موٹاپے اور ورزش میں ’کوئی خاص تعلق نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption ’وقت آ گیا ہے ہم ورزش سے متعلق پائی جانے والی افسانوی باتوں کا بھانڈا پھوڑ دیں‘

تین معروف بین الاقوامی ماہرین کا کہنا ہے کہ موٹاپا کم کرنے میں جسمانی ورزش کا کردار بہت کم ہے، اس لیے صحت عامہ کے پیغامات کا مرکزی نکتہ غیر صحت مندانہ خوراک کو کم کرنا ہونا چاہیے۔

کھیل اور صحت سے متعلق برطانوی جریدے ’برٹش جرنل آف سپورٹس میڈیسن‘ میں شائع ہونے والی نئی تحقیق میں ماہرین کا کہنا ہے کہ ’اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ورزش سے متعلق پائی جانے والی ’افسانوی باتوں کا بھانڈا پھوڑ دیں۔‘

ماہرین کہتے ہیں کہ اگرچہ ذیابیطس، امراضِ قلب اور یادداشت خراب ہو جانے جیسی بیماریوں کو دور رکھنے میں ورزش کا کردار بہت اہم ہے، تاہم موٹاپے پر ورزش کے اثرات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اس کے برعکس موٹاپے کا تعلق چینی اور نشاستہ دار غذاؤں سے زیادہ ہے۔

بین الاقوامی ماہرین کی اس ٹیم کے ایک رکن اور لندن کے ماہر امراض قلب ڈاکٹر اسیم ملہوترا کا الزام ہے کہ خوراک اور کھانوں کی صنعت لوگوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہے کہ وہ ورزش کے ذریعے غیر صحت مندانہ کھانوں کے مضر اثرات ختم کر سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق کھانوں کی صنعت کے ہتھکنڈوں اور تمباکو اور سگریٹ کی صنعت کے ہتھکنڈوں میں ’بڑی خطرناک‘ مماثلت پائی جاتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مشہور کھلاڑیوں کی جانب سے میٹھے مشروبات اور دیگر مضر صحت کھانوں کے تشہیر بند ہونی چاہیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Press Association
Image caption ’یہ بات بالکل غلط ہے کہ آپ ورزش کے ذریعے بری خوراک کے نقصانات سے چھٹکارا نہیں پا سکتے‘

ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ نارمل وزن کے حامل لوگوں میں سے بھی 40 فیصد کو ان علامات یا بیماریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن کے بارے میں عموماّ یہ کہا جاتا ہے کہ یہ صرف ان لوگوں کو ہوتی ہیں جو فربہ ہوتے ہیں۔

لیکن اس کے باوجود صحت عامہ کے پیغامات میں یہ ’غلط‘ پیغام دیا جا رہا ہے کہ آپ اگر اپنے جسم میں کیلوریز کا خیال رکھ رہے ہیں تو آپ کا وزن ٹھیک رہے گا، حالانکہ اہم بات یہ ہے کہ ہم اس خواراک کے بارے میں بتائیں جہاں سے یہ کیلوریز آ رہی ہیں۔ مثلاً تحقیق بتاتی ہے کہ اگر چربی اور چینی کی کیلوریز کا موازنہ کیا جائے تو چینی کی ہر 150 اضافی کیلوریز سے آپ کو شوگر کا مرض لاحق ہونے کے امکانات چربی کی نسبت 11 گنا زیادہ ہوتے ہیں۔

ماہرین نے اپنے مضمون میں ایک دوسری تحقیق (لینک) کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ غیر صحت مند کھانوں اور خراب صحت کے درمیان تعلق اس تعلق سے زیادہ گہرا ہے جو بری صحت اور جسمانی ورزش، شراب نوشی یا تمباکو نوشی کے درمیان پایا جاتا ہے۔

غیر سائنسی باتیں

ڈاکٹر ملہوترا کا کہنا ہے کہ ’فربہ اندام لوگوں کو وزن کم کرنے کے لیے رتّی برابر ورزش کی ضرورت نہیں، بلکہ انھیں چاہیے کہ وہ کھانا کم کریں۔ مجھے سب سے زیادہ فکر یہ ہے کہ لوگوں کو جو پیغام دیا جا رہا ہے وہ یہ ہے کہ اگر آپ ورزش کرتے ہیں تو آپ جو چاہیں کھا سکتے ہیں۔

’یہ بات بالکل غیر سائنسی ہے اور غلط ہے۔ آپ ورزش کے ذریعے بری خوراک کے نقصانات سے چھٹکارا نہیں پا سکتے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ SPL
Image caption پروفیسر مارک بیکر کہتے ہیں کہ جسمانی ورزش کی اہمیت سے انکار ’احمقانہ‘ بات ہے

لیکن کئی ماہرین ڈاکٹر ملہوترا اور ان کے ٹیم سے اتفاق نہیں کرتے اور ان کا کہنا ہے کہ ورزش کے کردار کو کم تر بتانا خطرناک ہو سکتا ہے۔

نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ سے منسلک پروفیسر مارک بیکر کہتے ہیں کہ جسمانی ورزش کی اہمیت سے انکار ’احمقانہ‘ بات ہے۔

برطانیہ میں فوڈ اینڈ ڈرنکس ایسوسی ایشن کی ترجمان کہتی ہیں کہ ’اس تحقیق میں کہا جا رہا ہے کہ ہماری صنعت ورزش کے خلاف کوئی سازش کر رہی ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ ہمارے خیال میں صحت مند زندگی کے لیے متوازن خوراک اور ورزش دونوں ضروری ہیں۔‘

ترجمان کے مطابق ’برٹش جرنل آف سپورٹس میڈیسن میں شائع ہونے والے مضمون سے لگتا ہے کہ سرکاری اداروں کی صحت عامہ کی ان کوششوں کی نفی کی جا رہی ہے جن کی بنیاد سائنسی تحقیق پر ہے اور مجھے یقین ہے کہ اس سے صارفین میں ورزش کے حوالے سے شکوک جنم لے سکتے ہیں۔‘

اسی بارے میں