ردی میں دیا گیا کمپیوٹر دو لاکھ ڈالر میں فروخت

Image caption گذشتہ دسمبر میں ’ایپل ون‘ کا قابلِ استعمال حالت میں ایک ماڈل تین لاکھ 65 ہزار امریکی ڈالر میں نیلام ہوا تھا

امریکی شہر سان فرانسسكو میں کوڑا کرکٹ کو دوبارہ قابلِ استعمال بنانے کے ایک مرکز کو نادر ’ایپل ون‘ کمپیوٹر ردی میں دے جانے والی خاتون کی تلاش ہے۔

یہ کمپیوٹر مذکورہ خاتون کے آنجہانی شوہر کے سامان کا حصہ تھا جسے وہ گذشتہ ماہ ادارے کے حوالے کرگئی تھیں۔

ری سائیکلینگ کمپنی کلین بے ایریا کا کہنا ہے کہ 60 سے 70 سال عمر کی ایک خاتون اس کی دکان میں کئی ڈبے چھوڑ گئیں تھیں جن میں کئی کمپیوٹر اور دیگر سامان تھا۔

اس خاتون نے اپنا کوئی نام پتہ نہیں دیا تھا اور جب کئی دن بعد ادارے کے ملازم نے ڈبے کھولے تو ایک میں سے یہ نادر کمپیوٹر نکلا۔

کمپنی کی مقامی شاخ کے مینیجر نے پہچاننے پر اسے الگ کر دیا اور پھر کمپنی نے اسے نادر اشیا کے ایک خریدار کو دو لاکھ ڈالر میں فروخت کر دیا۔

اب کمپنی اس میں سے نصف رقم اس خاتون کو دینا چاہتی ہے جس نے یہ کمپیوٹر ردی میں دیا تھا۔

کمپنی نے اس سلسلے میں آن لائن مہم بھی شروع کی ہے تاہم خاتون کی شناخت کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔

کلین بے ایریا کے مینیجر کا کہنا ہے کہ صحیح خاتون کی شناخت کے لیے ان کا صرف انھیں دیکھنا ہی کافی ہو گا۔

’ایپل ون‘ کمپیوٹر دنیا کی اس مشہور کمپنی کے ابتدائی کمپیوٹروں میں سے ہے اور ایپل کے شریک بانی سٹیو ووزنیئك نے اپنے ہاتھوں سے یہ مشین تیار کی تھی۔

اس طرح کے صرف 200 کمپیوٹر ہی تیار کیے گئے تھے اور خیال ہے کہ اب دنیا میں ان میں سے 66 ہی باقی بچے ہیں۔

صرف چار کلو بائیٹ میموری والا یہ کمپیوٹر جولائی 1976 میں 666 ڈالر میں فروخت کے لیے پیش کیا گیا تھا اور آج کل نادر اشیا کے طلب گار اس کے لیے لاکھوں ڈالر ادا کرنے کو تیار ہیں۔

گذشتہ برس دسمبر میں ’ایپل ون‘ کا قابلِ استعمال حالت میں ایک ماڈل تین لاکھ 65 ہزار امریکی ڈالر میں نیلام ہوا تھا۔

اسی بارے میں