ایران جانے کے خواہش مند شوقیہ امریکی شکاری

تصویر کے کاپی رائٹ ALAMY
Image caption ایران کے ماحولیاتی تحفظ کی ایجنسی غیر ملکیوں کو نایاب اور محفوظ نسلوں کے جانوروں کے شکار کے لیے تقریباً 500 لائسنس جاری کرتی ہے

ایک امریکی ڈاکٹر کے زمبابوے میں ’سیسل‘ نامی شیر کی ہلاکت پر اُٹھنے والے ہنگامے نے شوقیہ شکار کو توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔

لیکن عام طور پر جیسے افریقہ کھیلوں کے لیے مشہور ہے، اسی طرح زندہ دل امریکی اسلامی جمہوریہ ایران کو شکار کے لیے ایک اور مقبول جگہ سمجھ رہے ہیں۔

ہر سال ایران میں ماحولیاتی تحفظ کی ایجنسی غیر ملکیوں کو نایاب اور محفوظ نسلوں کے جانوروں کے شکار کے لیے تقریباً 500 لائسنس جاری کرتی ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان گذشتہ 35 سالوں سے سفارتی تعلقات کی عدم موجودگی اور کشیدگی کے باوجود ان میں سے زیادہ تر شکاریوں کا تعلق امریکہ سے ہوتا ہے۔

یہ وہاں تب سے جا رہے ہیں جب ایک دہائی قبل غیر ملکی اثاثے کنٹرول کرنے کے امریکی محمکہ خزانہ (او ایف اے سی) نے امریکی ایجنسیوں کو ایران میں شکار کے لیے کیے جانے والے دوروں کی بکنگ کو قانونی حیثیت دی تھی۔

حتیٰ کہ جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی بہت زیادہ بڑھ گئی تھی، تب بھی امریکی شوقیہ شکاری آئبیکس اور اڑیال کی تلاش میں ایران کی وادیوں اور جنگلات کی خاک چھان رہے تھے۔ یہ جانور صرف ایران میں قانونی طور پر شکار کیے جا سکتے ہیں۔

انٹرنیٹ پر اگر فوری تلاش کریں تو بلغداد سے ماسکو اور بیجنگ سے ایران میں شکار کے لیے دوروں کی سہولت فراہم کرنے والی سفری کمپنیوں کی ایک کثیر تعداد ملتی ہے، جو خصوصی طور پر امریکی مارکیٹ کے لیے مغربی شکاریوں کی دلکش گھنگریالے سینگوں والے ان جانوروں کے ساتھ رنگین تصاویر لگاتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سیسل نامی شیر کی ہلاکت کے بعد جانوروں کے تحفظ کے لیے دنیا بھر میں ایک بار پھر آواز اٹھائی جا رہی ہے

دنیا بھر میں ایسی جگہوں کی تشہیر کے لیے کام کرنے والے ایک امریکی شکاری ویب سائٹ پر درج ہے کہ ’ہم اب آپ کو یقینی طور پر ایران میں ایک انتہائی منفرد اور مہم جویانہ شکار کے تجربے کی پیشکش کر سکتے ہیں۔‘

ایک چینی ویب سائٹ تسلیم کرتی ہے کہ یہ امریکی شکاریوں کے لیے مشکل ہوگا کہ وہ ایران میں آتشیں اسلحہ لے کر جا سکیں یا شکار کیے جانے والے جانوروں کے اعضا ایران سے باہر لے جا سکیں۔ لیکن ’شکاریوں کو اپنے خوابوں کی تعبیر پانے کے لیے‘ اپنے راستے میں آنے والی تمام ممکنہ رکاوٹوں کو عبور کرنے کے لیے ضمانت دینا ہو گی۔

شوقیہ شکار ایران اور اس طرح کے دوروں کا انتظام کرنے والی دوسری کمپنیوں کے لیے ایک اہم کاروبار کی حثیت رکھتا ہے۔

مالدار غیر ملکی سیاحوں کو اڑیال کے شکار کے لیے 15 ہزار امریکی ڈالر ادا کرنا پڑتے ہیں جبکہ لیرسٹن موفلون نامی نایاب بھیڑ کے شکار کی قیمت 20 ہزار امریکی ڈالر ہے۔

کثیر تعداد میں نایاب نسلوں کی تلاش میں ایران آنے والے امریکی اور دیگر غیر ملکی شکاریوں سے حاصل ہونے والی آمدنی ایرانیوں کے لیے بہت اہمیت کی حامل ہے۔

لیکن جنگلی حیات کے تحفظ کے حامیوں میں یہ مایوسی بڑھانے کا باعث ہے۔

ایران کیسپیئن سیلز، نایاب سانپوں، ریچھوں اور غزالوں سمیت مختلف اقسام کی جنگلی حیات کے وسیع تنوع کے لیے شہرت رکھتا ہے۔

لیکن ملک کی جنگلی حیات ایک شدید دباؤ کا شکار ہے۔ شہری ترقی اور شکار کے لیے سب کچھ موجود ہے لیکن ایران میں کچھ نایاب نسلیں تباہ ہوچکی ہیں۔

120 ایرانی نایاب جانور کو خطرات لاحق ہونے کی وجہ سے ایران بین الاقوامی یونین کی ریڈ لسٹ میں شامل ہیں۔

ان میں سب سے زیادہ مشہور ایرانی چیتا ہے جن میں سے صرف 50 باقی بچے ہیں۔

بڑھتی ہوئی آگہی:

