کیڑے مار دوا لنڈین کینسر کا سبب

تصویر کے کاپی رائٹ

اقوام متحدہ کے ادارے ورلڈ ہیلتھ آگنائزیشن نے کہا ہے کہ لنڈین نامی کیڑے مار دوا کینسر کا موجب بنتی ہے۔ ادارے نے مزید کہا کہ ڈی ڈی ٹی اور ٹو فور ڈی نامی کیڑے مار ادویات بھی شاید کینسر کا سبب بن سکتی ہیں۔

انٹرنیشنل ایجنسی فار ریسرچ آن کینسر (آئی اے آر سی) کے ماہرین کے پینل نے کہا ہے کہ لنڈین نامی کیڑے مار دوا انسانوں میں لیمفوفا کینسر کا سبب بن سکتی ہے۔

لنڈین اب بھی کئی ترقی یافتہ ممالک میں استعمال ہوتی ہے۔

کینیڈا، انڈیا، چین اور امریکہ میں لنڈین کے اجزا اب بھی جوؤں اور سر میں کھجلی کے علاج کے لیےتیار ہونے ادویات میں استمعال کیے جاتے ہیں۔

آئی اے آر سی مزید اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ ڈی ڈی ٹی اور ٹو فور ڈی بھی شاید انسانوں میں کینسرکا سبب بن سکتی ہیں۔

ڈی ڈی ٹی کا استعمال 1970 سے بند ہو چکا ہے، لیکن یہ اب بھی انسانوں کو متاثر کر رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈی ڈی ٹی کے اثرات لمبے عرصے تک ماحول اور انسانوں میں رہ سکتے ہیں۔

ٹو فور ڈی جسے 1945 میں متعارف کرایاگیا تھا اور اس وقت سے فصلوں میں جڑی بوٹیوں کے خاتمے کے علاوہ جنگلات اور شہری رہائشی علاقوں میں کیڑے مارنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ شہروں میں اس کیڑے مار دوا کے چھڑکاؤ کے مضمر اثرات خوراک، پانی اور گرد کے ذریعے انسانوں تک پہنچتے ہیں۔

آئی اے آر سی کے سربراہ ڈاکٹر کرٹ سٹرییف کا کہنا ہے لنڈین سے متعلق زیادہ شہادتیں ایسے زرعی کارکنوں کی ہیں جن کا سامنا اس کیڑے مار دوا سے ہوتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایسے زرعی کارکن جنھیں لنڈین کا سامنا ہے ان میں کینسر کے مرض میں لاحق ہونے کے امکانات 50 فیصد بڑھ جاتے ہیں ۔

لنڈین کا استعمال اب بہت محدود ہو چکا ہے اور اب اسے جوؤں اور سر میں کھجلی کے علاج کے لیے تیار ہونے والی ادویات میں استعمال کیا جاتا ہے جس سے انسان متاثر ہوتے ہیں۔

اسی بارے میں