تھری ڈی کیمروں سے آثارِ قدیمہ کا تحفظ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گذشتہ دنوں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ نے پیلمائرا میں واقع قدیم عبادت گاہ بعل شمین کو تباہ کر دیا تھا

مشرق وسطیٰ میں قدیم تاریخی ورثے کو تباہ ہونے سے بچانے کے لیے کی جانے والی کوششوں کے سلسلے میں خطے بھر میں تھری ڈی تصاویر بنانے والے کیمرے دے جائیں گے۔

خیال رہے کہ شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ نے مشرق وسطیٰ میں کئی آثار قدیمہ کو تباہ کردیا ہے۔

دولتِ اسلامیہ کی ویڈیو میں نمرود کی تباہی

پیلمائرا کا تاریخی ورثہ دولتِ اسلامیہ کے رحم و کرم پر

دولت اسلامیہ نے پیلمائرا میں ’قدیم عبادت گاہ تباہ کر دی‘

آکسفورڈ اور ہارورڈ کے ماہر آثارقدیمہ کی جانب سے شروع کیے گئے اس منصوبے کے تحت ہزاروں مقامی افراد کو تصاویر بنانے کے لیے کہا جائے گا۔

اس تصاویر کے لیے ماہرین تھری ڈی پرنٹر کا استعمال کرتے ہوئے تباہ ہونے والی عمارتوں اور آثار قدیمہ کی نقل دوبارہ تیار کر سکیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شام کے شہر حلب میں واقع 5000 سال پرانے قلعے کو بمباری سے نقصان پہنچا ہے

خیال رہے کہ رواں ماہ شام کے شہر پیلمائرہ میں واقع آثار قدیمہ کو شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ نے نقصان پہنچایا ہے۔

برطانیہ کے انسٹی ٹیوٹ فار ڈیجیٹل آرکیالوجی کی جانب سے شروع کیے گئے اس منصوبے کے تحت دنیا بھر میں شورش زدہ علاقوں میں 5000 کیمرے تقسیم کیے جائیں گے اور سنہ 2016 کے اختتام تک خطرے سے دوچار چیزوں کی دس لاکھ تصاویر جمع کرنے کا ارادہ ظاہر کیا گیا ہے۔

اس منصوبے کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر روجر مچل نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ وقت کے خلاف ایک دوڑ ہے، ہم نے تباہ ہونے والے مقامات کے پیش نظر اپنا ٹائم ٹیبل تبدیل کر دیا ہے۔‘

اگر بہت سے مقامات کی بے شمار عام تصاویر بھی بنائی جارہی ہیں تاہم جو تھری ڈی ٹیکنالوجی یہ ٹیم استعمال کر رہی ہے اس کی مدد سے چیزوں کی دوبارہ تخلیق ممکن ہو سکے گی۔

اس ٹیم نے ایک سستا تھری ڈی کیمرہ تیار کیا ہے جس کی مدد سے ناتجربہ کار افراد بھی اعلیٰ معیار کی تصاویر بنا سکیں گے جو خودبخود ایک آن لائن ڈیٹا بیس میں محفوظ ہوتی جائیں گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عراقی شہر سامرا کا شمار بھی عالمی ثقافتی ورثے میں ہوتا ہے

روجر مچل کہتے ہیں: ’میرے خیال میں ان جگہوں کے فنِ تعمیر اور فن کی تاریخ کو محفوظ بنانے کے لیے ہمارے پاس ڈیجیٹل آرکیالوجی ایک بڑی امید ہے۔‘

تاہم ان کا کہنا تھا ’ان کی تقسیم سب سے بڑی مشکل ہے۔‘

وہ مقامی افراد جو کام کرنے کے خواہشمند ہیں، ان کو کیمروں کی تقسیم کے لیے حکام یونیسکو کے ساتھ بھی کام کریں گے۔

روجر مچل کے مطابق ’تمام مشرق وسطیٰ میں وہ اپنی مقامی شناخت اور تاریخ میں بہت زیادہ لگاؤ رکھتے ہیں کہ وہ مدد کرنے کے لیے رضا مند ہوں گے۔‘

اسی بارے میں