پلوٹو پر بلندوبالا برفانی پہاڑوں کی موجودگی کا انکشاف

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption نیو ہورائزنز ساڑھے نو برس میں پانچ ارب کلومیٹر کا سفر طے کر کے پلوٹو تک پہنچا

امریکی خلائی ادارے ناسا نے خلائی جہاز نیو ہورائزنز سے حاصل ہونے والی پلوٹو کی جو پہلی تصاویر جاری کی ہیں ان سے پتہ چلا ہے کہ اس سیارے پر شمالی امریکہ کے پہاڑی سلسلے راکیز جتنے بلند برفانی پہاڑ موجود ہیں۔

سائنسدانوں کی ٹیم نے پلوٹو پر دل کے نشان والے علاقے کو کلائیڈ ٹومبا کا نام دیا ہے۔ کلائیڈ نے سنہ 1930 میں پلوٹو کو دریافت کیا تھا۔

نیو ہورائزنز منگل کو پلوٹو کے قریب سے گذرا تھا اور اس وقت اس کا پلوٹو سے فاصلہ صرف ساڑھے 12 ہزار کلومیٹر تھا۔

اس خلائی جہاز نے پلوٹو کےبارے میں بہت زیادہ ڈیٹا بھیجا ہے جس میں سے کچھ تصاویر جاری کی گئی ہیں۔

اس مشن کے سائنسدان جان سپینسر نے صحافیوں کو بتایا پلوٹو کی سطح پر قریب سے لی گئی پہلی تصاویر میں دکھائی دیتا ہے کہ گذشتہ 100 ملین سالوں کے دوران آتش فشانی جیسے ارضیاتی عمل کے نتیجے میں زمینی سلسلہ نمودار ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا ’اس تصویر میں ہمیں ایک بھی گڑھا نظر نہیں آیا جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ سلسلہ بہت زیادہ پرانا نہیں ہے۔‘

مشن کے چیف سائنسدان ایلن سٹرن کا کہنا تھا کہ اب ہمارے پاس ایک الگ دنیا میں چھوٹے سیارے کی معلومات ہیں جو ساڑھے چار ارب برسوں کے بعد کی سرگرمی کو ظاہر کرتا ہے۔

ایلن سٹرن نے کہا کہ اس دریافت سے سائنسدان پلوٹو کا ازسرِ نو جائزہ لیں گے۔

انھوں نے کہا کہ تصویر سے پتہ چلتا ہے کہ پلوٹو میں دل کی شکل کا علاقہ ہے اور اس کے کنارے پر 11,000 فِٹ اونچا ایک پہاڑی سلسلہ ہے جس کا موازنہ سائنسدانوں نے شمالی امریکہ کے پہاڑی سلسلے راکیز سے کیا ہے۔

جان سپینسر کے مطابق پلوٹو پر میتھین، کاربن مونو آکسائیڈ اور نائٹروجن والی برف کی ایک دبیز تہہ ہے جو اتنی مضبوط نہیں کہ اس سے پہاڑی سلسلہ بن سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ پلوٹو کے درجۂ حرارت پر برفیلا پانی بڑے پہاڑوں کو سہارا دے سکتا ہے۔

پلوٹوکی نئی تصویر سے پتہ چلتا ہے اس پر چار سے چھ میل لمبا ایک شگاف ہے جو اس بات کا مزید ثبوت ہے کہ وہاں پہاڑی سلسلہ متحرک ہے۔

نیو ہورائزنز منگل 14 جولائی کو گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق صبح 11:50 پر اس سیارے کے قریب ترین پہنچا اور اس کا پلوٹو سے فاصلہ صرف 12,500 کلومیٹر تھا۔

پلوٹو کے قریب سے 14 کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے گزرتے ہوئے نیو ہورائزنز نے سیارے کی تفصیلی تصاویر کھینچیں اور اس کے بارے میں دیگر سائنسی معلومات اکٹھی کیں۔

نیو ہورائزنز کا 2370 کلومیٹر چوڑے پلوٹو کے قریب سے گزرنا خلا کو جاننے کی تاریخ کا انتہائی اہم لمحہ ہے۔

اس کامیابی کے نتیجے میں عطارد سے لے کر پلوٹو تک نظامِ شمسی کے تمام نو کلاسیکی سیاروں تک کم از کم ایک خلائی سفر کا عمل مکمل ہو گیا ہے۔

اسی بارے میں