سکول کی پابندیاں ارب پتی بھی بنا سکتی ہیں

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption کیٹر کا کہنا ہے کہ ایک مزاحیہ نام کی وجہ سے انھیں فائدہ ہوا اور لوگوں کو نام یاد رہا

سکول میں ناشائستہ حرکتیں تو بہت لوگ کرتے ہیں لیکن اس کی وجہ سے کوئی کروڑپتی اور ارب پتی بن جائے ایسا بہت کم دیکھا گیا ہے۔

لیکن جیک کیٹر ان میں سے ایک ہیں۔

سنہ 2005 میں جب جیک کیٹرصرف 16 سال کے تھے تو نارفوک سیکنڈری سکول نے طلبہ کو میوزک اور گیمز کی ویب سائٹ سے دور رکھنے کے لیے کمپیوٹر نٹورک کو انتہائی محفوظ کر رکھا تھا۔

اس لیے کمپیوٹر پروگرامنگ میں زبردست دلچسپی کے باعث جیک نے اپنے علم کو کمپیوٹرز ہیک کرنے کے لیے استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔

اب وہ 26 سال کے ہیں۔ انھوں نے کہا میں نے سوچا کہ سکول میں کمپیوٹر کے حفاظتی نظام کو توڑنے کتنا مزہ آئے گا۔

ایسا کرنے کے لیے انھوں نے ایک ویب سائٹ کا سہارا لیا جو کمپیوٹر کی شناخت چھپا لیتا ہے اور اسے عام طور پر کسی بیرون ملک کے کمپیوٹر کے راستے صارف کو ذاتی اور گمنام طور پر انٹرنیٹ تک رسائی فراہم کرتا ہے۔ اس نظام کو ورچوئل پرائیوٹ نیٹورک (وی پی این) کہتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ایچ ایم اے جیسی ویب سائٹ لوگوں کو ایسی ویب سائٹ تک رسائی دلاتا ہے جو عام لوگوں کے لیے بظاہر بند ہو

وہ کہتے ہیں کہ یہ طریقہ کامیاب رہا اور وہ سکول کمپیوٹر کو اپنے ہوم ورک کے بجائے اپنی پسند کے میوزک ویڈیوز دیکھنے کے لیے استعمال کر سکتے تھے۔

لیکن اس وقت کے وی پی این کی کوالٹی سے مایوس ہوکر انھوں نے اپنی ویب سائٹ بنانے کا فیصلہ کیا اور اس کے لیے انھیں صرف ایک دوپہر کا وقت لگا۔

انھوں نے اپنی ویب سائٹ کا نام ’ہائڈ مائی ایس‘ (ایچ ایم اے) رکھا، جو کہ ایک طنزیہ اصطلاح ہے۔

وہ دس سال تک اس کے واحد مالک رہے اور آج انھوں نے اسے چارکروڑ پاؤنڈ میں فروخت کیاہے۔

ان کی ویب سائٹ ایچ ایم اے کو عالمی سافٹ ویئر گروپ اے وی جی نے خریدا ہے اور اس پیسے کے عوض میں انھیں 20 لاکھ صارفین ملے ہیں جس کی سالانہ آمدنی ایک کروڑ پاؤنڈ اور منافع 20 لاکھ پاؤنڈ سے زیادہ ہے۔

اس کے علاوہ جیک کیٹر ایچ ایم اے کے چیف ایگزیکٹیو کے طور پر کام کرتے رہیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ HMA
Image caption جیک کیٹر کا کہنا ہے کہ انھوں نے باضابطہ کمپنی کھولنے مین دیر کی

اگرچہ وہ دس سال قبل صرف 16 سال کے تھے تاہم انھیں ویب سائٹ کو فروغ دینے کا خفیہ ہنر معلوم تھا اور وہ ایچ ایم اے کو مالی طور پر کامیاب بنا سکتے تھے۔ اس لیے انھوں نے اس طرح کی ویب سائٹ میں دلچسپی رکھنے والے فورم پر اپنی ویب سائٹ کو پروموٹ کرنا شروع کیا تاکہ ان کی ویب سائٹ کے بارے میں کچھ ہلچل پیدا ہو۔

انھوں نے کچھ ہی دنوں میں اپنی ویب سائٹ کے ذریعے ’منسلک مارکٹنگ کے ذریعے کمانا شروع کردیا اور ایک ہی ماہ میں ان کے دنیا بھر میں لاکھوں صارفین تیار ہوگئے اور ان کی آمدنی 15 ہزار پاؤنڈ سالانہ ہوگئي۔‘

انھوں نے کہا: ’مجھے اس بات پر بہت حیرت ہوئی کہ وہ اتنی جلدی اتنی وائرل کیونکر ہو گئی۔ میں نے اس کے بارے میں کبھی کوئی تجارتی منصوبہ نہیں تیار کیا تھا۔

’میں نے صرف ایک دوپہر کو ویب سائٹ لانچ کر دیا کہ اگر لوگ اسے بہتر سمجھیں گے تو اسے شیئر کریں گے۔‘

سکول کے بعد وہ نوروچ کالج کمپیوٹر کی تعلیم کے لیے گئے لیک سنہ 2009 میں انھوں نے تعلیم چھوڑ کر پورا وقت ایچ ایم اے کو دینے کا فیصلہ کیا اور پیڈ سروس پیش کی جس کے ابھی دو لاکھ رکن ہیں۔ اس کے علاوہ بنیادی مفت ورژن کے بھی دو لاکھ سے زیادہ صارفین ہیں۔

اسی بارے میں