’ہم دفتروں میں اتنا وقت کیوں ضائع کرتے ہیں‘

دفتر تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کیا ہم دفتر میں اپنا کام خوشی سے کرتے ہیں؟

دفتر اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں لوگ کام کرنے جاتے ہیں۔ لیکن پیٹر فلیمنگ لکھتے ہیں کہ وہاں لوگ دن کا زیادہ تر حصہ کم فائدہ مند سرگرمیوں میں گزار دیتے ہے۔

کچھ سال پہلے میڈیا میں ایک ایسی پریشان کن خبر آئی تھی جو آج کل کے دور میں کام کے ہماری زندگیوں پر اثرات کی منہ بولتی تصویر تھی۔ خبر تھی کہ ’ایک شخص دفتر میں مرگیا۔ کسی نے پانچ روز تک اس کا نوٹس نہیں لیا۔‘

یہ پریشان کن ایک وجہ سے بھی تھی۔ لوگ ہمیشہ مرتے ہیں لیکن ہم عموماً ان کا نوٹس لے لیتے ہیں۔ کیا جدید کام کی جگہ میں حالات اتنے برے ہیں کہ ہم زندہ اور مردہ کے درمیان فرق نہیں بتا سکتے؟

یقیناً وہ ایک جھوٹی کہانی تھی۔ محض ایک افواہ۔

ہر ملک میں یہ کہانی تھوڑی بہت ترمیم کے ساتھ سامنے آتی رہتی ہے اور لوگ اب بھی اس سے دھوکہ کھا جاتے ہیں۔ امریکہ میں مرنے والا شخص ایک پبلشر ہے تو کئی دوسرے ممالک میں یہ مینیجمنٹ کنسلٹنٹ ہو گا۔

ہم بھی اس کہانی میں تھوڑا بہت حصہ ڈال سکتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ مرنے والے اکاؤنٹنٹ کی طرف نہ صرف کسی نے پانچ روز تک دھیان دیا ہو بلکہ اس کے اضافی کام اور وفاداری کی وجہ سے اس کو ترقی بھی دے دی گئی ہو، شاید نائب صدر بنا دیا گیا ہو۔ لیکن اس داستان میں جتنی بھی ترمیم کی گئی ہے اس میں دکھائے گئے ورکر کو کبھی بھی عورت نہیں کہا گیا، جو کہ اپنے آپ میں ایک دلچسپ بات ہے۔

کیا یہ عجیب بات نہیں کہ ہم میں سے اکثر کو جب یہ غیر مستند کہانی سنائی گئی تو ہم نے حقیقت میں کاندھے اچکاتے ہوئے کہا کہ ’ہاں، یہ بات ٹھیک بھی ہے۔‘

کیوں یہ آج کل کے ہمارے ملازمت کے تجربے سے کافی مطابق رکھتی ہے۔اس کے پیچھے کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ہی کتنی دیر دفتر کا اصل کام کرتے ہیں اور کتنی دیر اپنی دوسرے مسائل کے متعلق سوچتے رہتے ہیں؟

سب سے پہلے تو یہ ہمیں باور کراتی ہے کہ مسلسل کئی کئی گھنٹے بلکہ دنوں کام کرنے کا پاگلانہ خیال کافی حد تک حقیقت کا روپ دھار چکا ہے۔ جس رویے کو ہمارے آباؤ اجداد احمقانہ سمجھتے تھے وہ اب عام ہے۔

ایک اوسط برطانوی ملازم سال کے 36 دن دفتری ای میلوں کا جواب دینے میں گزار دیتا ہے۔ خصوصاً لندن کے ملازم ہر سال 9,000 ای میلز وصول کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں کام نجی زندگیوں میں داخل ہو جاتا ہے۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق 80 فیصد مالکان یہ بالکل قابلِ قبول سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے ملازمین سے کام کے اوقات کے علاوہ بھی رابطہ کر سکیں۔

اس کے علاوہ دفتر تک جانے کا سفر ہے۔ برطانوی ملازم اپنی زندگی کے 18 مہینے سفر میں گزار دیتے ہیں جو کہ ایک مہنگا اور تھکا دینے والا عمل ہے۔

اس سب کی ایک قیمت ہے۔ مثال کے طور پر کام سے متعلق بیماری برطانیہ اور دوسرے ممالک میں ایک بڑھتا ہوا مسئلہ ہے، جو ذہنی دباؤ اور مزید کام کرنے کی فہرست کی وجہ سے شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔

کساد بازاری کے وقتوں میں خوفناک حالات میں بھی کام کرنے پر رضامندی معاملے کو مزید خراب کر دیا ہے جس کی وجہ سے پہلے سے موجود مایوسی مزید بڑھ جاتی ہے۔ ایک حالیہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کام میں ’برن آؤٹ‘ یا توانائی کا ختم ہونا آپ کی صحت کے لیے مستقل سگریٹ نوشی سے زیادہ برا ہے۔

