یروشلم میں عبرانی زبان میں قدیم تحریریں دریافت

تصویر کے کاپی رائٹ Israel Antiquities Authority
Image caption ماہرین ان علامات کو سمجھنے کی کوشش کررہے ہیں جس میں الفاظ، کشتی اور کھجور کے پتے شامل ہیں

اسرائیل کے آثار قدیمہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ وہ یروشلم میں کی گئی کھدائی میں ملنے والی عبرانی زبان میں قدیم نقاشی کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یہ نقاشی ایک یہودی حمام یا ’میکوہ‘ کے کمروں کی دیواروں سے ملی ہے۔ اس کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ 2000 سال پرانی ہے۔

ماہرین ان علامات کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں جس میں الفاظ، کشتی اور کھجور کے پتے شامل ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ نشانات یا تو دیوار پر لکھی بےمعنی تحریریں ہیں یا پھر مذہبی علامات۔

اسرائیلی آثار قدیمہ کے ادارے (آئی اے اے ) کا کہنا ہے کہ اس میں سے ایک علامت مینورہ ہو سکتی ہے۔ یہ وہ سات شاخوں والا شمع دان ہے جو یروشلم کے دو یہودی عبادت خانوں میں موجود تھا، اس کے علاوہ کچھ نام بھی ہوسکتے ہیں۔

یہ علامات اس وقت سامنے آئیں جب آثار قدیمہ کے حکام نے آرنونا قصبے میں نرسری بنانے کے لیے ایک جگہ کا معائنہ کیا۔

دیواروں پر لکھی گئی تحریر آرامی زبان ہے۔ عبرانی تحریروں کے مطابق آرامی مسیح کے زمانے میں بولی جاتی تھی۔

پروجیکٹ کے ڈائریکٹر روئے گرین والڈ اور الیگزینڈر ویگ مین کا کہنا ہے کہ ’اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ بہت اہم دریافت ہے۔ آثار قدیمہ کی جگہ سی ملنے والی علامات دوسرے معبد کے دور کی ہیں۔ یہ منفرد، غیر معمولی اور دلچسپ ہیں اور بالکل محفوظ حالت میں ہیں۔‘

پینٹنگ اور نقش کاری کو میکوہ سے تجربہ گاہ منتقل کر دیا گیا ہے۔

آئی اے اے کا کہنا ہے ان کا ارادہ ہے کہ اسے عوام کے دیکھنے کے لیے پیش کیا جائے۔

اسی بارے میں