پیلمائرا پر دولت اسلامیہ کے قبضے سے نایاب پرندہ معدوم ہونے کا خطرہ

تصویر کے کاپی رائٹ THINKSTOCK
Image caption اطلاعات کے مطابق یہ یہ لمبی چونچ والا گنجے پرندے لق لق کی تعداد صرف چار رہ گئي ہے۔ اسے عربی میں ابو منجل اور انگریزی میں ibis کہا جاتا ہے

ماہرین کا کہنا ہے کہ پیلمائرا (تدمر) پر اسلامی شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے قبضے کے بعد ایک لمبی چونچ والے گنجے نایاب پرندے کے معدوم ہوجانے کا خدشہ بڑھ گيا ہے۔

سنہ 2002 میں لق لق نامی اس پرندے کی افزائش کی جگہ تدمر کے قریب ملی تھی جہاں پر چار پرندے موجود تھے۔

اس جگہ پر موجود پنجروں میں بند تین پرندے اس وقت بے یارو مددگار رہ گئے جب دولت اسلامیہ کی پیش قدمی پر وہاں مامور محافظ بھاگ کھڑے ہوئے۔ اس وقت سے اب تک ان تین پرندوں کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے۔

تدمر یا پیلمائرا کے حکام نے اعلان کیا ہے کہ چوتھے پرندے کے بارے میں اطلاع دینے والوں کو ایک ہزار ڈالر انعام دیا جائے گا۔

لبنان میں قائم سوسائٹی فار پروٹیکشن آف نیچر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مادہ پرندے کی تلاش بہت اہم ہے، جس کا نام زینوبیا رکھا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پیلمائرا کو رومن عہد میں بسایا گیا تھا

’صرف زینوبیا ہی کو موسم سرما گزارنے کے لیے ایتھیوپیا کا راستہ معلوم ہے اور اس کے بغیر باقی تین پرندوں کو آزاد نہیں کیا جا سکتا۔‘

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر زینوبیا کے بغیر تین پرندوں کو آزاد کیا گیا تو وہ شام کے ویرانوں میں کھو جائيں گے۔

لبنان میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ لق لق کے بارے میں خیال ظاہر کیا جاتا تھا کہ اس خطے میں یہ معدوم ہو چکے ہیں۔ تاہم دس سال قبل تدمر میں سات پرندوں کی افزائش کی جگہ ملی۔

ان کے تحفظ کے باوجود یہ پرندے سات سے کم ہو کر چار رہ گئے۔ ہمارے نمائندے کا کہنا ہے کہ صرف زینوبیا ہی اس سال واپس آئی ہے۔

دوسرے تینوں پرندے اس سے علیحدہ رکھے گئے تھے اور ان کے بارے میں یہ علم نہیں کہ وہ محفوظ ہیں یا نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption چار میں سے صرف ایک مادہ زینوبیا ہی کو ایتھوپیا کا راستہ معلوم ہے

عراق کے اہم شہر رمادی پر قبضے کے فورا بعد شام کا شہر پیلمائرا بھی دولت اسلامیہ کے قبضے میں آ گیا۔ جدید شہر پیلمائرا کے نزدیک واقع عالی وراثت کے مقام پر دولت اسلامیہ کے قبضے پر عالمی برادری کو تشویش ہے۔

دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں نے عراق کے بہت سے تاریخی مقامات کو تباہ کیا ہے جن میں نمرود کا قدیمی شہر بھی شامل ہے جسے عراق کے آثار قدیمہ کے بڑے خزانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

اسی بارے میں