اسی تناظر میں ہی ہم کارپوریٹ سیکٹر میں ’ورکڈ ٹو ڈیتھ‘ یا کام کرتے ہوئے مرنے کے واقعات سنتے ہیں۔ ایسا ہی واقعہ 2013 میں بینک آف امریکہ کے مورٹز ایرہاردت کے ساتھ ہوا۔ انھیں 72 گھنٹے مسلسل کام کرنے کے بعد مرگی کا دورہ پڑا جو جان لیوا ثابت ہوا۔ ہمیں کام کی وجہ سے کی جانے والی خودکشیوں کو بھی فراموش نہیں کرنا چاہیے جو 2008 کے اقتصادی بحران کے بعد دیکھنے میں آئیں۔

لیکن ’آدمی ڈیسک پر مر گیا اور کسی کو پتہ بھی نہیں چلا‘ کی شہری داستان ایک اور بات کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے اور یہ کافی مایوس کن بھی ہے۔ ہاں، آفس کو آدمی کے مرنے کا احساس ہونا چاہیے تھا۔ پانچ دن کافی لمبا عرصہ ہے۔ لیکن ان کو اس بات کا بھی نوٹس لینا چاہیے تھا کہ اس کا کام اصل میں ہو ہی نہیں رہا۔

بدقسمتی سے جدید کام کرنے کی جگہ پر آج کل اس طرح کام نہیں ہوتا۔ ذرا ای میلوں پر گزرنے والے 36 دنوں کو ہی لے لیجیے۔ یہ ناممکن ہو گا کہ آن لائن پر ہر منٹ کو فائدے کے ساتھ صرف کیا جا سکے۔ یہی حال دفتر میں بتائے لمبے گھنٹوں کا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ہر انسان کی زندگی کا ایک لمبا عرصہ کام پر آنے جانے میں گزر جاتا ہے

اصل کام کرنے کے علاوہ، جو کہ عام طور پر تھوڑے تھوڑے وقفوں میں کیا جاتا ہے، کافی حد تک وقت ضائع ہوتا ہے: ادھر ادھر کی باتیں کرنے میں، بل ادا کرنے میں، نیٹ سرفنگ میں، خیالی پلاؤ پکانے اور دن کے ختم ہونے کا انتظار کرنے میں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہمارا دن زیادہ تر مصروفیت کے بجائے اپنے آپ کو مصروف دکھانے میں گزر جاتا ہے۔

یہ سچ ہے کہ مغرب میں زیادہ تر پیشے اس بنیادی مفروضے سے ہٹ گئے ہیں کہ کام زندہ رہنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ کام ہمیں بس انسان کے بنائے ہوئے ان ’واؤچرز‘ تک رسائی دیتا ہے جنھیں ہم روپے کہتے ہیں۔ ہم ان کو کیش کراتے ہیں تاکہ ہم زندہ رہ سکیں۔

ہم کتنے واؤچر اکٹھے کرتے ہیں اور انھیں حاصل کرنے کے لیے ہمیں کیا کرنا پڑتا ہے یہ ایک سیاسی سوال ہے۔ لیکن محنت بطور ایک حیاتیاتی/معاشرتی ضرورت بمقابلہ کام بطور ایک ثقافتی چیز ایک ایسا تصور ہے جو خود بخود پیدا ہو رہا ہے، کنٹرول سے باہر ہو رہا ہے، اور ہر چیز پر حاوی ہو رہا ہے۔

مسئلہ یہاں ہی پیدا ہوتا ہے۔ اس وقت تو اسے سب سے بڑی شہری فضیلت سمجھا جا رہا ہے لیکن یہ تصور تیزی سے خشک بھی ہو رہا ہے۔

آپ کو یہ اچھا لگے یا نہ ہم اس وقت کام کے بعد کے مستقبل میں داخل ہو رہے ہیں۔ کچھ اندازوں کے مطابق، دنیا کی آدھی سے زیادہ افرادی قوت بے روزگار ہے۔

تکنیکی ایجادات تو خود کار طریقے سے دستی لیبر کو نمایاں کرتی ہیں اور اب ادراکی کام بھی۔ ہمارا کام کا دیوانہ معاشرہ تیزی سے متروک ہوتا جا رہا ہے۔ جتنا بھی حکومت کاروباری سیکٹر کو ٹیکس میں چھوٹ اور سبسڈیز دے کہ لوگوں کو غیر ضروری ملازمتوں پر رکھے رہیں، کام کی ضرورت تیزی سے غائب ہو رہی ہے۔

بطور معاشرہ شاید ہم خفیہ طور پر یہ سب جانتے ہیں۔ لیکن ہمیں یہ نہیں پتہ کہ اس سے آگے کیا کرنا ہے۔

ہمارے تقریباً تمام ادارے کام کے قصے کہانیوں پر بنائے گئے ہیں۔ ہماری عظمت کی حص ہی اس پر منحصر ہے۔ کام کے متعلق سوال کرنا تقریباً حرام بات ہے۔

باوجود ان سب باتوں کے کام کے بغیر مستقبل کا امکان جلد ہی ایک حقیقت بننے والا ہے۔ اور یہ ہم نے فیصلہ کرنا ہے کہ یہ مستقبل ایک ڈراؤنا خواب ہو گا (جہاں ڈیسک پر لاشیں پڑیں ہوں) یا ایک کھیلنے کی جنت۔

پیٹر فلیمنگ ’دی مائتھولوجی آف ورک: ہاؤ کیپٹل ازم پرسسٹس ڈسپائٹ اٹسیلف‘ کے مصنف ہیں

اسی بارے میں