پاپ میوزک، 50 سالوں میں تین انقلاب

تصویر کے کاپی رائٹ hulton archive
Image caption سنہ 1964 میں بیٹلز سے رولنگ سٹونز تک برطانوی بینڈز آئے اور نیا اور نسبتاً تیز میوزک متعارف کرایا

لندن میں سائنسدانوں نے مغربی پاپ موسیقی کا سنہ 1960 سے سنہ 2010 تک کا جائزہ لیا ہے اور اس میں ہونے والی تبدیلیوں پر نظر ڈالی ہے۔

لندن کی کوئین میری یونیورسٹی اور امپیریل کالج کی ایک ٹیم نے امریکی بلبورڈ ہاٹ کی لسٹ میں سے 17000 سے زیادہ گانوں کا تجزیا کیا ہے۔

انھیں اس دوران موسیقی میں تین انقلاب ملے جو سنہ 1964، 1983 اور 1991 میں آئے تھے اور ساتھ ہی انھوں نے ڈسکو موسیقی کے جنم لینے اور بلیو کورڈز کے فہرست سے غائب ہونے کی تلاش بھی کی۔

یہ تحقیق رائل سوسائٹی اوپن سائنس جرنل میں شائع ہوئی ہے۔

اس ٹیم نے ان دعووں کو بھی رد کیا ہے کہ پاپ موسیقی میں کوئی تبدیلی نہیں ہو رہی ہے۔

کوئین میری یونیورسٹی کے ڈاکٹر میتھیس ماچ کا کہنا ہے کہ’ جو سب سے دلچسپ ہے وہ یہ کہ کیسے الگ الگ موسیقی میں تبدیلی آئی ہے۔ ہم اندازہ لگا سکتے ہیں چاہے چارٹ مزید من پسند ہو جائیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ بہت سے لوگوں کا یہ دعوی ہے کہ موسیقی خراب ہوتی جا رہی ہے لیکن ہمیں ایسا کچھ نہیں ملا۔ ایسا ہمیشہ نہیں ہوا کہ میوزیکل چارٹ میں موجود موسیقی الگ الگ نہ ہو۔‘

محققیں نے موسیقی کی مختلف اقسام کا، جن میں ہارمنی، کارڈز اور ٹمبریس شامل ہیں جائزہ لیا اور دیکھا کہ وقت کے ساتھ موسیقی میں تبدیلی آئی ہے۔

سنہ 1964 میں بیٹلز سے رولنگ سٹونز تک برطانوی بینڈز آئے اور نیا اور نسبتاً تیز میوزک متعارف کرایا۔

تحقیق کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ان تین انقلابوں میں سے یہ پہلا انقلاب تھا۔ یہ میوزک چارٹس پر تیزی سے تبدیلی کا دور تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ hulton archive
Image caption ہپ ہاپ اور ریپ کی شکل میں تیسرا انقلاب سنہ 1991 میں آیا

اس کے بعد دوسرا انقلاب سنہ 1983 میں نئی ٹیکنالوجی، تراکیب اور ڈرم مشین کی صورت میں آیا۔

ہپ ہاپ اور ریپ کی شکل میں تیسرا انقلاب سنہ 1991 میں آیا۔ جو ڈاکٹر ماچ کے مطابق سب سے بڑا انقلاب تھا۔

’ یہ صحیح میں انقلاب تھا، اچانک سے یہ ممکن ہو گیا کہ آپ کے پاس پاپ گانا تھا اور وہ بھی ہارمنی کے بغیر۔‘

محققیں کا کہنا ہے کہ موسیقی میں آنے والی چند تبدیلیاں میوزک چارٹ پر بہت آہستہ سے جگہ بنا سکیں لیکن ابھی تک ان کا اثر بہت بڑا ہے۔

ماچ کا کہنا ہے کہ ’سنہ 1970 میں مائنر سیونتھ کاردز کو فنک، سول اور ڈسکو کے ذریعے متعارف کرایا گیا تھا۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’اس سے کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی، لیکن یہ کارڈز اس سے پہلے موجود نہیں تھے اور یہ ابھی تک نئے گانوں میں استعمال ہو رہے ہیں۔‘

تحقیق کرنے والوں نے دیکھا کہ 50 سال کے عرصے میں موسیقی بنتی اور تبدیل ہوتی رہی ہے۔

ڈاکٹر ماچ کا کہنا ہے کہ ’بان جووی اور بروس سپرنگسٹین چارٹ پر آئے اور ان کا چارٹ پر بڑا حصہ رہا ہے لیکن پھر ہپ ہاپ اور ریپ آیا۔ میرے خیال میں انھوں نے چارٹ کو بچایا۔‘

اسی بارے میں