سولر امپلس چین کے شہر نانجینگ پہنچ گیا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سوئٹزرلینڈ سے تعلق رکھنے والی ماہرین موسمیات کی ٹیم اب جہاز کی اڑان کے لیے موزوں موسم کی تلاش کرے گی

بغیر ایندھن کے شمشی قوت سے چلنے والا طیارہ سولر امپلس چین کے شہر نانجینگ پہنچ گیا ہے۔

یہ طیارہ چین کے مغربی شہر چونگ چنگ سے 1200 کلومیٹر کا سفر طے کر کے مقامی وقت کے مطابق ساڑھے گیارہ بجے مشرقی شہر نانجینگ پہنچا تھا۔

اس پراجیکٹ کا مقصد اس طیارے کے ذریعے پوری دنیا کا چکر لگانا ہے جبکہ اس جہاز کا اگلا چیلینج بحر الکاہل کو پار کرنا ہوگا۔

اب اگلے دس روز تک اس طیارے کی سروس کی جائے گی اور سوئٹزرلینڈ سے تعلق رکھنے والے ماہرین موسمیات کی ٹیم اب طیارے کی پرواز کے لیے موزوں موسم کی نشاندہی کرے گی۔

یہ فلائٹ دو حصوں میں مکمل ہوگی۔ پہلے یہ طیارہ ہوائی پہنچے گا جو کہ نانجینگ سے آٹھ ہزار کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ اس طیارے کی رفتار کم ہونے کی وجہ سے اسے بہت سی راتیں اور دن فضا میں ہی گزارنے پڑیں گے۔

گزشتہ سال کی گئی سیمولیشن سے یہ معلوم ہوا تھا کہ عموماً اس طیارے کے لیے موزوں موسم کی نشاندہی کرنا اتنا مشکل نہیں ہوتا۔ تاہم اس مرتبہ ایسا لگ رہا ہے کہ اسے نانجینگ میں کچھ زیادہ عرصہ رکنا پڑے گا۔

مشن کے ڈائریکٹر ریمونڈ کلرک کا کہنا ہے کہ ’مجھے لگتا ہے کہ ہمیں اس کام میں دس دن لگ سکتے ہیں۔ ہمیں بہتر موسم کا انتظار کرنا ہوگا اور اس میں ہمیں تین دن بھی لگ سکتے ہیں اور تین ہفتے بھی۔ اور ہوائی پہنچتے پہنچتے ہمیں پانچ دن اور پانچ راتیں بھی لگ سکتی ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس نئے شمسی جہاز کے پروں کی لمبائی 72 میٹر ہے جو جمبو جیٹ کے پروں سے بھی بڑے ہیں

برنارڈ پیکارڈ اپنے کاروباری پارٹنر آندرے بورشبرگ کے ہمراہ اس طیارے کو اڑانے کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ اور ہوائی تک فلائٹ کا کنٹرول بھی بورشبرگ کے ہی ہاتھ میں ہوگا۔

سولر امپلس نے نو مارچ کو ابو ذہبی سے پرواز کرنے کے بعد اب تک سات ہزار کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا ہے۔

اس نئے شمسی طیارے کے پروں کی لمبائی 72 میٹر ہے جو جمبو جیٹ کے پروں سے بھی بڑے ہیں، لیکن اس جہاز کا وزن صرف 2.3 ٹن ہے۔ اس کا کم وزن مشن کی کامیابی کے لحاظ سے اہم ہوگا۔

شمسی توانائی حاصل کرنے کے لیے اس کے پروں پر 17 ہزار سولر سیلز نصب ہیں اور توانائی کو جمع کرنے کے لیے لیتھیئم کی بیٹریاں بھی نصب ہیں جن کی مدد سے جہاز رات کو بھی پرواز کر سکتا ہے۔

بحرالکاہل اور بحر اوقیانوس کو عبور کرنے کے لیے رات کے وقت پرواز انتہائی اہم ہوگی کیونکہ اس کی اوسط رفتار 72 کلو میٹر فی گھنٹہ ہے۔

طیارے میں پائلٹ کے کاک پٹ کا سائز بھی بہت کم ہے۔ صرف 3.8 مکعب میٹر کاک پٹ کی وجہ سے پائلٹ کو مشکلات کا سامنا بھی ہوگا۔

پرواز کے دوران پائلٹ کو وقفوں سے صرف 20 منٹ سونے کی اجازت ہو گی۔

اسی بارے میں