’تمباکو نوشی کی حوصلہ افزائی کے لیے علما کو بھرتی کیا گیا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ مسلمان ممالک میں تمباکو نوشی پر پابندی کا مقابلہ کرنے کے لیے تمباکو بنانے والی کمپنیوں نے علما کو بھرتی کیا تاکہ وہ اس حوالے سے اسلامی تعلیمات کی تعبیر نو کر سکیں۔

برطانوی اخبار گارڈیئن میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 1970 اور 1990 کی دہائی کے درمیان اس صنعت سے حاصل کی گئی دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ تمباکو بنانے والی کمپنیوں کے اسلامی تعلیمات کے بارے میں شدید خدشات تھے۔

1996 میں برٹش امریکن ٹوبیکو کمپنی کی ایک دستاویز میں تنبیہ کی گئی تھی کہ افغانستان جیسے ممالک میں قدامت پسندوں کی جانب سے پھیلائے جانے والے شدت پسند خیالات کی وجہ سے اس صنعت کو ’طوفان کے خلاف لڑنے کے لیے تیار‘ ہونا پڑے گا۔

خوشحال مسلمان ممالک میں جہاں تمباکو نوشی کے خلاف تدابیر متعارف کروائی گئی تھیں، وہاں برٹش امریکن ٹوبیکو اور دیگر کمپنیوں کے کاروبار میں کمی آئی جس کے نتیجے میں ایسی حکمت عملی بنائی گئی تھی جس کے ذریعے ان کے کاروبار کو لاحق خطرنے سے نمٹا جا سکے۔ ان ممالک میں مصر، انڈونیشیا اور بنگلہ دیش جیسے ممالک شامل تھے جہاں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد تمباکو نوشی کرتی ہے۔

اس صنعت کو خطرہ تھا کہ عالمی ادارۂ صحت اسلامی رہنماؤں کے تمباکو نوشی مخلاف نقطۂ نظر کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے۔ تمباکو بنانے والی کمپنی فلپ مورس کی 1985 کی ایک رپورٹ میں عالمی ادارۂ صحت پر الزام لگایا گیا تھا کہ ’ایسے نظریات عالمی ادارہ صحت کی مداخلت سے ہمارے کاروبار کے لیے ایک خطرہ بن گئے ہیں۔۔۔ عالمی ادارہ صحت ناصرف ایسے مسلمان قدامت پسندوں کے ساتھ جا ملا ہے جو تمباکو نوشی کو برائی کہتے ہیں، بلکہ تمباکو نوشی کی مخالفت کرنے کے لیے ایسے مذہبی رہنماؤں کی حوصلہ افزائی بھی کر رہا ہے جو پہلے اس کے خلاف نہیں بول رہے تھے۔‘

ایک دستاویز میں لکھا ہے کہ ’ایک مسلمان جو تمباکو نوشی کے خلاف بولتا ہے حکومت کے لیے خطرہ ہے کیوں کہ وہ ایک ایسا ’بنیاد پرست‘ ہے جو شرعی قانون کی جانب لوٹنا چاہتا ہے۔‘

فلپ مورس کی دستاویز میں مزید کہا گیا ہے کہ ’اسلام کے بارے میں ہم یہ سوال اٹھا سکتے ہیں کہ جدید دنیا کی اور کون سے چیزیں ہیں جن پر شریعت کے تحت انتہا پسند پابندی کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔ جیسے فلمیں، ٹی وی یا انسانوں کی تصاویر۔اذان کے لیے موذن کی جانب سے الیکٹرک آلات کا استعمال؟ خواتین کی تعلیم؟‘

عالمی ادارہ صحت نے 1999 میں تمباکو پر کنٹرول کی غرض سے فریم ورک کنونشن پر بات چیت شروع کی جس کی وجہ ادارے کے مطابق ’تمباکو کے استعمال میں شدید اضافہ‘ تھا۔ سنہ 2003 میں اس کنونشن نے ایسی حکمت عملی ترتیب دی جس کا مقصد تمباکو کے استعمال کو کم کرنا تھا۔

برٹش امریکن ٹوبیکو نے 2000 میں بین الاقوامی سطح کے پہلے مذاکرات کے بعد اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ ’ایسا معلوم ہوتا ہے کہ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے مذہب (خصوصی طور پر اسلام) کو تمباکو نوشی کے مسائل کے ساتھ جوڑنے کی حکمت عملی کامیاب ہو رہی ہے۔‘

اس کے بعد تمباکو کی صنعت نے تمباکو نوشی کے خلاف اسلامی تعلیمات کی تعبیر نو کرنے کی کوشش شروع کر دی۔ سنہ 1996 میں برٹش امریکن ٹوبیکو کی ایک یادداشت میں یہ تجویز پیش کی گئی تھی کہ ’قاہرہ میں واقع جامعہ الازہر میں ایسے عالموں کی نشاندہی کی جائے جنھیں ہم مشیر بنا سکیں اور ضرورت پڑنے پر وہ اس مسئلے پر ہماری ترجمانی بھی کر سکیں۔

’ہم اس بات پر متفق ہیں کہ ان عالموں کو بااثر مسلمان مصنفوں یا صحافیوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔۔۔ اور اس سے شدت پسند رجحان کا موثر طریقے سے مقابلہ کیا جا سکے گا جس کو بنیاد پرست مبلغ قرآن کی غلط تعبیر کر کے پھیلا رہے ہیں۔ اس معاملے سے بہت ہی حساس طریقے سے نمٹنا ہوگا ۔۔ اور ہمیں ہر قسم کے ممکنہ ردعمل سے بچنا ہو گا۔‘

برٹش امریکن ٹوبیکو نے گاڑڈیئن کو بتایا ہے کہ ’یہ رپورٹ جو 20 سال پہلے لکھی گئی تھی ، برٹش امریکن ٹوبیکو کی رائے، پالیسی اور پوزیشن کی ترجمانی نہیں کرتی۔ ہم اشیا کی تیاری اور مارکیٹنگ مقامی اور بین الاقوامی قانون کے مطابق کرتے ہیں اور جن 200 ممالک میں ہم کام کر رہے ہیں وہاں کی ثقافت اور مذہب کا خیال رکھا جاتا ہے۔‘

تمباکو بنانے والی کمپنی فلپ مورس سے گارڈیئن نے ان دستاویزات کے بارے میں ردعمل جاننے کی کوشش کی لیکن اس درخواست کا جواب نہیں دیا گیا۔

اسی بارے میں