ایک ماہ کی تاخیر کے بعد خلاباز زمین لوٹنے کے لیے تیار

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption چھ جون کو سمنتھا کرسٹوفوریٹی سنگل مشن کے دوران 194 دنوں کے ساتھ خلا میں سب سے زیادہ وقت گزارنے والی خاتون بن گئیں

تین خلا باز بین الاقوامی خلائی سٹیشن سے زمین پر واپس لوٹ رہے ہیں۔ انھوں نے ایک ماہ قبل واپس آنا تھا تاہم راکٹ میں خرابی کے باعث ان کی واپسی کی کوشش ناکام ہوگئی تھی۔

تینوں خلابازوں نے 200 دن خلا میں رہنے کے بعد بین الاقوامی خلائی سٹیشن کا کنٹرول روسی خلاباز گینڈی پڈلکا کے حوالے کر دیا ہے۔

ان خلا بازوں میں سمنتھا کرسٹوفوریٹی بھی شامل ہیں، جو خلا میں کسی واحد مشن کے دوران سب سے زیادہ وقت گزارنے والی خاتون بھی بن گئی ہیں۔

ان کا خلائی جہاز سویوز بین الاقوامی خلائی سٹیشن سے برطانوی وقت کے مطابق صبح 11 بج کر 20 بجے روانہ ہو گا اور تین گھنٹوں کے زائد وقت کی مسافت کے بعد قازقستان میں اترے گا۔

ایکسپیڈیشن43 کے کمانڈر ٹیری ورٹس اور ان کے عملے کے ارکان انتون شکپلروف اور سمنتھا کرسٹوفوریٹی نے سات مہینوں سے زیادہ وقت کے دوران بین الاقوامی خلائی سٹیشنن میں سائنسی تحقیق اور ٹیکنالوجی کے استعمال سے متعلق تجربات کیے۔

ناسا کی جانب سے جاری ہونے والی پریس ریلیز کے مطابق انھوں نے 24 ستمبر سے شروع ہونے والے اس مشن میں اب تک آٹھ کروڑ 40 لاکھ میل کا سفر طے کیا ہے۔

انھوں نے ایک ماہ قبل واپس لوٹنا تھا تاہم ان کی روانگی اس وقت تاخیر کا شکار ہو گئی جب ان کے لیے سامان ترسیل کرنے والے خلائی جہاز میں خرابی پیدا ہوگئی۔ بغیر پائلٹ کے چلنے والا پروگریس ایم 27 ایم جب زمین کے مدار میں دوبارہ داخل ہوا تو اس میں آگ بھڑک اٹھی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption 24 ستمبر سے شروع ہونے والے اس مشن میں اب تک آٹھ کروڑ چالیس لاکھ میل کا سفر طے کیا

اس تاخیر کا مطلب ہے کہ چھ جون کو سمنتھا کرسٹوفوریٹی واحد مشن کے دوران 194 دنوں کے ساتھ خلا میں سب سے زیادہ وقت گزارنے والی خاتون بن گئیں۔

38 سالہ اطالوی خلاباز کے ٹوئٹر پر مداحوں میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوا جب انھوں نے بین الاقوامی خلائی سٹیشن سے روزمرہ کے کاموں مثلاً کھانا تیار کرنے کی ویڈیوز پوسٹ کیں۔

انھوں نے کافی بنانے کی ایک مشین بھی متعارف کروائی جو خاص طور خلا میں استعمال لیے بنائی گئی تھی۔

سویوز نامی خلائی جہاز ان تینوں خلا بازوں کو لے کر زمین پر برطانوی وقت کے مطابق آٹھ بج کر چار منٹ پر پہنچے گا۔

ایکسپیڈیشن 44 باقاعدہ طور پر سویوز کے لوٹنے کے بعد شروع ہو گا، جس کی سربراہی گینڈی پڈلکا کریں گے اور ان کے عملے کے ارکان میں امریکی خلاباز سکاٹ کیلی اور روسی خلا باز میخائل کورنینکو شامل ہوں گے۔

تین مزید خلا باز جولائی میں ان کے ساتھ شامل ہوں گے۔

اسی بارے میں