’اچھی یادداشت والے بچے زیادہ بہتر جھوٹ بولتے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption تحقیق کے دوران شمالی فلوریڈا، شیفلیڈ اور سٹرلنگ یونیورسٹیز کے محققین نے برطانوی سکولوں کے 114 بچوں پر تجربہ کیا

بچوں کی نفسیات کے امریکی اور برطانوی ماہرین کا کہنا ہے کہ اچھی یادداشت کے حامل بچے زیادہ بہتر جھوٹ بولتے ہیں۔

یہ بات ایک تحقیق کے نتیجے میں سامنے آئی جس میں چھ سے سات سال عمر کے بچوں کو ایک کھیل کے دوران بےایمانی کرنے اور پھر اس بارے میں جھوٹ بولنے کا موقع دیا گیا۔

تحقیق کے نتائج سے پتہ چلا کہ وہ بچے جو جھوٹ بولنے کے معاملے میں بہتر تھے، انھوں نے ہی زبانی یادداشت کے امتحانات میں بھی بہتر کارکردگی دکھائی تھی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ معلومات سے کھیلنے کا فن جانتے ہیں اور اس دوران اس میں کچھ ایسی معلومات بھی شامل کر دیتے ہیں جو سچ نہیں ہوتیں۔

تحقیق کے نتائج جرنل آف ایکسپیریمنٹل چائلڈ سائیکولوجی میں شائع کیے گئے ہیں۔

اس تحقیق کے دوران شمالی فلوریڈا، شیفلیڈ اور سٹرلنگ یونیورسٹیز کے محققین نے برطانوی سکولوں کے 114 بچوں پر تجربہ کیا۔

سوال جواب کے ایک کھیل کے دوران خفیہ کیمروں کی مدد سے وہ ان بچوں کی نشاندہی میں کامیاب رہے جنھوں نے بےایمانی کر کے سوال کا جواب دیکھنے کی کوشش کی جبکہ انھیں اس سے منع کیا گیا تھا۔

تاہم ایک دلچسپ چیز یہ دیکھنے کو ملی کہ 114 میں سے صرف ایک چوتھائی بچوں نے ہی نقل کرنے کی کوشش کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock
Image caption ہ وہ بچے جو جھوٹ بولنے کے معاملے میں بہتر تھے، انھوں نے ہی زبانی یادداشت کے امتحانات میں بھی بہتر کارکردگی دکھائی تھی

ان ایک چوتھائی بچوں سے بعدازاں کیے جانے والے سوالات سے ماہرین کو بہتر انداز میں جھوٹ بولنے والے بچوں کو تلاش کرنے میں مدد ملی۔

تحقیق کے دوران ماہرین خصوصاً یہ جاننے میں دلچسپی لے رہے تھے کہ نقل کرنے والے بچے اپنے عمل کو چھپانے کے لیے کیا جھوٹ گھڑتے ہیں۔

بعدازاں یادداشت کے علیحدہ ٹیسٹ میں بھی انھی بچوں نے بہتر کارکردگی دکھائی جنھوں نے سلیقے سے اپنے جھوٹ کو چھپایا تھا۔

ماہرین کے مطابق یہ بچے الفاظ یاد کرنے کے معاملے میں تو باقی بچوں سے آگے تھے جبکہ تصاویر کے معاملے میں ان کی یادداشت بقیہ بچوں جیسی ہی تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ بظاہر اس کی وجہ یہ ہے کہ جھوٹ بولنے کے دوران زیادہ تر کام زبانی بات چیت کا ہوتا ہے اور تصاویر کا اس سے زیادہ تعلق نہیں ہوتا۔

یونیورسٹی آف شیفیلڈ کی ڈاکٹر الینا ہوئیکا کا کہنا ہے کہ اگرچہ والدین اپنے جھوٹے بچوں پر فخر نہیں کرتے لیکن کم از کم ان کے لیے یہ اچھی خبر ہے کہ اگر ان کا بچہ جھوٹ بول کر اسے چھپانے پر قادر ہے تو یقیناً اس کی یادداشت بہت اچھی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’اب ہم جاننا چاہتے ہیں کہ بچے جھوٹ بولنا سیکھتے کیسے ہیں۔‘

اسی بارے میں