہ کار اس میں اور ممکنہ طور پر بڑھتے ہوئے قوانین پر خامیاں بھی نکال رہے ہیں۔

دہلی میں موجود ایک سرمایہ کار الوک متل بھی ناقدین میں ہی شامل ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ وہ زیروریٹنگ کو پسند کرتے ہیں اور فری مارکیٹ کے حامی ہیں اور وہ قیمتوں کے حوالے سے اصول اور پابندیوں سمیت حد سے بڑھتی ہوئی حکومتی مداخلت کے حق میں نہیں۔

تاہم وہ چند سروسز کو سست کرنے کے حق میں بھی نہیں ہیں۔

بھارت میں روزگار کی تلاش کے لیے مشہور ویب سائٹ نوکری ڈاٹ کام کے موجد سنجیو چندانی کہتے ہیں غیر جانبداری کے حامی ہیں لیکن وہ انٹرنیٹ کی آزادی کے لیے اس سے زیادہ فکرمند ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ بھارت میں ٹیلی کام اتھارٹی کی انتظامیہ ٹی آر اے آئی کی جانب سے او ٹی ٹی ایپس کو لائسنس دیا جانا خطرناک ہے۔

’بھارت کو بڑی ایپس تک رسائی اور اس کی سہولیات کے لائسنس دیے جانے سے انکار نہیں ہونا چاہیے۔‘

ادھر سماجی کارکنان ٹی آر اے آئی پر الزام لگا رہے ہیں کہ ان کی تحقیقاتی رپورٹ میں وہ ٹیلی کام انڈسٹری کے لیے نرم گوشہ رکھتا ہے۔

بھارت کی حکمراں جماعت بی جے پی نے غیر جانبداری کے موضوع پر ہی ایک کمیٹی بنا لی ہے جو اگلے ماہ اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔

ادھر امریکہ میں ایف سی سی قوانین کے لاگو ہونے کے بعد بحث نیٹ نیوٹریلیٹی سے آگے بڑھ گئی ہے۔ وہاں اے ٹی اینڈ ٹی نامی ٹیلی کام کمپنی کی جانب سے فیڈرل کمیونیکیشن، ایف سی سی کے خلاف مقدمہ بھی شروع کر دیا گیا ہے۔

ممکنہ طور پر بھارت میں بھی اس معاملے کا یہی نتیجہ نکلے گا۔ وہاں انتظامیہ معاشی طور پر مہنگی نیلامی کا سامنا کر رہی ہے اور اوسط صارف کے حساب سے انھیں کم آمدنی ہوتی ہے۔

اسی بارے میں