’بیماریوں کے نام رکھنے میں احتیاط برتی جائے‘

تصویر کے کاپی رائٹ SPL
Image caption ڈبلیو ایچ او کی جانب سے جاری کی گئی ہدایات کے مطابق نئی انسانی بیماریوں کے نام سادہ اور چھوٹے رکھے جائیں

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کا کہنا ہے کہ بیماریوں کے نام ایسے رکھیں جائیں جو سماجی طور پر قابلِ قبول ہوں اور ایسے نام رکھنے سے گریز کیا جائے جن سے کسی ملک، کسی فرد کی توہین ہو اور نہ ہی ناموں میں جانوروں کا ذکر ہو۔

ادارے نے بیماریوں کے نام منتخب کرنے کے حوالے سے سائنسدانوں اور میڈیا کے لیے چند ہدایات جاری کی ہیں۔

’مشرق وسطیٰ سانس کی بیماری‘ اور ’ہسپانوی زکام‘ جیسی بیماریوں کی مثال دیتے ہوئے عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ ایسے نام رکھنے سے گریز کیا جائے کیونکہ ان ناموں میں مخصوص مقامات کا ذکر ہے۔

ڈبلیو ایچ او کی جانب سے جاری ہدایت کے مطابق عام اصلاحات پر مشتمل آسان نام رکھے جائیں۔

ادارے کے مطابق حالیہ برسوں میں کئی نئی انسانی بیماری سامنے آئی ہیں جن کے ناموں کی وجہ سے کچھ مخصوص ثقافتوں، علاقوں اور معیشتوں کی بدنامی ہوئی ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر جنرل برائے ہیلتھ سکیورٹی ڈاکٹر کیاجا فوکودا کا کہنا ہے کہ ’ بظاہر یہ ایک معمولی مسئلہ لگتا ہے لیکن بیماریوں کے نام سے براہ راست متاثر ہونے والے لوگوں کے لیے یہ ایک اہم مسئلہ ہے۔‘

ڈاکٹر کیاجا فوکودا کا مزید کہنا ہے کہ کچھ بیماریوں کے ناموں کی وجہ سے مخصوص مذہبی اور نسلی گروہوں نے ناراضی کا اظہار کیا ہے۔

ان کی وجہ سے سفری مشکلات کے علاوہ تجارتی مشکلات میں بھی اضافہ ہوا ہے اور جانوروں کی غیرضروری تلفی کی وجہ بھی یہ نام بنے ہیں۔

’ان سے لوگوں کی زندگیاں بری طرح متاثر ہو سکتی ہیں‘

ڈبلیو ایچ او کی جانب سے جاری کی گئی ہدایات کے مطابق نئی انسانی بیماریوں کے نام سادہ اور چھوٹے رکھے جائیں اور بڑے اور پیچیدہ نام رکھنے سے پہلے ہدایات کو محلوظِ خاطر رکھا جائے۔

ادارے نے کہا ہے کہ ایسے نام نہ رکھے جائیں جن سے خوف پھیلے۔

اسی بارے میں