’بندروں اور انسانوں میں بہت مماثلت ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ ALAMY
Image caption جس چیز نےگارنر کو سب سے زیادہ حیرت زدہ کیا وہ تھی ان کی بولی

بندروں اور انسانوں میں پائی جانے والی مماثلت ایک لمبے عرصے سے سائنس دانوں کو متوجہ کیے ہوئے ہے۔ تاہم میری کلوویل لکھتی ہیں کہ ان میں فرق بھی بہت دلچسپ ہے۔

بندروں کی ماہر شارلٹ النن بروئک نے بندروں کا قدرتی ماحول میں مشاہدہ کرنے کے لیے کئی سال گزارے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’مجھے اکثر حیرت ہوتی ہے کہ جب یہ ہمیں دیکھتے ہیں تو ہمارے بارے میں کیا سوچتے ہیں۔‘

شارلٹ نے مزید بتایا کہ ’جب آپ کسی بندر کی آنکھوں میں دیکھتے ہیں تو آپ کو ایک ذہین، خود آگاہ جانور دکھائی دیتا ہے جو پیچھے مڑ کر آپ کو دیکھتا اور آپ کا جائزہ لے رہا ہوتا ہے۔‘

بندروں اور انسانوں میں اس قدر مماثلت ہے کہ زمین پر ہمارے قریب ترین رشتہ داروں سے ہمیں کیا چیز الگ کرتی ہے اس پر تعجب نہ کرنا ممکن نہیں ہے۔

آر ایل گارنر ان لوگوں میں سے ایک ہیں جنھوں نے مغربی افریقہ میں چمپینزیوں کے ساتھ رہ کر فرق تلاش کرنے کی کوشش کی تھی۔

گارنر نے سنہ 1896 میں لکھا تھا کہ ’یہاں کوئی دوسری مخلوق ان پر مشاہدہ کرنے والے کو اتنا متوجہ نہیں کرتی ہے جتنا کہ یہ انسانی نسل کے چھوٹے پتلے۔‘

انھوں نے ان میں موجود جسمانی مُشابہت کو دیکھا اور اس کے ساتھ ساتھ ان کے سماجی تعلقات، بہت سارے جذبات اور اپنے چھوٹوں کا خیال رکھنے کے جذبے کو بھی محسوس کیا۔

لیکن جس چیز نےگارنر کو سب سے زیادہ حیرت زدہ کیا وہ تھی ان کی زبان۔ انھوں نے بندروں کو آپس میں بات چیت کرتے دیکھا، لیکن وہ کیا کہہ رہے تھے اور کیوں؟

Image caption سنہ 1698 میں اس دور کے اولین ماہرالابدان ایدورڈ ٹائسن رائل سوسائٹی کے سامنے ایک چھوٹے قد کے چمپینزی کے اعضا کے حوالے سے اپنی تحقیق لے کر آئے تھے

گارنر نے لکھا کہ ’ان کے بولنے سے جو آوازیں پیدا ہو رہی تھی ان میں ایک صحیح گفتگو کی تمام خصوصیات موجود تھیں۔ بولنے والا بندر ان آوازوں کے مطلب سے آگاہ ہوتا ہے، اور اسے بالکل صحیح انداز میں سننے والے تک پہنچانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔‘

انھوں نے مزید لکھا ہے کہ’بندر کسی ایک کو مخاطب کر کے اس کی جانب دیکھ کر بات کرتا ہے اور وہ صورت حال کے مطابق اپنی آواز میں اتار چڑھاؤ لاتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ آواز اپنے خیالات کو دوسروں تک پہنچانے کا ذریعہ ہے، یہ اور اس جیسے کئی دوسرے حقائق سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک قسم کی زبان ہے۔ بندروں کی زبان نے ہمیں صدیوں سے اپنی جانب متوجہ کیا ہوا ہے۔‘

یکم جون سنہ 1698 میں اس دور کے اولین ماہر الابدان ایڈورڈ ٹائسن رائل سوسائٹی کے سامنے ایک چھوٹے قد کے چمپینزی کے اعضا کے حوالے سے اپنی تحقیق لے کر آئے تھے۔

یہ چھوٹا جانور انگولا سے برطانیہ لایا گیا تھا۔ جہاز پر سوار کرنے کے دوران گرنے سے اس کا جبڑے کو نقصان پہنچا تھا اور اس کے بعد وہ ایک وبائی مرض میں مبتلا ہونے کے بعد دو ماہ تک ہی زندہ رہ سکا تھا۔

ان کی یہ تحقیق ان کی ایک کتاب کی شکل میں موجود ہے۔ جس میں ایک بندر، انسان اور چمپینزی کا موازنہ کرنے اور اس جانور کی ہڈیوں اور پٹھوں کی تفصیل اور پیمائش کے علاوہ دل کو چھو لینے والی کہانی بھی ہے کہ کیسے اس بحری جہاز کے عملے نے اس جانور کا خیال رکھا تھا۔

