بی بی سی برطانیہ کو ڈیجیٹل میکرز کا ملک بنانا جاہتا ہے

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption صارفین ڈاکٹر ہو کے کردراوں پر مبنی گیمز بنا سکیں گے

بی بی سی نے اپنے ’میک اٹ ڈیجیٹل‘ کے سیزن کے لیے ایک نئی ویب سائٹ کا آغاز اس امید کے ساتھ کیا ہے کہ اسے استعمال کرکے ناظرین ’ڈیجیٹل میکرز‘ بن جائیں گے۔

یہ منصوبہ پورے برطانیہ میں ڈیجیٹل صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے بنایا گیا ہے۔

’مکس اٹ ایل‘ ویب سائٹ لوگوں کو مشہور بی بی سی برانڈز جیسے کہ ’سٹرک ٹلی کم ڈانسنگ‘، ’ڈاکٹر ہو‘ اور ’ایسٹ اینڈرز‘ سے کانٹینٹ یا مواد بنانے کا موقع دے گی۔

ویب سائٹ نے آن لائن، ٹی وی اور ریڈیو پر بھی ایک ماہ کے لیے ڈیجیٹل کانٹینٹ لگانے کا اعلان کیا ہے۔

ڈیجیٹل کریٹوٹی یا تخلیق کے سربراہ مارٹن ولسن نے کہا کہ یہ ’بی بی سی کے لیے ایک نیا موڑ ہے۔‘

انھوں نے کہا ’ہم بی بی سی کے تخلیقی اوزار اور اثاثوں تک ناظرین کو رسائی دے رہے ہیں تاکہ وہ اپنی مرضی کا بی بی سی بنا سکیں۔‘

یہ منصوبہ گیم بنانے والے ایک ٹول سے شروع ہوا تھا جو کہ پروگرام ’ٹیکنو بیبل‘ کے لیے بنایا گیا تھا۔ یہ پروگرام 12 سال کے بچوں میں بہت مقبول ہوا تھا۔

مارٹن نے کہا ’بچوں نے ڈھائی لاکھ گیمز بنائی تھیں۔ اس سے ہم بہت متاثر ہوئے اور ہمیں لگتا ہے کہ بچوں میں ڈیجیٹل مواد بنانے کا جوش ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption میکساٹ ایل کے ذریعے بچے بی بی سی کے پروگراموں کے ذریعے اپنی گیمز، موسیقی اور کہانیاں بنا سکیں گے

خیراتی ادارے نیسٹا کے مطابق 80 فیصد طالب علموں نے پہلے سے ڈیجیٹل کانٹینٹ بنانا شروع کر دیا ہے لیکن یہ زیادہ تر سکولوں کے باہر ہوتا ہے۔

آجروں کی ٹیک پارٹنرشپ نیٹ ورک کی ایک رپورٹ کے مطابق توقع ہے کہ اگلے 10 برسوں میں برطانیہ کے ٹیک ماہرین چار گنا زیادہ بڑھیں جائیں گے۔

پروگرامروں، ڈویلپرز اور ویب ڈیزائنرز جیسی مقبول نوکریاں اگلے دس برسوں میں 40 فیصد زیادہ بڑھیں گی۔

میکساٹ ایل کے ذریعے بچے بی بی سی کے پروگراموں کے ذریعے اپنی گیمز، موسیقی اور کہانیاں بنا سکیں گے۔

مثال کے طور پر پروگرام ایسٹ اینڈرز پر مبنی اینیمیٹد کامکس بنائے جا سکیں گے۔ ڈانس شو سٹرک ٹلی کم ڈانسنگ کے لیے رقص کی روٹین بنائی جا سکیں گی اور ٹی وی شو ڈاکٹر ہو کے لیے ایڈوینچر گیمز بنائی جائیں گے۔

مارٹن امید کرتے ہیں کہ بی بی سی کی برانڈز استعمال کرکے چھوٹی عمر کے ناظرین مشغول ہو سکیں گے۔

انھوں نے کہا ’نوجوان نسل سارا دن اپنی ٹیبلیٹس پر چیزیں دیکھتی ہے۔ یہ کام ان کو مزید تخلیقی بنائے گا۔‘

اسی بارے میں