’کی بورڈ جہادی بہت‘

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock
Image caption پاکستان میں گفتگو اور بحث مباحثے کی سمٹتی جگہ کا اگلا شکار اب سوشل میڈیا ہے

ایک دور تھا جب پاکستان میں ٹوئٹر کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے تھے اور اس پر تبصرے کرنے والوں کو لوگ ’فارغ اور بے کار‘ سمجھا کرتے تھے۔

یہ سب کچھ زیادہ دور کی بات نہیں صرف دو سال قبل ہی کی بات ہے اور پھر یہ دن بھی ہے کہ پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ ٹویٹ کرتے ہیں اور ہیڈلائنز لگتی ہیں۔

تو کیا اس سے ٹوئٹر یا فیس بُک کے معتبر ہونے پر کوئی فرق پڑا؟

اگر ہم آج کے پاکستانی سوشل میڈیا کو دیکھیں تو کراچی کی آبادی کے برابر کا ایک شہر فیس بُک پر بستا ہے اور مریدکے کے سائز کی ٹوئٹر بستی بھی موجود ہے۔

مگر کراچی کے بڑے شہر بننے کے ساتھ ساتھ جیسے جیسے لاقانونیت، جرائم، بھتہ خوری، اغوا جیسے جرائم میں تیزی آئی وہیں اسی عرصے میں سوشل میڈیا پر بھی جرائم بڑھنے کی تعداد میں سو فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا۔

اب ٹوئٹر پر ریپ، گینگ ریپ، قتل، توہینِ آرمی، توہینِ آئی ایس آئی، توہینِ مذہب جیسے جرائم پر کھڑے کھڑے سزائیں سنائی جاتی ہیں اور بقول ایک صحافی کے ’اللہ بھلا کرے خدائی خدمتگاروں کا ان پر عملدرآمد بھی ہو ہی جاتا ہے‘۔

کیا پاکستانی ٹوئٹر اور اس پر کیے گئے تبصرے محفوظ ہیں؟

ایک زمانہ تھا جب آپ کے جو جی میں آیا آپ نے کہا نہ کسی بھائی نے اسے پڑھا اور نہ ’لونڈے لپاڑے‘ اسے اتنی اہمیت دیتے تھے۔

تاہم اب وہ دن گئے جب آپ کی کہی ہوئی بات پر کوئی ردِ عمل نہیں ہوگا سکرین شاٹ کی ایجاد میں لوگ تبصرہ یا ری ٹویٹ بعد میں اور سکرین شاٹ پہلے لیتے ہیں اور پھر اس کے بعد جتنے مفتی اتنے فتوے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption اس ٹویٹ میں دیے گئے ناموں اور مزید تفصیلات کو تحفظ کے پیشِ نظر ایڈیٹ کیا گیا ہے

نہ ماں بہن کی تمیز نہ الفاظ کے چناؤ میں کوئی سمجھداری اور نازیبا الفاظ میں یدِ طولیٰ رکھنے والے تو آپ کو ’آپ کو، آپ کے خاندان کو، آپ کے آباؤ اجداد سب کے گینگ ریپ اور قتل کی دھمکیاں بھجواتے‘ ہیں۔

بات یہیں رکتی تو شاید کہا جا سکتا تھا کہ چلو زبانی کلامی ہے کیا ہوتا ہے مگر گوجرانوالا میں ایک توہین آمیز پوسٹ پر ’لعنت‘ ڈال کر ’ثواب کمانے‘ کے نتیجے میں ایک ہی گھرانے کی دو معصوم بچیاں اور اُن کی نانی اپنی جان سے گئیں اور نوجوان اب تک جیل میں ہے اور پیشیاں بھگت رہا ہے۔

یہ تصور کہ آپ نے ری ٹویٹ کی اور اس سے آپ کا کوئی واسطہ نہیں محض خام خیالی ہے کیونکہ جب آپ ری ٹویٹ کرتے ہیں تو آپ اس نظریے سے خاموشی سے اتفاق کر رہے ہوتے ہیں اگر آپ واضح طور پر اس پر اپنا تبصرہ نہیں کرتے جس سے ظاہر ہو کہ آپ مختلف اور مخالف آرا کو ٹویٹ کر رہے ہیں۔

سوشل میڈیا کے پنڈت اور مختلف ممالک میں اس حوالے سے مقدمات پر فیصلوں کے نتیجے میں یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ بے شک وہ ری ٹویٹ ہو، کمنٹ ہو، پوسٹ ہو آپ کی ٹائم لائن سے منسلک ہر چیز کی ذمہ داری کسی نہ کسی لحاظ سے آپ پر عائد ہوتی ہے جس پر آپ جوابدہ ہیں۔

یہ ذمہ داری سب سے پہلے تو اخلاقی ہے کیونکہ آپ اپنے فالوورز کے ذمہ دار ہیں اور قانونی تو ہے ہی۔ یہ لکھ دینا کہ ’ری ٹویٹ سے متفق ہونا ضروری نہیں‘ یا ’میری رائے ہے میرے ادارے کی رائے نہیں‘ نہ ہی کافی ہے اور شاید ہی آپ کی گردن بچانے میں مددگار ثابت ہو۔

اس لیے احتیاط لازم ہے ورنہ رائی کا پہاڑ اور بات کا پتنگڑ بنانے کو ’کی بورڈ جہادی بہت‘۔

اسی بارے میں