گوگل نے ’پروجیکٹ فائی‘ کی تفصیلات جاری کر دیں

تصویر کے کاپی رائٹ Google

گوگل نے امریکہ میں موبائل فون کا نیٹ ورک چلانے کے منصوبے کی تفصیلا ت کا اعلان کر دیا ہے۔

گوگل، آواز اور ڈیٹا کی صلاحیت فراہم کرنے کے لیے موبائل فون کے دو موجودہ آپریٹروں ’سپرنٹ‘ اور ’ٹی موبائل‘ سے سہولیات کرائے پر لے گا اور از سرِ نو نیا ڈھانچہ تیار کرنے کی بجائے وائی فائی کے موجودہ ہاٹ سپاٹس کو استعمال کرے گا۔

اس نئے منصوبے کا نام ’پروجیکٹ فائی‘ رکھا گیا ہے جس کی پیشکش ابتدائی طور پر امریکہ میں گوگل کا فون نیکسس سِکس استعمال کرنے والوں کو کی جائے گی۔

گوگل فائبر جو اس فرم کی ’انتہائی تیز‘ براڈ بینڈ سروس ہے اس نے پہلی ہی امریکہ میں ٹیلی کام کی مارکیٹوں میں ہلچل مچا رکھی ہے۔

کہا جاتا ہے کہ اس سروس کی وجہ سے امریکی کمپنیوں ’کوم کاسٹ‘ اور ’ٹائم وارنر کیبل‘ کو اپنے صارفوں کو بغیر قیمت بڑھائے بہتر رفتار والی براڈ بینڈ سروس کی پیشکش کرنا پڑی۔

تاہم فائبر بچھانے کے لیے گوگل کو بنیادی ڈھانچے ان کمپنیوں سے خریدنے پڑے جن کا کام ٹھپ ہو چکا ہے۔

گوگل نے اپنی سروس کا مکمل کنٹرول حاصل کرنے کے لیے خود بھی فائبر آپٹک کیبل بچھائے ہیں۔

ایک ماہر کا کہنا ہے کہ ایسا موبائل نیٹ ورک چلانے کے لیے جس کا ساز وسامان حریف کمپنیوں کا ہو، پروجیکٹ فائی کے موثر ہونے کو محدود کر سکتا ہے۔

گوگل کے اینڈروئڈ پلیٹ فارم کے سربراہ سنڈر پچائی نے پہلی بار کمپنی کے اس منصوبے کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ فروری میں فون نیٹ ورک کا آغاز کریں گے لیکن اس وقت منصوبے کی تفصیلات نہیں بتائی گئی تھیں۔

لیکن اب کمپنی نے انکشاف کر دیا ہے کہ ’سپرنٹ‘ اور ’ٹی موبائل‘ میں سے جس کا بھی فور جی سگنل مضبوط ہوگا گوگل کے سبسکرائبرز اس پر خود بخود منتقل ہوجائیں گے اور وہ کوئی خاص ایپ استعمال کیے بغیر وائی فائی پر فون کال بھی کر سکیں گے۔

یہ سہولت برطانیہ میں ای ای کمپنی کی حال ہی میں متعارف کردہ وائی فائی کالنگ سہولت جیسی ہوگی۔

گوگل نے اپنے بلاگ میں کہا ہے کہ ’دن میں آپ جو بھی کریں گے اور جہاں بھی ہوں گے، پروجیکٹ فائی خود بخود آپ کو ایک ملین سے زیادہ مفت وائی فائی ہاٹ سپاٹس سے متصل کر دے گا جن کے تیز اور قابلِ بھروسہ ہونے کی ہم خود تصدیق کریں گے۔ایک مرتبہ جب آپ ان سپاٹس سے جڑ جائیں گے تو ہم انکرپشن کے ذریعے ڈیٹا حاصل کرنے میں مدد کریں گے۔ جب آپ وائی فائی پر نہیں ہوں گے تو ہم آپ کو اس پارٹنر کے نیٹ ورک سے جوڑ دیں گے جس کی رفتار تیزترین ہوگی تاکہ آپ زیادہ مقامات پر فور جی ایل ٹی ای حاصل کر سکیں۔‘

جہاں ایسی سہولت نہیں مل سکے گی، گوگل کے صارفین تھری جی اور ٹو جی کے سگنل بھی استعمال کر پائیں گے۔

گوگل نے یہ اعلان بھی کیا ہے کہ اس کے صارفوں کے لیے ماہوار کوئی الاؤنس مقرر نہیں کیا جائے گا بلکہ انھیں صرف اسی ڈیٹا کی قیمت دینی پڑے گی جسے وہ استعمال کریں گے۔

صارفوں کو ہر ماہ بیس ڈالر ادا کرنے ہوں گے جس سے وہ لا تعداد کال اور ٹیکسٹ کر سکیں گے۔

امریکہ میں اور باہر موبائل ڈیٹا لینے کے لیے صارفوں کو مزید دس ڈالر ادا کرنے ہوں گے اور اس کے بعد ہرگیگابائٹ ڈیٹا کے استعمال پر انھیں دس مزید ڈالر دینے ہوں گے۔

یہ سروس نیکسس سِکس کے صارفوں کو حاصل ہو گی لیکن انھیں اپنے فون کے لیے نئی سم کی ضرورت ہوگی۔

گوگل کے مطابق فون کے اندر سگنل موصول کرنے والا ریڈیو سوچ سمجھ کر ایسے بنایا گیا ہے کہ وہ امریکہ اور اس سے بھی آگے فور جی کی نیٹ ورکس کی وسیع رینج پر کام کرے اور مختلف سروس فراہم کرنے والوں کے نیٹ ورک پر منتقل ہو سکے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ ’پروجیکٹ فائی کا صرف استعمال شدہ ڈیٹا پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے قیمت لینا ان صارفوں کے لیے سود مند ہوگا جو کم ڈیٹا استعمال کرتے ہیں نہ کہ ان کے لیے جن کے پاس عام طور پر نیکسس فون ہیں اور جو زیادہ ڈیٹا استعمال کرنے کے شوقین ہیں۔ اگر اس پروجیکٹ کو اپنا اثر قائم کرنا ہے تو گوگل کو مختلف سمارٹ فونز کے لیے اپنی پیشکش کا دائرہ وسیع کرنا ہوگا۔‘

اسی بارے میں