وقت کو پیسے میں تبدیل کرنے والی ویب سائٹ

بیلیو تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بیلیو کے اراکین ایک دوسرے کو مدد کی پیش کش کرتے ہیں اور اس کے بعد ملنے والے کریڈٹ سے سروس خریدتے ہیں

ماریتزا ریبوکاس ساؤ پاؤلو کے یارڈم سانٹا آئنیس علاقے میں رات گئے تک اپنے اپارٹمنٹ میں کام کرتی ہیں۔

وہ چند منٹ پہلے آن لائن پر ملنے والے کسی شخص کو سکائپ کے ذریعے سانس لینے کی تکنیک سکھا رہی ہیں۔

ماریتزا دن میں تو سیلز پرسن کا کام کرتی ہیں لیکن رات کو وہ بے چینی اور ذہنی دباؤ کے شکار لوگوں کو سانس لینے کے طریقہ بطور کوچ کے سکھاتی ہیں۔

انھوں نے پروفیشنل یوگا کی تربیت حاصل کی ہے اور 30 پاؤنڈ فی سیشن لے سکتی ہیں۔ اور یہاں گاہک ڈھونڈنا بھی اتنا مشکل نہیں ہے۔

لیکن مارتیزا برازیلی ریئس، پاؤنڈ یا ڈالر نہیں لے رہیں بلکہ ان کو ورچوئل کرنسی ٹائم منی مل رہی ہے۔

وہ بیلیو کے 100,000 صارفین میں سے ایک ہیں جو برازیل میں بنائی جانے والی ایک ویب سائٹ اور دنیا کا سب بڑا ٹائم ایکس چینج پلیٹ فارم ہے۔

بیلیو سوشل میڈیا کی طرح ہی کام کرتی ہے۔ اس کے صارفین سروسز کی تجارت کرتے ہیں جن میں گٹار کے سبق سکھانے سے لے کر ایئر کنڈیشنر کی مرمت اور ٹیرو کارڈ پڑھنا شامل ہے اور یہ سب بغیر کسی کریڈٹ کارڈ اور پیسے کے لین دین کے ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ماریتزا اپنی ٹیبلٹ کے کیمرے کے ذریعے سانس لینے کے طریقے سکھاتی ہیں

ہر گھنٹے کی سروس دینے کے بدلے اس کے صارفین کو ٹائم منی ملتا ہے جس سے وہ کوئی دوسری سروس خرید سکتے ہیں۔

ماریتز نے بیلیو کے 40 گھنٹے کی سروسز کمائیں۔ اس ٹائم منی سے انھوں نے سانس لینے کی تکنیک کے متعلق اپنی ویب سائٹ بنوائی۔

انھوں نے کہا کہ ’مجھے بتایا گیا تھا کہ اپنی ویب سائٹ کسی سے بنوانا سستا نہیں ہے۔

’لیکن میں یہ سب ان لوگوں کی مدد سے کرنے کے قابل ہوئی جن کو میں نے بیلیو پر ڈھونڈا تھا۔‘

ہر شخص ایک گھنٹے کے ٹکڑے میں اپنی سروسز مہیا کرتا ہے اور جو لوگ ٹائم منی کا تبادلہ کرتے ہیں وہ اس سے ملنے والی سروسز کو ریٹ اور اس پر تبصرہ بھی کر سکتے ہیں۔

بیلیو کو ڈیڑھ سال پہلے تعلقات عامہ کی ایک 24 سالہ طالبہ لورانا سکارپیونی نے بنایا تھا۔

اب ان کے پاس ساؤ پاؤلو میں ایک درجن کے قریب ملازمین کی ٹیم ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو نے لورانا کو 35 سال کی عمر کے اندر برازیل کے سب سے اعلیٰ تخلیق کاروں میں سے ایک کہا ہے

ان کو یہ خیال شیئرنگ اکانومی اور متبادل کرنسیوں کے متعلق دستاویزی پروگرام دیکھنے کے بعد آیا۔

