ایڈوانسڈ لیگو، کشش ثقل کی لہروں کو تلاش کرے گا

تصویر کے کاپی رائٹ ADVANCED LIGO
Image caption یہ دو علیحدہ تجربہ گاہیں کشش ِ ثقل کی لہروں کا سراغ لگائیں گی

دورِ حاضر میں فزکس کے عظیم ترین تجربات میں سے ایک کا آغاز ہونے والا ہے، جس کے تحت کششِ ثقل کی لہروں کا کھوج لگایا جائے گا۔

سائنس دانوں نے امریکہ میں ایک مخصوص تقریب میں ایڈانسڈ لیگو تجربہ گاہوں کا افتتاح کیا۔ یہ دو الگ الگ تجربہ گاہیں کشش ِ ثقل کی لہروں کو تلاش کریں گی۔

سائنس دانوں کے مطابق یہ لہریں سپیس ٹائم میں اس وقت پیدا ہوتی ہیں جب کائنات میں بعض شدید ترین واقعات رونما ہوتے ہیں، مثال کے طور پر دو بلیک ہولز کا آپس میں تصادم یا پھر بڑے ستاروں کا دھماکے سے پھٹ جانا۔

ان لہروں کی موجودگی کی تصدیق سے علمِ فلکیات میں انقلاب برپا ہو جائے گا۔

ایڈانسڈ لیگو کے فعال ہونے کے بعد آسمان پر ہونے والے غیر معمولی مظاہر کا مشاہدہ کرنے کے لیے روایتی روشنی کی دوربینوں کا سہارا نہیں لینا پڑےگا۔

امریکی نیشنل سائنس فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر فرانس کورڈوا کا کہنا ہے کہ ’ایڈوانس لیگو کائنات کی حیرت انگیز پہیلیوں کو سمجھنے کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔‘

ان کا مزید کہنا ہے کہ ’اس کی مدد سے سائنس دانوں کو کشش ثقل کی لہروں کو ڈھونڈنے کے لیے حساس ترین آلات میسر آسکتے ہیں۔ ان لہروں کے بارے میں ہمارا خیال ہے کہ ان میں ان کے آغاز اور کشش ثقل کی قسم کے بارے میں وہ معلومات حاصل ہوتی ہیں، جو عام فلکیاتی آلات سے حاصل نہیں ہو سکتیں۔‘

ایڈوانس لیگو کو 15 ممالک کے ماہرین کی مدد سے بنایا گیا ہے جن میں خاص طور پر جرمنی، برطانیہ اور آسٹریلیا نے زیادہ اہم کردار ادار کیا ہے۔

منگل کو اس تقریب کے بعد اس تجربے کے تحت رواں سال کے آخر میں ابتدائی تحقیق کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

محققوں نے اس تجربہ گاہ پر آٹھ سال کام کیا ہے اور اس پر 20 کروڑ ڈالر سے زائد رقم خرچ ہوئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ MPI
Image caption ان لہروں کی موجودگی کی تصدیق ہونے سے علمِ فلکیات میں انقلاب برپا ہو جائے گا

لیگو یعنی Laser Interferometer Gravitational-wave Observatories ہینڈ فورڈ اور اس سے منسلک لیبارٹری انھی اصولوں پر کام کرتی ہیں۔

تجربہ گاہوں میں طاقتور لیزر بیمز کو دو الگ الگ حصوں میں تقسیم کر کے انھیں الگ الگ راستوں سے انگریزی حرف ایل کی شکل کی دو لمبی سرنگوں میں بھیجا جائے گا جن کے اندر خلا (ویکیوم) ہوتا ہے۔

یہ دو راستے پھر شیشے کے ذریعے واپس نقطۂ آغاز کی جانب پلٹ جاتے ہیں۔

اگر اس دوران کسی دور دراز کہکشاں میں پیدا ہونے والی کشش ثقل کی لہریں تجربہ گاہ میں سے گزریں تو تجربہ گاہ کے حساس آلات میں اس کے شواہد نظر آ جائیں گے۔

تاہم چونکہ کششِ ثقل کی لہریں اس قدر کمزور ہوتی ہیں کہ بہت بڑے فلکیاتی مظاہر ہی اتنی بڑی لہریں پیدا کر سکیں گے جنھیں آلات کی مدد سے جانچا جا سکے۔

جب لیگو بنا تھا تو وہ اس وقت لہروں میں صرف اس قدر تبدیلیاں ریکارڈ کر سکتا تھا جتنا ایک پروٹان کی چوڑائی کا ایک ہزاروں حصہ ہوتا ہے۔ تاہم گذشتہ چند سالوں میں کی جانے والی تبدیلیوں سے ایڈوانس لیگو مزید دس گنا حساس ہو جائے گا۔

پروفیسر سٹرین نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ’2020 تک اس کو مزید بہتر بنانے سے اس میں تین گنا مزید بہتری آ سکے گی۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ان آلات کی زد دو کروڑ نوری سال تک ہے۔ یہ اتنا بڑا فاصلہ ہے جس کے اندر بہت سے فلکیاتی مظاہر پیش آتے رہتے ہیں، جنھیں یہ آلات جانچ سکیں گے۔

تاہم اس تمام ڈیٹا کو پرکھنے کے لیے بہت طاقت ور کمپیوٹر بھی درکار ہو گا، کیونکہ ایٹم کے اندر معمولی سی حرکت بھی ریکارڈ ہو جائے گی۔

اسی بارے میں