’جوانی میں بڑھاپا، ادھیڑ عمر نوجوانی‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

ہم عمر لوگوں پر کی گئی ایک تازہ تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ تقریباً یکساں عمر کے باوجود اُن کے جسموں پر وقت گزرنے کا اثر بالکل مختلف انداز میں ہوا۔

یہ تحقیق ایسے افراد پر کی گئی جو ایک ہی برس کے اندر پیدا ہوئے تھے۔

پروسیڈنگز آف دا نیشنل اکیڈمی آف سائنسز میں شائع ہونے والی تحقیق کی رپورٹ میں اِن افراد کے وزن، مسوڑھوں کی حالت اور گردوں کی کارکردگی وغیرہ کا جائزہ لیا گیا ہے۔

نتائج بڑے حیران کن ہیں اور 38 برس کی عمر کے بعض افراد کی صحت اتنی بگڑ چکی تھی گویا وہ ریٹائرمنٹ کی حدوں پر ہوں۔

محققین کا کہنا ہے کہ اگلے مرحلے میں اس پر تحقیق کی جائے گی کہ وہ کیا چیز ہے جو عمر کے اثرات کی رفتار کو متاثر کرتی ہے۔

محققین کے اس بین الاقوامی گروپ نے نیوزی لینڈ کے ایک ہی قصبے کے 954 ایسے افراد پر تحقیق کی جو سب کے سب سنہ 1972 اور 1973 کے ایک برس کے دوران پیدا ہوئے تھے۔

تحقیق کے دوران سائنس دانوں نے اِن افراد کی عمر رسیدگی سے متعلق 18 مختلف خصوصیات کا اُس وقت مطالعہ کیا جب اِن لوگوں کی عمریں 26 ، 32 اور 38 برس تھیں۔

نتائج میں سامنے آیا کہ 38 برس کی عمر میں کئی افراد کی علامات 20 کے پیٹے سے لے کر 60 برس کی طبعی عمر کے افراد سے مل رہی تھیں۔

محققین میں سے ایک امریکہ کی ڈیوک یونیورسٹی کی پروفیسر ٹیری موفٹ کے مطابق ان افراد میں ناپختگی سے لے کر توانائی کی کمی تک کے آثار ملے۔

تحقیق کے نتائج سے سامنے آیا کہ بعض افراد میں تو عمر رسیدگی تحقیق کی پوری مدت کے دوران جیسے رک سی گئی تھی جبکہ کچھ دوسرے لوگوں میں ہر گزرتے سال میں عمر کے اثرات تین برس کی مدت جیسے ظاہر ہو رہے تھے۔

زیادہ طبعی عمر کے افراد ذہنی صلاحیت کے لحاظ سے خراب کارکردگی دکھا رہے تھے اور اُن کی گرفت بھی کمزور ہو چکی تھی۔

لیکن زیادہ تر افراد کی طبعی عمر اُن کی اصل عمروں کے ہی نزدیک تھی۔ یہ بھی واضح نہیں ہوسکا کہ تحقیق میں جانچے گئے عوامل گزرتے وقت کے اثرات کو طبعی عمر بڑھنے کی رفتار میں کیسے متاثر کرتے ہیں۔

پروفیسر موفٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ زندگی کے کسی بھی شعبے میں عددی عمر کا استعمال غلط ہے کیونکہ اگر ہمیں طبعی عمر معلوم ہے تو شاید ہم زیادہ مساوی اور منصفانہ برتاؤ کر سکیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ ریٹائرمنٹ کی عمر کا نفاذ اُن لوگوں کے ساتھ ناانصافی ہو سکتی ہے جو اپنی بھرپور صلاحیت کے ساتھ کام کر رہے ہوں۔

محققین کہتے ہیں کہ اُن کے لیے عمر کے اتنے کم وقت میں اتنے زیادہ فرق کو جاننا خاصا غیرمتوقع تھا لیکن یہ دریافت ایسے طریقوں کو جاننے میں مددگار ہو سکتی ہے جن سے بڑھتی عمر کے اثرات کم کیے جا سکیں اور یہ چیز نئی ادویات بنانے کے لیے بہت اہم ہو سکتی ہے۔

پروفیسر موفٹ کا کہنا تھا کہ اگر ہم عمر رسیدگی کے اثرات اور اس کے ساتھ آنے والی بیماریوں کو روکنا چاہتے ہیں تو ہمیں یہ کام لوگوں کی نوجوانی کے دنوں میں کرنا ہوگا۔

کنگز کالج لندن کی ڈاکٹر اینڈریا ڈینیز کا کہنا ہے کہ یہ بات حیران کن ہے کہ آپ نوجوان لوگوں میں اس طرح کی تبدیلیوں دیکھیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ کہ یہ پہلا قدم ہے کہ یہ جانا جا سکے کہ عمر بڑھنے کے اثرات کن عوامل کی وجہ سے ہیں اور اِس کے ذریعے یہ ممکن ہوسکے گا کہ ہم بیماریوں کو بالکل ابتدا میں روک سکیں گے۔

اسی بارے میں