تیز ہواؤں کے باعث سولر امپلس کے ایک پر کو معمولی نقصان

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سولر امپلس کی ٹیم کا کہنا ہے کہ پر کی مرمت کی جا سکتی ہے اور جہاز اپنا سفر جاری رکھے گا

بغیر ایندھن کے شمسی توانائی سے چلنے والے طیارے سولر امپلس کے ایک پر کو معمولی نقصان پہنچا ہے جب خراب موسم کے باعث اس کو جاپان میں اترنا پڑا۔

سولر امپلس کو پیر کے روز بحرالکاہل کو عبور کرنے کی کوشش ترک کرنا پڑی تھی۔

اگرچہ سولر امپلس باآسانی جاپان کے ایئر پورٹ پر اتر گیا لیکن تیز ہواؤں کی وجہ سے اس کے ایک پر کو معمولی نقصان پہنچا۔

سولر امپلس کی ٹیم کا کہنا ہے کہ پر کی مرمت کی جا سکتی ہے اور جہاز اپنا سفر جاری رکھے گا۔

سولر امپلس کی ٹیم کے ایم ممبر آندرے بورش برگ نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا: ’سولر امپلس کے ایک پر کو معمولی نقصان پہنچا ہے جس کی مرمت میں ایک ہفتہ لگ سکتا ہے۔‘

یاد رہے کہ خراب موسم نے سولر امپلس کو اتارنے کے لیے جاپان جانے پر مجبور کر دیا تھا۔

اس ایک سیٹ والے طیارے کے پائلٹ فضا میں 36 گھنٹے تک پرواز کرتے رہے جبکہ ایک اندازے کے مطابق چین سے امریکی ریاست ہوائی کے اس سفر میں وہ چھ دنوں تک پرواز کرنے والے تھے۔

اب سولر امپلس کی ٹیم جاپان میں سازگار موسم اور صاف آسمان کا انتظار کرے گی تاکہ پھر سے بحرالکاہل کو عبور کرنے کی کوشش کی جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption دونوں پائلٹ سوئٹزرلینڈ سے تعلق رکھتے ہیں بائیں برٹرینڈ ہیں تو دائیں لمبے قد کے آندرے بورشبرگ ہیں

موناکو میں کنٹرول روم سے اس طیارے کی پرواز پر نظر رکھنے والے پائلٹ برٹرینڈ پیکارڈ نے کہا کہ ’ہم لوگ احمق جانباز نہیں بلکہ ایکسپلورر ہیں، اور ہمارے لیے تحفظ ترجیحات میں پہلے مقام پر ہے۔ طیارے کے ساتھ سب کچھ درست ہے لیکن موسم اس کے مطابق نہیں ہے۔ ہم ناگویا میں اتریں گے اور بہتر حالات کا انتظار کریں گے۔‘

بغیر ایندھن کے شمسی قوت سے چلنے والا طیارہ سولر امپلس سنیچر کو بحرالکاہل کو عبور کرنے کے لیے روانہ ہوا تھا اور اسے سوئٹزرلینڈ کے پائلٹ آندرے بورشبرگ چین سے امریکی ریاست ہوائی لے جا رہے تھے۔

اس تجرباتی طیارے کے پر کی لمبائی جمبو جیٹ سے زیادہ ہے لیکن اس کا وزن ایک موٹر کار سے قدرے زیادہ ہے۔ یہ طیارہ مقامی وقت کے مطابق چین کے شہر نانجینگ سے شب کے بعد دو بج کر 39 منٹ پر روانہ ہوا۔

اس پروجیکٹ کا مقصد اس طیارے کے ذریعے پوری دنیا کا چکر لگانا ہے جبکہ ابھی یہ سنگل سیٹڈ پروپیلر کے ذریعے چلنے والا طیارہ اپنے ساتویں مرحلے میں ہے۔

مکمل طور پر شمسی توانائی پر چلنے والے اس طیارے کے سفر کا آغاز مارچ میں ابوظہبی سے ہوا تھا لیکن اسے چین کے ساحل پر ایک ماہ تک سازگار موسم کا انتظار کرنا پڑا۔

اس سولر امپلس نامی جہاز کو نہ صرف موافق ہوا کی ضرورت ہے بلکہ اسے صاف موسم کی بھی ضرورت ہوگی تاکہ اس کے پروں پر لگے 17 ہزار سیلز اپنی بہترین کارکردگی دے سکیں۔

اسی بارے میں