پسماندہ علاقوں کے لیے فیس بک کا انٹرنیٹ ڈرون

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock
Image caption فیس بک کا انٹرنیٹ ڈرون 90 دن تک فضا میں رہنے کی صلاحیت رکھتا ہے

فیس بک نے دنیا کے پسماندہ علاقوں میں انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کرنے کے لیے انٹرنیٹ ڈرون بنانے کا اعلان کیا ہے۔ اس ڈرون کے ذریعے فراہم کی جانے والی انٹرنیٹ کی رفتار 10 جی بی فی سکینڈ تک ہو سکتی ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ اس ڈرون کے پر بوئنگ 737 جیسے ہیں اور یہ 90 ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کر سکتا ہے۔

فیس بک کا انٹرنیٹ ڈرون 90 دن تک فضا میں رہنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

امریکہ میں تجریاتی بنیادوں پر ڈرون انٹرنیٹ سروس کا آغاز رواں سال کے آخر میں ہو گا۔

کمپنی میں گلوبل انجئیرنگ امور کے نائب صدر جے پاریک کا کہنا ہے کہ یہ ڈرون برطانیہ کی ایروسپیس ٹیم نے ڈیزائن کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’ہمارا مقصد نئی ٹیکنالوجی میں ترقی کی رفتار بڑھانا ہے تاکہ انٹرنیٹ انفراسٹیکچر میں تبدیلی آ سکے۔‘

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک کا یہ منصوبے ترقی پذیر ممالک کو قریب لانے کے ایک پروجیکٹ کا حصہ ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس حکمت عملی سے فیس بک کے صارفین کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔

مسٹر پاریک نے ڈرون ٹیکنالوجی کو ’اہم ترین پیش رفت‘ قرار دیا۔

’ڈیزائن کرنے کے بعد لیزر کا لیب ٹیسٹ کیا گیا ہے اور یہ فی سکینڈ دس جی بی ڈیٹا بھیجاتا ہے جو اس وقت انٹرنیٹ کی رفتار کے مقابلے میں دس گنا زائد ہے۔‘

اب ہم حقیقی دنیا کے حالات میں لیزر کا تجربہ کر رہے ہیں

دوسری جانب ماہرین اپنی مارکیٹ کے علاوہ دوسرے شعبوں میں فیس بک کے تجربات پر تنقید بھی کر رہے ہیں۔

فیس بک نے جب انٹرنیٹ ڈاٹ او ار جی (internet.org) کا اجر کیا تھا تو اُس سے بھارت کی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں خدشات بڑھ گئے تھے۔ اس سروس کی مدد سے موبائل فون پر کچھ ویب سائٹس تک مفت رسائی کو فراہم کی گئی تھی۔

اسی بارے میں