2013 کے انتخابات کے بعد سے صدر حسن روحانی نے ماحولیات کو اپنی ترجیحات میں سے ایک بنا دیا جس سے عوامی شعور آہستہ آہستہ بڑھ رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ REX FEATURES
Image caption نایاب جنگلی بھیڑ لیرسٹن موفلون کے شکار کی قیمت 20 ہزار امریکی ڈالر ہے

ایرانی سوشل میڈیا پر اب ماحولیاتی اور جنگلی زندگی کے متعلق خبروں کی بھرمار ہے اور مقامی سطح پر محتلف برادریوں کو ان کے علاقے میں جنگلی حیات کے تحفظ کے متعلق آگاہی فراہم کی جا رہی ہے۔

حالیہ چند سالوں کے دوران خطرات سے دوچار نایاب جنگلی نسلوں کی حفاظت پر مامور ایرانی رینجرز کی حمایت میں اضافہ ہوا ہے۔

تاہم یہ زیادہ قانونی تحفظ کا ثانی نہیں۔ کئی شکاریوں کو بلااجازت شکار کرنے کے بدلے میں موت کی سزا بُھگتنے جیسی قیمت چکانی پڑی۔

رینجرز کے لیے غیر لائسنس یافتہ شکاریوں کی طرف سے ایرانی جنگلی حیات کو لاحق خطرات سے بچانا ایک مشکل جنگ ہے۔

بلا اجازت اور غیر قانونی شکاریوں سے نمٹنا اب ایک قومی مسئلہ بن چکا ہے جس کے لیے ایران کے قومی ٹیلی ویژن پر ماحولیاتی آگاہی سے متعلق پروگرام نشر کیے جا رہے ہیں۔

بہت سے مقامی غیر قانونی شکاریوں کی جانب سے ان کے قتل کی ریکارڈنگز اور ویڈیوز نے ایرانی عدلیہ کو اس کے خلاف کارروائی کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

تاہم ایران کی شکاری لابی طاقتور ہے اور اس کی جانب سے اس بات پر حمایت جاری ہے کہ شوقیہ شکار ثقافت کا ایک اہم جزو ہے، اور شکار کے لائسنس ماحولیاتی تحفظ کی ایجنسی کے لیے آمدنی کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔

لیکن بہت سے ماہرینِ ماحولیات کا کہنا ہے کہ شوقیہ شکار پر خرچ ہونے والی آمدنی کا احتساب نہ ہونا ایک فکر انگیز بات ہے اور اس کے ساتھ ساتھ شکار کیے جانے والے جانوروں کی تعداد پر بھی ایک سوالیہ نشان لگ گیا ہے جس کی بنیاد پر لائسنس کا اجرا کیا جاتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ THINKSTOCK
Image caption 120ایرانی نایاب جانور خطرات لاحق ہونے کی وجہ سے بین الاقوامی یونین کی ریڈ لسٹ میں شامل ہیں

ماحولیاتی تحفظ کی ایجنسی کو بھی وہ سسٹم جس کے تحت یہ کام ہو رہا ہے اس کے طریقہ کار پر خدشات لاحق ہیں۔

حکام نے سختی سے ایسے واقعات کی مذمت کی ہے جن میں غیر ملکی شکاریوں نے نایاب چیتوں کا شکار کر کے قوانین کو توڑا، اور ثبوت کے طور پر فیس بُک پر تصاویر پوسٹ کیں۔ کچھ کیسز تو ایسے ہیں جن میں وہ شکار کیے جانے والے جانوروں کو ملک سے باہر لے گئے۔

جنگلی پرندوں سے متعلق ایک اور مسئلہ

گذشتہ سال ایرانی بحریہ نے خلیجِ اومان میں ایک کشتی پر چھاپے کے دوران 140 زندہ شاہین پکڑے، جنھیں ایران سے مالدار عرب شکاریوں کے ذریعے سے خلیجی ریاستوں کو سمگل کیا جارہا تھا۔

ماہرین ماحولیات کہتے ہیں کہ غیر ملکی، نایاب پرندوں کو شکار کرنے کی غرض سے قانونی طور پر شکار کرنے کا لائسنس حاصل کر لیتے ہیں، اور اِس وجہ سے ان نایاب پرندوں کی نسلیں معدوم ہوتی جا رہی ہیں۔

ایران شکاریوں کے لیے اپنے حیاتیاتی ماحول اور اس کے ساتھ نسبتاً جدید سہولیاتِ زندگی اور مواصلات کے ذرائع کے باعث بڑا پُرکشش سمجھا جاتا ہے۔

امریکہ سے نیوکلیئر معاہدے سے بہتر ہوتے تعلقات کے بعد اگر مزید شکاری سیاحوں نے یہاں آنے کا فیصلہ کر لیا تو یہ ایرانی جنگلی حیات کے لیے دو دھاری تلوار کی مانند ثابت ہو سکتا ہے۔

ایرانی صدر روحانی اور ان کے وزیرِماحولیات، معصومہ اِبتکار کو امریکہ کے ساتھ ثقافتی تعلقات بہتر بنانے کے حوالے سے مشکل فیصلے کرنے ہوں گے۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ آیا کہ جنگلی جانوروں کے سیاحتی شکار کو دونوں ملکوں کے مابین ایک ثقافتی تعلقات میں فروغ کے طورپر استعمال کیا جائے یا اس کا خاتمہ کیا جائےگا۔

اس وقت توجہ طلب بات یہ ہے کہ شکاری دورے کرانے والی کمپنیاں ایران میں اپنے کاروبار کو پھیلانے کے لیے مزید مواقع ملنے کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں