’خوراک کی مقدار کم تو موٹاپا بھی کم‘

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock
Image caption بریانی مزیدار تو لگ رہی ہے لیکن آپ کو کتنی کھانی چاہیے؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ موٹاپے کی وبا کو کم کرنے کے لیے سُپر مارکیٹوں میں دستیاب پکے پکائے یا ڈبہ بند پکوان کی مقدار کو بھی کم کرنا ہو گا۔

ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے 61 معاملات کا مشاہدہ کیا جس سے وہ اس نتیجے پر پہنچے یا انھیں ’حتمی ثبوت‘ ملا کہ خوراک کی مقدار کا تعلق ہمارے نادانستہ کھانے سے ہے۔

کیمبرج یونیورسٹی سے اس ٹیم نے مزید کہا کہ اگر لوگوں کو چھوٹی سائز کی پلیٹ، گلاس اور کٹلری دی جائے تو وہ کم کھاتے ہیں۔ ماہرین نے یہ بھی کہا لوگ کھانا بچانے سے ہچکچاتے ہیں۔

صحت کی پالیسی سے متعلق ’کوکرین ڈیٹا بیس آف سیسٹمٹک ریویوز‘ میں شائع ہونے والے ٹیم کے اعداد و شمار کے مطابق اگر لوگوں کو زیادہ خوراک دی جائے تو وہ زیادہ کھاتے ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ حالیہ دہائیوں میں خوراک کی مقدار میں اضافہ ہو رہا ہے۔

برطانیہ میں تین میں سے دو افراد کا وزن یا تو زیادہ ہے یا پھر وہ موٹے ہیں جس سے انھیں دل کی بیماری یا ٹائپ ٹو ذیابیطس اور کینسر کا خطرہ درپیش ہے۔

6711 افراد پر کی گئی تحقیق کے نتائج میں ٹیم کو معلوم ہوا کہ ’زیادہ مقدار‘ کی خوراک کو کم کرنے سے لوگوں کی خوراک میں سے 279 کیلوریز بھی کم ہو سکتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت ایسے اقدامات کرے جن سے خوراک کی مقدار چھوٹے پیکٹوں میں دی جائے تو لوگ اپنا وزن کم کر سکتے ہیں۔

صحت سے متعلق ’پبلک ہیلتھ انگلینڈ‘ کے غذائیت کے سربراہ ڈاکٹر ایلیسن ٹیڈ سٹون نے کہا: ’اس تحقیق سے یہ بات واضح ہے کہ خوراک کی مقدار کم کرنے سے کیلوریاں بھی کم ہوتی ہیں، اس لیے خوراک خریدنے سے پہلے اس بات پر غور کرنا چاہیے۔‘

اسی بارے میں