انگریز اندازوں سےزیادہ شراب پیتے ہیں

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اس سروے میں انگلینڈ کے 6,000 سے زائد افراد کا انٹرویو کیا گیا

ایک نئی تحقیق کے مطابق انگریز ایک ہفتے کے دوران پرانے تخمینے سے ایک کروڑ 20 لاکھ بوتلیں زیادہ شراب پیتے ہیں۔

طبی جریدے برٹش میڈیکل جرنل کی رپورٹ کے مطابق رائے عامہ کے جائزوں میں فروخت کردہ شراب کا صرف 60 فیصد حصہ ہی سامنے آتا ہے۔

اس رپورٹ کے مصنف ڈاکٹر مارک بیلس کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ متعدد تحقیقات میں خاص مواقع اور تقریبات پر پی جانے والی شراب کی مقدار کو شامل نہیں کیا جاتا۔

اس سروے میں انگلینڈ کے 6,000 سے زائد افراد کا انٹرویو کیا گیا۔

تحقیق کے مطابق برطانیہ میں خاص مواقع پر 12 کروڑ یونٹ الکوحل کی مزید مقدار شامل ہو جاتی ہے جو کہ ایک ہفتے میں شراب کی ایک کروڑ 20 لاکھ بوتلوں کے برابر ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سروے کے مطابق شراب پینے والوں کی متعدد شعبوں میں ان کی عمر اور شراب پینے کی کھپت میں اضافہ دیکھا گیا

محققین کا کہنا ہے کہ اس سے انسانی صحت پر برے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

لیور پول جان مور یونیورسٹی کے سائنس دان ڈاکٹر بیلس کا کہنا ہے کہ ’قومی طور پر ہم اس بات کا غلط اندازہ لگاتے ہیں کہ ہم کتنی شراب پیتے ہیں تاہم انفرادی طور پر ہم ذاتی کھپت کا حساب جب ہم اپنے بھاری پینے کے ادوار سے صرفِ نظر کر سکتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’بہت سے افراد کے لیے اس ادوار میں پی گئی شراب ان کا سالانہ شراب کی کھپت میں خاصے بڑے اضافے کا موجب بنتی ہے، جس سے ان کے الکوحل سے وابستہ بیماریوں میں مبتلا ہونے کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔‘

ڈاکٹر بیلس کے مطابق: ’انفرادی طور پر شراب کی تین چوتھائی بوتلوں کے برابر یا پھر بیئر کے تین جاموں کے برابر ہر ہفتے پی جانے والی شراب کسی کھاتے میں نہیں جاتی۔‘

محققین نے انگلینڈ کے 16 سال اور اس سے زائد عمر کے 6,085 افراد کا انٹرویو کیا۔

سروے میں شامل افراد سے ان کے عام شراب پینے کے طریقوں اور خاص حالات جیسے کہ گرمیوں کی چھٹیوں، بینک کی چھٹیوں اور شادیوں کے مواقع پر پی جانے والی شراب کے بارے میں پوچھا گیا۔

سروے کے مطابق شراب پینے والوں کے متعدد شعبوں میں ان کی عمر اور شراب پینے کی کھپت میں اضافہ دیکھا گیا۔

ان شعبوں میں 25 سے 35 سال کی عمر کے افراد میں شراب پینے کی کھپت سب سے زیادہ رہی۔

اسی بارے میں