جہاز کے عملے نے اس بندر کو کپڑے پہنائے، اسے اپنے ساتھ میز پر بٹھا کر کھانا کھلایا اور یہاں تک کہ اسے بستر پر سلایا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس جانور نے ان ملاحوں کو بھی حیرت میں ڈال دیا تھا۔

Image caption ٹائسن کے مطابق چمپینزی کے نہ بولنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ بحث نہ کرنے والی مخلوق ہے

ایک انکشاف خاص طور پر دلچسپی کا حامل ہے۔ وہ یہ کہ ٹائسن نے دیکھا کہ انسان اور چمپینزی کے گلے یا حلق میں بہت ہی معمولی سا فرق ہے۔ انھوں نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ ’یہ بالکل انسانوں جیسا ہی ہے۔‘

تو پھر یہ بولتے کیوں نہیں ہیں؟ اس کے بارے میں ایک نظریہ تو یہ ہے کہ اگر چمپینزی خود کو سننے کے لیے ہمیں اپنے قریب آنے دیں تو شاید ہم انھیں قید کر لیں، اس لیے وہ انسانوں کی موجودگی میں خاموش رہتے ہیں۔

سترہویں صدی میں سائنس، اساطیر اور مذہب کے درمیان بہت باریک سا پردہ تھا۔ ٹائسن کے مطابق چمپینزی کے نہ بولنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ استدلال نہ کرنے والی مخلوق ہے۔

سٹریتھکلائیڈ کے سکول آف ہیومینٹیز کی ایریکا فڈج کا کہنا ہے کہ ’انسان جانوروں سے الگ ہیں کیونکہ ہم میں ایک چیز ہے جسے استدلال کہتے ہیں۔ جسے لازمی طور پر آپ جسم میں نہیں ڈھونڈ سکتے، یہ ایک روحانی جوہر ہے۔ تو چمپینزیوں میں بولنے کی صلاحیت ہے لیکن وہ نہیں بولتے کیونکہ وہ استدلال کرنے والی مخلوق نہیں ہیں۔‘

70 سال قبل بندروں کو انگریزی سکھانے کی کوششیں کی گئی تھیں۔ ایک نومولود چمپینزی کو ایک گھر میں ایک نومولود بچے کے ساتھ رکھا گیا تھا۔

جب وہ دونوں تین سال کی عمر کو پہنچے تو چمپینزی بچے کے مقابلے میں جسمانی حرکات زیادہ بہتر کر رہا تھا لیکن وہ صرف چند الفاظ ہی مشکل سے ادا کر پا رہا تھا جبکہ انسانی بچہ اسی عمر میں کئی سو الفاظ سیکھ چکا تھا۔

تب یہ معلوم ہوا کہ حقیقت میں چمپینزی کا منھ اور حلق اس طرح سے آواز نہیں نکال سکتے جیسے کہ ہمارے، اور وہ جنگل میں صرف اسی وقت آوازیں نکالتے ہیں جب وہ خوش ہوتے ہیں۔

اس کے بعد اشاروں کی زبان کی بنیاد پر ایک نئی تحقیق نے جنم لیا۔ خاص طور پر ’ایمسلن‘ ایک امریکی طرز کے اشاروں کی زبان۔

یہ بندروں کو سمجھنے میں ایک بڑی پیش رفت تھی۔ چمپینزیوں نے انتہائی تیزی سے تقریباً 200 الفاظ اور جملے سیکھ لیے، اور بات یہ ہے کہ وہ خود سے الفاظ کو جوڑ کر نئے الفاظ بنانے لگے۔ جیسا کہ مشہور چمپینزی واشو، جس نے ایک ہنس کو تالاب میں تیرتے دیکھا تو پانی اور اس پرندے کو ملا کر اپنا نام بنا لیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption بندروں کے ماہر رابرٹ سپالسکی کا کہنا ہے کہ تجربات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بندروں کی صلاحیت نہیں بلکہ انسانوں کی نقل اترانا ہے

گذشتہ دہائیوں میں ہم نے چمپینزیوں پر کئی تجربات کیے ہیں۔ جس میں سنہ 1970 اور 1980 بندروں کی زبان پر ہونے والی تحقیق کا سنہرا دور تھا۔

اسی دوران بندروں کو اشاروں کی زبان کے حوالے سے بٹن دبا کر تصاویر کے ذریعے کھانا مانگنےاور فلم دیکھنے جیسی چیزیں کرنا سکھائی گئی لیکن یہ صرف چھوٹے قد والے چمپینزی ہی زیادہ بہتر کر پاتے تھے۔

کانزی نام کے چمپینزی آسان جملے بنانے کے ساتھ ساتھ یہ کہنے کی بھی صلاحیت رکھتے تھے کہ وہ کیا کر رہے تھے اور مستقبل میں کیا کرنا چاہتے ہیں۔

تاہم بندروں کے مشہور ماہر رابرٹ سپالسکی اس بات کو مسترد کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تجربات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بندروں کی صلاحیت نہیں بلکہ انسانوں کی نقل اتارنا ہے۔

اسی بارے میں