الّو پروں کی پھڑپھڑاہٹ چھپانے کی صلاحیت رکھتے ہیں

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption الوؤں کے پروں سے دورانِ پرواز میکانیکی توانائی خارج ہوتی ہے جسے وہ حرارت میں تبدیل کر لیتے ہیں

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ دیگر پرندوں کے برعکس الّو اپنے پروں کے پھڑپھڑانے کی آواز دبانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

محققین کے مطابق یہی وجہ ہے کہ شکار کے دوران الّو اپنے ہدف کو بےخبری میں ہی جا پکڑتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ الوؤں کو آوازیں پوشیدہ رکھنے کے معاملے میں پرندوں کا سردار کہا جا سکتا ہے۔

چین کی ڈالیان یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کے سائنسدانوں نے پتہ چلایا ہے کہ الّوؤں کے پر ایک سائلنسر کی مانند پھرپھڑاہٹ سے پیدا ہونے والے شور کو دبا دیتے ہیں اور وہ بےآواز پرواز کر سکتے ہیں۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ معلوم کر لیا جائے کہ الوؤں کے پر کیسے ایروڈائنیمک آوازوں کو چھپا سکتے ہیں تو اس سے بڑی مشینوں سے خارج ہونے والی شور کو ختم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption الو صرف پر پھیلانے کی حالت میں ہی نہیں پھڑپھڑانے کی حالت میں بھی آواز پیدا نہیں ہونے دیتے

تحقیق سے پتہ چلا کہ الوؤں کے پروں سے دورانِ پرواز میکانیکی توانائی خارج ہوتی ہے جسے وہ حرارت میں تبدیل کر لیتے ہیں اور اس کا نتیجہ مکمل خاموشی میں پرواز کی صورت میں نکلتا ہے۔

سائنسدانوں نے اس تحقیق کے دوران لیزر اور ہائی سپیڈ کیمروں کی مدد سے الوؤں، عقابوں اور کبوتروں کی پرواز کا تجزیہ کیا کیونکہ حجم میں مختلف ہونے کے باوجود ان تینوں پرندوں کے پر پھڑ پھڑانے کا انداز ایک ہی ہے۔

اس تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ پروفیسر جنکوئی چو کا کہنا ہے کہ الوؤں کی خاموشی سے اپنے شکار کو پکڑ لینے کی صلاحیت ایک عرصے سے سائنسدانوں اور انجینیئرز کو حیران کیے ہوئے تھی۔

انھوں نے کہا کہ اب جبکہ ہم یہ جان چکے ہیں کہ الّو کی پرواز کی صلاحیت ہماری سوچ سے کہیں زیادہ بہتر ہے تو ہم اسے ’آواز چھپانے والے پرندوں کا سردار‘ کہہ سکتے ہیں۔

اسی بارے میں