بڑھاپے میں ورزش عمر بڑھاتی ہے

تصویر کے کاپی رائٹ THINKSTOCK
Image caption برطانیہ میں 65 برس سے اوپر کے افراد کو سرکاری طور پر مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ ہر ہفتے 150 منٹ کی معتدل مشق کیا کریں

ایک نئی تحقیق کے مطابق بڑھاپے میں باقاعدگی سے ورزش کرنے سے زندگی بڑھنے کا امکان اتنا ہی بڑھ جاتا ہے جتنا سگریٹ نوشی ترک کرنے سے۔

ناروے میں 5700 ضعیف افراد کے تجزیے سے پتا چلا ہے کہ جن لوگوں نے ہفتے میں تین گھنٹے تک ورزش کی وہ ہِل جُل نہ کرنے والوں سے پانچ برس زیادہ زندہ رہے۔

اس تحقیق کے مصنف نے ’برٹش جرنل آف سپورٹس میڈیسن‘ میں لکھا ہے کہ ضعیف العمر لوگوں میں فِٹ رہنے کی حوصلہ افزائی کے لیے مہم چلائی جانا چاہیے۔

یہ تحقیق ایسے وقت آئی ہے جب ایک رفاہی ادارے نے خبردار کیا ہے کہ لوگوں میں ورزش کا رجحان کم ہے۔

اوسلو یونیورسٹی ہاپسٹل کی جانب سے کی گئی اس تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ زور لگا کر یا ہلکی پھلکی ورزش دونوں سے ہی زندگی بڑھنے کا امکان زیادہ پایا گیا۔

برطانیہ میں 65 برس سے اوپر کے افراد کو سرکاری طور پر مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ ہر ہفتے 150 منٹ کی معتدل مشق کیا کریں۔

ناروے میں کی گئی تحقیق سے، جس میں 68 سے 77 برس تک کی عمر کے افراد شامل کیے گئے، معلوم ہوا ہے کہ ہفتے میں ایک گھنٹے سے کم کی ہلکی پھلکی ورزش کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔

تحقیق کے مطابق ہفتے میں چھ مرتبہ آدھ گھنٹے تک ہلکی، سخت یا معتدل کسی بھی طرح کی ورزش سے 11 سال پر محیط تحقیق کے دوران موت کا امکان 40 فیصد کم پایا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

رپورٹ کے مطابق موت کو دور رکھنے میں ’جمسانی مصروفیت اتنی ہی سود مند ہے جتنا کہ تمباکو نوشی ترک کر دینا۔ ضعیف افراد کے بارے میں صحت پر مبنی عوامی حکمتِ عملی میں جسمانی حرکت بڑھانے کی کوششوں کو شامل کیا جانا چاہیے جیسا کہ سگریٹ نوشی کم کرنے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔‘

اس رپورٹ میں جس چیز پر غور نہیں کیا گیا وہ یہ ہے کہ جن لوگوں کو تحقیق میں شامل کیا گیا وہ اپنی زندگی کی شروعات میں کتنے چاق و چوبند تھے۔

برطانیہ میں ہارٹ فاؤنڈیشن نے ایک رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ لوگ بہت کم ورزش کر رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اس رپورٹ کے مطابق بالغوں میں معتدل ورزش نہ کرنے کی شرح کچھ یوں ہے

  • پرتگال 69 فیصد
  • پولینڈ 55 فیصد
  • فرانس 46
  • برطانیہ 44 فیصد
  • کروئیشیا 34 فیصد
  • جرمنی 26 فیصد

نیدرلینڈ کی ریٹنگ بہتر ہے اور وہاں صرف 14فیصد افراد ایسے ہیں جو معتدل ورزش نہیں کرتے۔

رفاہی ادارے سے وابستہ جولی وارڈ کا کہنا ہے ’باقاعدگی سے جسمانی ورزش آپ کے دل کی صحت کے لیے اچھی ہے اور آپ کو زیادہ دیر زندہ رہنے میں مدد دے سکتی ہے چاہے آپ کسی بھی عمر کے ہوں۔‘

’تاہم تازہ ترین اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ برطانیہ میں آدھے لوگ معتدل مشق نہیں کرتے اور یہ نسبت بہت سے یورپی ممالک سے زیادہ ہے۔ ہمارا پیغام ہے کہ خواہ آپ دس منٹ تک ورزش کر لیں اس کا بھی فائدہ ہوگا اور یہ کہ روزانہ کے معمولات میں زیادہ متحرک تبدیلیوں سے آپ کے دل کی صحت بھی بہتر ہو سکتی ہے۔‘

اسی بارے میں