وہ کہتی ہیں کہ ’اگر لوگ کاؤچ سرفنگ کے لیے تیار ہو جاتے ہیں اور مکمل طور پر اجنبی لوگوں کو اپنے گھروں میں گھسنے دیتے ہیں، تو یقیناً ایک گھنٹے کی سروس کے تبادلے جیسی سادہ چیز کے لیے بھی گنجائش ہو گی۔‘

’بیلیو وقت کے تبادلے کے لیے ساتھ مل کر کام کرنے کا نیٹ ورک ہے۔‘

بیلیو میں شمولیت کے لیے کوئی پیسہ نہیں دینا پڑتا۔

بیلیو اکانومی کے اشتراک کے تصور کو اوبر اور ایئر بی این بی سے بھی ایک قدم آگے لے جاتی ہے۔

یہ سروسز کی رسد اور طلب کا ایک نیا چینل بناتا ہے اور روایتی کیش سے بالکل مختلف ہے۔

اس ویب سائٹ پر 90,000 سے زیادہ سروسز پیش کی گئی ہیں۔

اس بات کا تخمینہ لگانا تو بہت مشکل ہے کہ ٹائم منی کی مالیت خود کتنی ہو گی کیونکہ بیلیو کی سروسز نوعیت اور قدر کے حوالے سے بدلتی رہتی ہیں۔

لیکن مارتیزا کی مثال کو سامنے رکھتے ہوئے 30 پاؤنڈ فی گھنٹہ کے حساب سے تو یہ لگتا ہے کہ اس نے 20 لاکھ پاؤنڈ کی قدر کی سروسز مہیا کی ہیں۔

اور یہ سب تجارت قانونی طور پر ٹیکس فری شکل میں ہوئی ہے کیونکہ حکام چیز کے بدلے چیز دینے کی معیشت پر ٹیکس نہیں لگا سکتے۔

تاہم لورانا کوشش کر رہی ہیں کہ وہ کارپوریٹ گاہکوں کے لیے پیسوں کے بدلے میں سروس دینا شروع کریں۔

کمپنیاں ہر ملازم کو تین پاؤنڈ ماہانہ تک دے سکتی ہیں تاکہ ان کے ملازمین بیلیو کے ذریعے پروفیشنل یا نجی سروسز کا تبادلہ کر سکیں۔

لورانا یورپی مارکیٹوں میں بھی ممکنہ طور پر اس کی کافی ترقی دیکھ رہی ہیں جہاں زیادہ صارف شیئرنگ اکانومی کے تصور سے متعارف ہیں۔ اس لیے بیلیو نے یو کے شیئر میں شمولیت اختیار کی ہے۔ ایک سروے کے مطابق برطانیہ میں 30 فیصد سے زیادہ لوگوں نے ایسی کوئی سروس استعمال کر رکھی ہے۔

وہ یونان اور سپین کی مارکیٹوں میں بھی اس کے مواقع دیکھ رہی ہیں کیوں کہ وہاں نوجوانوں کے لیے ملازمتوں کے ذرائع کم ہیں اور لوگوں کے پاس سروسز استعمال کرنے کے لیے یورو کم ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ پیسے کو استعمال کیے بغیر ہونے والی منتقلی لوگوں کی ترقی میں ایک اچھا متبادل ہو سکتی ہے۔ ’ہم بہت سے لوگوں کو دیکھتے ہیں جنھوں نے اچھی ڈگریوں کے ساتھ گریجویشن کی ہے لیکن ان کے پاس نوکریاں نہیں ہیں۔‘

اگرچہ بیلیو اب ایک زیادہ منافع بخش کاروبار بننا چاہتی ہے، لیکن لورانا اس کے ساتھ ساتھ اس کی بنیادی اقدار کو بھی بغیر تبدیلی کے قائم رکھنا چاہتی ہیں۔

اسی بارے میں