گوگل اور فیس بک پر جرمانہ

تصویر کے کاپی رائٹ

برازیل کی ایک عدالت نے گوگل اور فیس بک پر نامناسب تصاویر کو اپنی ویب سائٹس سے نہ ہٹانے پر دس ہزار پاونڈ جرمانہ کیا ہے۔

فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق گزشتہ مہینے ایک عدالت نے چوبیس جون کو کار کے حادثے میں ہلاک ہونے والے برازیلی گلوکار کرسٹیانو آرایوجو کی انتہائی دلخراش تصاویر کو آن لائن پر جاری کرنے سے روکنے کا حکم دیا تھا۔

ان کی کار کے حادثے کے مقام اور مردہ خانے میں ان کی لاش کی تصاویر ویب سائٹوں پر پوسٹ کی گئی تھیں۔

منگل کو ایک جج نے فیصلہ سنایا کہ فیس بک اور گوگول نے عدالت کی طرف سے عائد کردہ اس پابندی کو نظر انداز کیا۔

جج ڈینیزگونڈم ڈی میڈونکانے کہا کہ گوگل اور فیس بک نے ان تصاویر کے لنکس نہ ہٹا کر ’بد اعتمادی‘ کا مظاہرہ کیا۔

تصویریں آن لائن شیئر نہ کرنے کا حکم 25 جون کو دیا گیا تھا۔ جج ولیم فیبیئن کا کہنا تھا کہ اس طرح کا مواد آن لائن دکھانا ’باعثِ تشویش اور غیر صحت مندانہ ہے۔‘

انھوں نے ’دنیا بھر میں کمپیوٹر کے ذریعے اس طرح کے مواد کو پھیلانے سے فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔‘

جو کمپنیاں اس پابندی کی تعمیل کرنے میں ناکام ہوں گی انھیں روزانہ کی بنیاد پر دو ہزار پاؤنڈ جرمانہ کیا جائے گا۔

بی بی سی نے فیس بک اور گوگل سے رابطہ کیا ہے لیکن دونوں کمپنیوں نے ابھی تک کوئی ردِعمل نہیں دیا۔

فیس بک استعمال کرنے والوں کی ہدایات میں لکھا ہے کہ کچھ واضح تصاویر دکھائی جا سکتی ہیں لیکن وہ تصاویر جنھیں ’ایذا پہنچا کر تسکین کی خاطر شیئر کیا جائے ‘ وہ ہٹا دی جاتی ہیں۔

سنہ 2012 میں بھارت میں دہلی ہائی کورٹ نے فیس بک اور گوگل سے کہا تھا کہ وہ ’ایسا طریقۂ کار بنائیں جس سے ان کے ویب صفحات پر نہ صرف دل آزاری کرنے والے اور قابلِ اعتراض مواد کا پتہ مل سکے بلکہ اسے ہٹایا بھی جا سکے۔‘

عدالت نے انتباہ کیا تھا اگر گوگل اور فیس بک نے اس حکم کی تعمیل نہ کی تو دونوں کو بھارت میں بلاک کر دیا جائے گا۔ دونوں سائٹس نے عدالت کے حکم پر اتفاق کیا تھا۔