کیا ہم نے سرطان کا علاج ڈھونڈ لیا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ SPL
Image caption لیکن کچھ بہت ہی دلچسپ ہونے والا ہے۔ امیونو تھیرپی کے میدان میں

کیا ہم نے سرطان کا علاج ڈھونڈ لیا ہے؟

آپ کےذہن میں یہ بات آئی ہو گی کہ کیا آپ آج صبح اخبارات کے سٹینڈ کے پاس سے گزریں ہیں۔

اگر آپ جلدی میں ہیں تو اس سوال کا مختصر جواب ہے نہیں۔

لیکن کچھ بہت ہی دلچسپ ہونے والا ہے۔ امیونو تھیرپی کے میدان میں۔

یہ مکمل اعلاج نہیں ہے لیکن امیونو تھیرپی بہت تیزی کے ساتھ کیمیوتھیرپی، ریڈیو تھیرپی اور سرجری کے ساتھ ساتھ ایک طاقتور ہتھیار بنتا جا رہا ہے۔

آپ کی قوتِ مدافعت کا نظام آپ کے جسم میں ایک محافظ کا کام کرتا ہے اور ہر اُس چیز کو صاف کر دیتا ہے جسے آپ نہیں کر پاتے۔

اس نظام میں بہت سی رکاوٹیں ہوتی ہیں جو قوت مدافعت کے نظام کو صحت مند ریشوں کو بننے سے روکتا ہے۔( یہیں پر بہت سی بافتوں کا سخت ہوجانا جیسی خرابیاں پیدا ہو جاتی ہیں)۔

تاہم سرطان صحت مند ریشو کا ایک خراب ورژن ہی ہے اور جو ہماری قوت مدافعت کے نظام کو دھوکا دے سکتا ہے۔

یہ کیمیائی طور پر اسی طرح دکھ کر چیختا ہے ’ یہاں کچھ نہیں ہے آگے بڑھ جائیں۔‘

وہ اپنی سطح پر پروٹین بنا کر ایسا کرتا ہے جس کی مدد سے وہ قوت مدافعت کے نظام میں مل جاتا ہے تاکہ اسے کام کرنے سے روک دے۔

امیونوتھیرپی ادویات جس سے لوگوں میں دلچسپی پیدا ہوئی ہے ایک اوون کے دستانے کا کام کرتا ہے اور اسے ملنے سے روکتا ہے۔

امیونوتھیرپی پر کافی عرصے سے کام ہو رہا ہے لیکن اخبار کے صفحہ اول پر اچانک یہ خبر امریکن سوسائٹی آف کلینکل اونولوجی کی جانب سے سامنے آنے والی معلومات کے بعد آئی ہے۔

برطانیہ کی قیادت میں ہونے والی تحقیق سے پتا چلا ہے کہ بہت پھیلا ہوا جلد کا سرطان اس وقت گھٹنے لگا جب دو امیونوتھیرپیاں ملا کر کی گئیں۔ ان دو تھیرپیوں نے جان لیوا سرطان کو بڑھنے سے تقریباً ایک سال تک روکے رکھا۔

امریکن سوسائٹی آف کلینکل اونولوجی کا اعلان ایک اور امیونو تھیرپی کرنے کے دو دن بعد ہوا تھا جب پھیپڑوں کے سرطان میں مبتلا ایک مریض کو دی جانے والی امیونو تھیرپی کی ادویات سے اس کے زندہ رہنے کی امید بڑھ گئی۔

یونیورسٹی آف بکنگھم کے میڈیکل سکول کے ڈین پروفیسر کارل سیکورا نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ’آپ سوچیں گے کہ سرطان کا علاج کل ہو جائے گا۔ یہ ایسا نہیں ہے ہمیں ابھی بہت کچھ سیکھنا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock
Image caption میلانوما یا جلد کے سرطان کے لیے دو دواؤں اپلی مماب اور نیولیوماب کا استعمال کیا گیا تھا

تو پھر احتیاطی الفاظ کیا ہیں؟

یہ ادویات سب پر ایک جیسا کام نہیں کرتی ہیں۔ کچھ لوگوں کے لیے یہ بہت بہترین ہیں، کچھ کے لیے تھوڑا بہتر اور بعض پر تو یہ بلکل اثر نہیں کرتیں۔

اس کے ابھی تک غیر واضح ہونے کی ایک وجہ ہے۔ کیا سرطان بڑھنے کے دوران بہت حساس ہوتا ہے؟ کیا یہ رسولیوں کی سطح پر بننے والے پروٹینز کی مقدار اور قسم کی وجہ ہے؟ ہم یہ سب ابھی نہیں جانتے ہیں۔

یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ اس قسم کی تھیرپی بہت مہنگی ہوگی۔ جس کا مطلب ہے کہ ان ادویات کے لیے ان لوگوں کو تلاش کرنا ضروری ہوگا جن پر ان کا اثر ہوگا۔

اس علاج کے طویل المعیاد مضر اثرات کے حوالے سے بھی بے یقینی پائی جاتی ہے۔ کیا مدافعتی نظام میں تبدیلی کرنے سے آٹوامیون بیماریوں کے بڑھنے کا خطرہ بڑھ جائے گا؟

ابھی تک اس کے مضر اثرات صرف علاج کے دوران ہی سامنے آئے ہیں لیکن جن مریضوں پر اس دوا نے اثر کیا ہے ان کے حوالے سے کچھ سامنے نہیں آیا ہے۔

میلانوما یا جلد کے سرطان کے لیے دو دواؤں اپلی مماب اور نیولیوماب کا استعمال کیا گیا تھا۔

اپلی ممابپ برطانیہ میں پہلے سے ہی میلا نوما کے علاج کے لیے استعمال کی جا رہی ہیں۔

تو جو ہم دیکھ رہے ہیں وہ یہ کہ اس میدان میں مستقبل کے لیے بہت کام ہو رہا ہے۔

یہ سچ میں دلچسپ ہے اگر اس میں ’علاج‘ کا لفظ نہ ڈالا جائے۔

اسی بارے میں