نیو ہورائیزنز پلوٹو کے قریب سے گزرنے کے لیے تیار

تصویر کے کاپی رائٹ NASA
Image caption سائنسدان پلوٹو اور اس کے چاند کھیران کے درمیان ظاہری فرق کو حیرت انگیز قرار دے رہے ہیں

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ نیو ہورائزنز مشن اس ہفتے پلوٹو کے قریب سے گزرنے کے لیے ہمہ دم تیار ہے۔ پیر کی صبح امریکی خلائی ایجنسی ناسا کے مشن نیو ہورائزنز اور بونے سیارے پلوٹو کا فاصلہ دس لاکھ میل رہ گیا ہے اور یہ فاصلہ تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے۔

منگل کو پلوٹو کے قریب سے انتہائی تیزی سے گزرتے ہوئے نیوہورائزنز کے پاس اس کی تفصیلی تصاویر اور اس کے بارے میں دیگر سائنسی معلومات اکٹھی کرنے کے لیے مختصر وقت ہوگا۔

نیو ہورائیزنز کو پلوٹو کی جو بھی معلومات اکٹھی کرنی ہیں وہ چند گھنٹوں میں ہی کرنی ہوں گی۔ پلوٹو اور زمین کے درمیان فاصلہ پانچ ارب کلومیٹر ہے اور اگر آپ زمین پر کوئی پیغام پہنچانا چاہتے ہیں تو وہ چند گھنٹوں کی تاخیر سے پہنچے گا۔ یہی وجہ ہے کہ اس مشن کو براہ راست کنٹرول نہیں کیا جاسکتا اور مشن کو مکمل کرنے لیے کے کمپیوٹر کو پہلی ہی سے دی گئی کمانڈز پر عمل کرنا ہو گا۔

اتوار کو انجینئیرز نے اس بات کی تصدیق کی کہ نیو ہورائیزنز کے کمپیوٹرز میں پہلے سے فیڈ کی گئی کمانڈز کے علاوہ مزید کمانڈز نہیں بھجوائی جائیں گی۔

خلا کو جاننے کی کوششوں میں یہ ایک تاریخی لمحہ ہے۔ نیو ہورائیزنز کے کامیاب مشن کے بعد نو کلاسیکل سیاروں کے بارے میں معلومات اور جانکاری مکمل ہو جائے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ nasa
Image caption نیو ہورائیزنز کے کامیاب مشن کے بعد نو کلاسیکل سیاروں کے بارے میں معلومات اور جانکاری مکمل ہو جائے گی۔

نیو ہورائیزنز پراجیکٹ کے سربراہ گلن فاؤنٹن نے رپورٹرز کو بتایا کہ انہوں نے اپنی ٹیم کو کہا ہے کہ یہ ان سب کے لیے ایک تاریخی موقع ہے اور انہیں اسے محسوس کرنا چاہئیے۔ میں نے انہیں بتایا کہ ’زندگی میں ایسے شاذونادر مواقع آپ کو کتنی بار ملتے ہیں جب آپ خود سے بہت بڑے کام کا حصہ ہوں۔‘

نیو ہورائیزنز جیسے جیسے پلوٹو کے قریب پہنچ رہا ہے، ویسے ویسے پبلک کے لیے تصاریر بھی ریلیز کی جا رہی ہیں۔ نئی تصاریر میں پلوٹو کے سب سے بڑے چاند کھیران کی تصاویر بھی شامل ہیں۔ سائنسدان پلوٹو اور کھیران کے درمیان ظاہری فرق کو حیرت انگیز قرار دے رہے ہیں۔ پلوٹو کا رنگ سرمئی جب کہ کھیران کا رنگ خاصا سرخ ہے۔

تھیوری کے مطابق پلوٹو اور اس کے چاند کی موجودہ حالت ماضی قدیم کے ایک ٹکراؤ سے ہوئی تھی اسی لیے ان میں کچھ مشترک خاصیتیں بھی ہونی چاہئیں۔ لیکن نیو ہورائزنز کے پرنسپل تحقیق کنندہ ایلن سٹرن کا کہنا ہے کہ یہ دونوں بلکل مختلف ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ REUTERS NASA
Image caption نیو ہورائزنز کا ہائی ریزولیوشن کیمرہ ’لوری‘ اس فیصلے سے سیارے کی تصاویر کھینچ سکے گا جس کی ریزولیوشن100 میٹر فی پکسل سے بھی اچھی ہے

نیو ہورائزنز‘ پلوٹو کے سب سے قریب 14 جولائی کو گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق صبح 11 بج کر 50 منٹ پر پہنچے گا اور اس وقت اس کی دوری پلوٹو کی سطح سے محض 12500 کلومیٹر ہوگی۔

نیو ہورائزنز کا ہائی ریزولیوشن کیمرہ ’لوری‘ اس فیصلے سے سیارے کی تصاویر کھینچ سکے گا جس کی ریزولیوشن100 میٹر فی پکسل سے بھی اچھی ہے۔

جان ہوپکنز یونیورسٹی میں نیو ہورائزنز کی ٹیم اس سگنل ملنے کا شدت سے انتظار کر رہی ہو گی کہ بغیر کسی حادثے کے پلوٹو کے قریب سے گزرنے کا مشن مکمل ہو چکا ہے۔ یہ پیغام برطانوی وقت کے مطابق بدھ صبح 12:53 ملنا شروع ہو جانا چاہئیے۔

نیو ہورائزنز مشن کی مینیجر الیس براؤن نے بی بی سی کو بتایا کہ ابتدائی معلومات سے اندازہ ہو جائے گا کہ اس مشن کے لیے جیسے مقاصد متعین کئے گئے کیا وہ اسی طرح حاصل کیے گئے؟ ان کا کہنا تھا کہ ایسے کوئی عوامل نہیں جس سے کہ یہ سوچا جا سکے کہ جو حاصل کیا جانا تھا وہ حاصل نہ ہو۔

بدھ کے روز اس مشن کی مزید تصاویر جاری کی جائیں گی۔

اسی بارے میں