ایبولا ویکسین کے’غیر معمولی نتائج‘ برآمد ہوئے ہیں

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

ایبولا وائرس کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار کی گئی ایک ویکسین کے ابتدائی نتائج کے بعد یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس کے نتیجے میں بیماری سے 100 فیصد تحفظ حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

عالمی ادارۂ صحت نے کہا ہے کہ نئی ویکسین سے ایبولا کا مقابلہ کرنے کا طریقہ مکمل طور پر تبدیل ہو جائے گا۔

خیال رہے کہ سنہ 2013 میں شروع والی اس بیماری سے بچاؤ کی اس سے پہلے کوئی ویکسین یا دوائی موجود نہیں تھی۔

عالمی ادارۂ صحت کا کہنا ہے کہ اس ویکسین کے نتائج جو لینسٹ نامی جریدے میں شائع کیے جا رہے ہیں ایبولا کے خلاف ’گیم چینجر‘ یا صورتحال بالکل تبدیل ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ویکسین کے نتائج ’غیر معمولی‘ ہیں۔

وی ایس وی ای بی او وی نامی اس ویکسین پر ابتدائی طور پر کام سب سے پہلے کینیڈا کی پبلک ہیلتھ ایجنسی میں شروع کیا گیا اور اس کے بعد مرک نامی ادویات تیار کرنے والی کمپنی نے اس ویکیسن پر مزید کام کیا۔

افریقی ملک گنی میں ایک منفرد کلینلک ٹیسٹ کیا گیا جس میں ایبولا سے متاثرہ ایک مریض کو لایا گیا جس کے بعد ایک متاثرہ شخص کے دوستوں، ہمسایوں اور اس کے خاندان کو یہ ویکسین دے کر ایبولا کے خلاف ’حفاظتی حصار‘ بنایا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

واضح رہے کہ رواں برس اپریل سے جولائی تک 100 مریضوں کو جب ایبولا کا مرض لاحق ہوا جس کے بعد ان کے قریبی عزیزوں اور رشتہ داروں کو فوراً یا تین ہفتوں کے بعد یہ ویکسین دی گئی۔

اس ویکسین کے فوراً بعد ان افراد کو ایبولا کا مرض لاحق نہیں ہوا۔

عالمی ادارۂ صحت کا کہنا ہے کہ ابھی تک اس ویکسین کے 100 فیصد نتائج موثر رہے ہیں تاہم جیسے جیسے مزید ڈیٹا اکھٹا ہو گا اس کے اعداد وشمار تبدیل بھی ہو سکتے ہیں۔

ڈبلیو ایچ میں کام کرنے والے ایک اسسٹنٹ ڈائریکٹر میری پال نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ ویکسین یقینی طور پر امید افزا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

انھوں نے کہا کہ ہم نے مشاہدہ کیا ہے کہ جن مریضوں کو یہ ویکسین دی گئی ان میں ایبولا منتقل نہیں ہوا۔

واضح رہے کہ ایبولا کے پھیلنے سے اب تک 11,000 سے زائد افراد ہلاک جبکہ 28,000 سے زائد متاثر ہوئے تھے۔

ایبولا وائرس متاثرہ شخص کی جسمانی رطوبتوں کے ذریعے دوسرے لوگوں تک پھیل سکتا ہے۔ اس سے ابتدا میں زکام جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں اور بعد میں آنکھوں اور مسوڑھوں سے خون رسنا شروع ہو جاتا ہے۔

جسم کے اندر خون جاری ہو جانے سے اعضا متاثر ہو جاتے ہیں۔ وائرس سے متاثرہ 90 فیصد تک لوگ ہلاک ہو جاتے ہیں۔

اسی بارے میں