’ایشلی میڈیسن کے تین صارف اپنی جان لے چکے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ہیکروں نے گذشتہ ماہ یہ معلومات چوری کی تھیں اور دھمکی دی تھی کہ اگر اِس ڈیٹنگ ویب سائٹ کو بند نہ کیا گیا تو وہ اس معلومات کو سب پر ظاہر کر دیں گے

کینیڈا کے پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ڈیٹنگ ویب سائیٹ ’ایشلی میڈیسن‘ کے صارفین کے کوائف منظر عام پر آنے کے بعد اب تک تین صارفین خود کشی کر چکے ہیں۔

کینیڈین پولیس نے یہ انکشاف ٹورنٹو میں ایک پریس کانفرنس میں کیا، تاہم حکام نے اس سلسلے میں مزید معلومات فراہم نہیں کیں۔

پولیس کا کہنا تھا کہ ایشلی میڈیسن کی مالک بڑی کپمنی ’ایوِڈ لائف میڈیا‘ نے اعلان کیا ہے کہ وہ ہیکرز کی نشاندہی کرنے والے کو پانچ لاکھ کینیڈین ڈالر ( دو لاکھ چالیس ہزار پاؤنڈ) انعام دے گی۔

یاد رہے کہ ہیکرز نے ایشلی میڈیشن کے تین کروڑ تیس لاکھ صارفین کے اکاؤنٹس کو ہیک کر لیا تھا۔

ہیکرز سے مخاطب ہوتے ہوئے پولیس کے سپرنٹنڈنٹ برائس ایونز کا کہنا تھا کہ’میں یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ آپ نے جو کچھ کیا وہ غیر قانونی ہے اور اسے برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اس پیغام کا مقصد یہ ہے کہ آپ جاگ جائیں۔‘

’آج میں اس بات کی تصدیق کر سکتا ہوں کہ ایوڈ لائف میڈیا نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس شخص کو پانچ لاکھ ڈالر دی گی جس کی معلومات پر ہیکرز کی نشاندھی ہو سکے، انھیں گرفتار کیا جا سکے اور ان پر مقدمہ چلایا جا سکے۔‘

یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے ’ایشلی میڈیسن‘ کے صارفین کی چوری ہونے والی معلومات شائع کر دی گئی تھیں۔ یہ ویب سائٹ شادی شدہ افراد کے لیے غیر ازدواجی تعلقات استوار کرنے کی سہولت مہیا کرتی ہے۔

یہ معلومات ’ڈارک ویب‘ پر شائع کی گئی تھیں، جس کا بعد معلومات تک رسائی اِنکرپٹڈ براؤزرز کے ذریعے ممکن ہو گئی تھی۔

ہیکروں نے گذشتہ ماہ یہ معلومات چوری کی تھیں اور دھمکی دی تھی کہ اگر اِس ڈیٹنگ ویب سائٹ کو بند نہ کیا گیا تو وہ ان معلومات کو عام کر دیں گے۔

تیکنیکی ویب سائٹ ’وائرڈ‘ کا کہنا تھا کہ 9.7 گیگا بائٹ چوری شدہ معلومات شائع کی گئی ہیں۔ شائع شدہ معلومات میں ویب سائٹ کے ممبران کے اکاؤنٹ اور اُن کے کریڈٹ کارڈوں کی تفصیلات شامل ہیں۔

خود کو ’اِمپیکٹ ٹیم‘ کہلوانے والے ہیکروں کا کہنا تھا کہ انھوں نے ویب سائٹ کے صارفین کے اصلی نام اور پتے حاصل کر لیے ہیں، اور اُن صارفین کے ڈیٹا تک بھی رسائی حاصل کر لی ہے جو ماضی میں اپنے اکاؤنٹ کی معلومات ’ڈیلیٹ‘ کرنے کے لیے ویب سائٹ کو ادائیگی کر چکے ہیں۔

اِس سے پہلے جولائی میں بھی معلومات کا ایک چھوٹا سا حصہ شائع کیا جا چکا ہے۔

اسی بارے میں