کوریا: ہزاروں مفت موبائل فون مگر صرف سننے کے لیے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption فوجیوں کو پے فون پر انحصار کرنا پڑتا ہے لیکن ملک میں ایسے فونوں کی تعداد بھی کم ہوتی جا رہی ہے

جنوبی کوریا کے فوجیوں میں 44 ہزار سے زیادہ موبائل فون تقسیم کیے جا رہے ہیں لیکن فوجی موبائل سے فون کر نہیں سکیں گے صرف سن سکیں گے۔

موبائل فون جنوبی کوریا کی فوج کی چاروں شاخوں یعنی آرمی، نیوی، میرین اور فضائیہ کے ارکان کو دیے جا رہے ہیں۔

کوسن ایبو ویب سائٹ کے مطابق موبائل فون دینے کا مقصد یہ بتایا گیا ہے کہ بیرکوں میں موجود فوجی اپنے خاندان والوں اور دوستوں کے ساتھ رابطے میں رہ سکیں۔

فی الوقت اگر کسی کوریائی فوجی کے لیے ضروری فون آ جائے تو وہ انتظامیہ کے دفتر کے ذریعے ہی سنا جا سکتا ہے۔

وزارتِ دفاع کے بجٹ میں پابندیوں کی وجہ سے موبائل فون سکیم کا اطلاق صرف ان فوجیوں پر ہوگا جو دو افتادہ علاقوں میں واقع بیرکوں میں یا پھر اگلے مورچوں پر ہوں گے۔

لیکن ٹیلی کام کمپنی ایل جی یوپلیس نے آگے بڑھ کر موبائل فونوں کی لاگت اور نیٹ ورک کے اخراجات اٹھانے کے فیصلے کے بعد طے کیا گیا کہ فوجیوں کو 44 ہزار چھ سو 86 فون دیے جائیں گے تاکہ فوج کی کوئی ایسی بیرک نہ ہو جس کے فوجی کے پاس فون نہ ہو۔

اطلاعات کے مطابق کمپنی نے یہ خرچہ برداشت کرنے کا فیصلہ ان خبروں کے بعد کیا کہ جبری بھرتی کیے گئے کچھ محبِ وطن فوجیوں نے شمالی کوریا کے ساتھ حالیہ سرحدی کشیدگی کم ہونے تک فوج سے برخاستگی میں تاخیر کر دی تھی۔

اب تک موبائل فونوں کو سکیورٹی کا مسئلہ قرار دیا گیا ہے اور جنوبی کوریا کی فوج کے کسی بھی رکن کے لیے موبائل فون رکھنا منع ہے۔ اس وجہ سے فوجیوں کو پے فون پر انحصار کرنا پڑتا ہے لیکن ملک میں ایسے فونوں کی تعداد بھی کم ہوتی جا رہی ہے۔

کوریا کے فوجیوں سے کہا گیا ہے کہ یک طرفہ فون کی اجازت رات کے دس بجے سے پہلے مگر شام کو فارغ اوقات میں ہوگی۔

لیکن شاید فوجیوں کو فون بجنے کے انتظار سے بچانے کے لیے پہلے سے لکھے ہوئے مخصوص ٹیکسٹ پیغام بھیجنے کی اجازت ہوگی۔ پہلے سے طے شدہ یہ پیغامات کچھ ایسے ہوں گے ’پلیز آج مجھے فون کر لیں۔‘

کوریا کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ یہ سکیم فوجیوں اور ان کے گھر والوں دونوں کی پریشانی کم کرنے میں مدد فراہم کر ے گی۔

اسی بارے میں