ننٹنڈو کے سربراہ ساٹورا اواٹا انتقال کرگئے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گیمنگ انڈسٹری کے تجزیہ کاروں نے ان کے مارکیٹ میں دیر سے آنے کے فیصلے پر سوال اٹھائے

جاپانی ویڈیو گیم بنانے والی معروف کمپنی ننٹنڈو کے چیف ایگزیکٹیو ساٹورا اواٹا 55 سال کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔

وہ کینسر کے مرض میں مبتلا تھے۔

اواٹا کی گذشتہ برس سرجری ہوئی تھی اور انھوں نے اس کے بعد دوبارہ دفتر سنبھال لیا تھا۔

جاپانی مارکیٹ میں قابلِ احترام شہرت رکھنے والے اواٹا نے سنہ 2000 میں کمپنی کو جوائن کیا اور انھوں نے ننٹنڈو کی مقبول ترین ویڈیو گیمز اور ڈیوائسز بنائے۔

حال ہی میں انھوں نے ننٹنڈو کو تیزی سے بڑھتی موبائل گیمنگ مارکیٹ میں متعارف کروایا۔

1980 کی دہائی میں جاپان میں پلے بڑھے بچوں میں سپر ماریو کی گیم انتہائی مقبول تھی۔ لیکن 90 کی دہائی میں گیمینگ کا شوق رکھنے والوں کی تعداد میں خاطر خواہ کمی دیکھنے کو ملی۔ اواٹا کو اس بات کا اندازہ تھا کہ انھیں مارکیٹ میں کچھ نیا لے کر آنا ہوگا جو کہ گیمنگ کا شوق نہ رکھنے والوں کے لیے بھی پر کشش ثابت ہو۔

اور انھیں اس میں کامیابی سنہ 2004 میں ننٹنڈو ڈی ایس گیمنگ کنسول کی صورت میں ملی اور جلد ہی یہ دنیا کا سب سے زیادہ بکنے والا کنسول بن گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ NINTENDO
Image caption 1980 کی دہائی میں جاپان میں پلے بڑھے بچوں میں سپر ماریو کی گیم انتہائی مقبول تھی

دو سال بعد انھوں نے ننٹنڈو وی متعارف کروایا۔ جس کے بارے میں مشہور تھا کہ یہ ایک ایسا گیمنگ کنسول ہے جسے آپ کی دادی بھی کھیل سکتی ہیں۔ ان دونوں گیمنگ مصنوعات نے دنیا بھر میں گیمنگ کا شوق نہ رکھنے والے لوگوں کو بھی اپنی طرف مائل کیا۔

لیکن موبائل فون کی مقبولیت نے ایک بار پھر ننٹنڈو کو خطرات سے دوچار کردیا اور گیمنگ انڈسٹری کے تجزیہ کاروں نے ان کے مارکیٹ میں دیر سے آنے کے فیصلے پر سوال اٹھائے۔

اواٹا خود کہتے تھے کہ ان کا دماغ گیم ڈیویلیپر کا ہے لیکن دل سے وہ ایک گیمر ہیں۔

ننٹنڈو کے حریف سونی اور مائیکرو سافٹ اب گیمنگ مارکیٹ میں گیمنگ کنسول پلے سٹیشن اور ایکس باکس کی مدد سے ننٹنڈو سے بازی لے رہے ہیں۔

اسی بارے میں