’زمین پر مخلوقات کے ناپید ہونے کا نیا دور شروع‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption زمیں کے ناپید ہونے کے خطرے میں موسمیات کی تبدیلی، آلودگی اور جنگلوں کی روزبروز کمی اہم وجوہات میں شامل ہیں

تین امریکی یونیورسٹیوں کی مشترکہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کرۂ ارض پر مخلوقات کی ناپیدی کا نیا مرحلہ شروع ہو چکا ہے اور انسان بھی اس کے متاثرین میں شامل ہو سکتا ہے۔

سٹینفورڈ، پرنسٹن اور برکلے یونیورسٹیوں کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا میں ریڑھ کی ہڈی والے جاندار 114 گنا زیادہ تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔

خیال رہے کہ گذشتہ سال ڈیوک یونیورسٹی نے جو رپورٹ شائع کی تھی تازہ رپورٹ اس کی تصدیق کرتی نظر آتی ہے۔

نئی تحقیقی رپورٹ کے ایک مصنف نے بتایا: ’ہم اب وسیع پیمانے پر ناپیدی کے چھٹے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں۔‘

اس طرح کا آخری مرحلہ ساڑھے چھ کروڑ سال قبل پیش آيا تھا جس میں ڈائنوسار ختم ہو گئے تھے اور عین ممکن ہے کہ ایک بڑے شہابیے کے زمین سے ٹکرانے کے سبب ایسا ہواتھا۔

نئی تحقیق کے سربراہ مصنف جیررڈو سیبیلوز نے کہا: ’اگر ایسا جاری رہا تو زندگی کو پھر سے بحال ہونے میں کروڑو‎ں سال لگ جائيں گے اور ہماری اپنی نسل کے جلد ہی ناپید ہونے کا خطرہ ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption تحقیق میں کہا گيا ہے شہد کی مکھیا تین انسانی نسلوں کے دوران پولینیشن یا زیرہ پوشی کی صلاحیت کھو دیں گي

سائنسدانوں نے فوسل یا متحجر جانداروں کی جانچ سے ریڑھ کی ہڈی والے جانداروں کے ناپید ہونے کی شرح کا تاریخی طور پر تجزیہ کیا ہے۔

اس سے انھیں یہ پتہ چلا کہ ناپید ہونے کی شرح اس وقت سے 100 گنا سے بھی زیادہ ہے جب بڑے پیمانے پر ناپید ہونے کا مرحلہ شروع نہیں ہواتھا۔

رپورٹ میں بتایا گيا ہے کہ سنہ 1900 سے اب تک 400 سے زیادہ ریڑھ کی ہڈی والے جانداروں کی اقسام نا پید ہو چکی ہیں۔

یہ مطالعہ سائنس ایڈوانسز نامی جرنل میں شائع ہوا ہے اور انھوں نے اس کی وجوہات میں آب و ہوا کی تبدیلی، آلودگی اور جنگلات میں کمی کو شمار کیا ہے۔

ایکو سسٹم جس طرح برباد ہو رہا ہے اگر ایسا ہی جاری رہا تو رپورٹ کے مطابق شہد کی مکھیاں تین انسانی نسلوں کی مدت میں اپنی زیرہ پاشی کی قوت کھو دیں گي۔

تصویر کے کاپی رائٹ sc
Image caption تحقیق کے مطابق اس سے قبل وسیع پیمانے پر ناپید ہونے کا واقعہ کسی بڑے شہابیے کے زمین سے ٹکرانے کے سبب ہوا تھا

سٹینفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر پال ارلچ نے کہا: ’اس طرح کی اقسام کی دنیا بھر میں مثالیں ملتی ہیں جو واقعتا مردہ ہیں مگر ابھی تک چلتی پھرتی نظر آتی ہیں۔‘

فطرت کے تحفظ کی بین الاقوامی یونین آئي یو سی این کے مطابق ہر سال تقریبا 50 اقسام کے جاندار ناپید ہونے کے قریب پہنچ رہے ہیں۔

اس میں کہا گيا ہے کہ بحر و بر دونوں جگہ رہنے والے جانداروں میں تقریبا 41 فیصد کو ناپیدی کا خطرہ ہے جبکہ ممالیہ (دودھ پلانے والے جانداروں) میں 25 فیصد ختم ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔

آئی یو سی این کے مطابق لیمور (ایک قسم کا بندر) کے ناپید ہونے کا خطرہ بہت زیادہ ہے۔

Image caption ناپید ہونے والے جانداروں میں لیمور کو سب سے زیادہ خطرہ لاحق ہے

گذشتہ سال ڈیوک یونیورسٹی کیرولینا کے ماہر حیاتیات سٹوارٹ پم نے بھی متنبہ کیا تھا کہ انسان وسیع پیمانے پر ناپید ہونے کے چھٹے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔

انھوں نے اپنی رپورٹ میں ناپید ہونے کے عمل کو 114 گنا تیزی کے بجائے ہزار گنا بتایا تھا۔

نئی تحقیق کے مصنفوں کا کہنا ہے کہ ابھی بھی حیاتیاتی تنوع میں ڈرمائی رفتار سے آنے والی کمی کو شدید تحفظاتی پروگرام کے ذریعے روکا جا سکتا ہے لیکن اس کے لیے بہت تیزی کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے۔

اسی بارے میں