’انٹرنیٹ پر کچھ بھی مفت نہیں ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ’فیس بک پر آپ نے اپنے بارے میں جو بھی معلومات مہیا کی ہیں وہ قیمتی ہیں اور فیس بُک اس معلومات سے معاشی فائدہ اٹھا رہا ہے‘

تصور کریں کہ آپ کی تمام پسندیدہ ویب سائٹس تک رسائی مفت نہ رہے بلکہ اس کے لیے آپ کو باقاعدہ ادائیگی کرنا پڑے۔

کیا آپ انٹرنیٹ کا استعمال بالکل ترک کر دیں گے یا پھر بخوشی معیاری صحافتی اور تفریحی ویب سائٹوں تک رسائی حاصل کرنے کے لیے رقم خرچ کرنے کے لیے تیار ہو جائیں گے؟

اگر ایڈ بلاکنگ (اشتہارات روکنے والے پروگرام) کا استعمال عمومی طور پر زیادہ دیکھی جانے والی ویب سائیٹوں پر شروع ہوگیا تو ہمارے پاس یہی راستے رہ جائیں گے۔

ایسا اس لیے ہے کہ آن لائن ہم جو کچھ بھی دیکھتے ہیں اس کی آمدنی کا 90 فیصد دارومدار اشتہارات پر ہوتا ہے۔ یہ انٹرنیٹ کا بنیادی اقتصادی طریقہ کار ہے۔

تجزیہ کارسمجھتے ہیں کہ موبائل فون اور کمپیوٹر ٹیبلٹ بنانے والی سب سے معروف کمپنی ایپل کا اپنے آئی فون اور آئی پیڈ کے براؤزر ’سفاری‘ کے ذریعے اشتہارات روکنے کے فیصلے سے انٹرنیٹ کے اس اقتصادی ماڈل کو کافی نقصان پہنچا سکتا ہے۔

انٹرنیٹ ایڈورٹائزنگ بیورو کے سینیئر پروگرام مینیجر ڈیوڈ فِریو کا کہنا ہے کہ ’ایڈ بلاکنگ اشتہارات کی پوری صنعت کے لیے خطرہ ہیں۔‘

وہ مزید کہتے ہیں کہ ’یہ ممکنہ طور پر اشارہ ہے کہ آن لائن اشتہارات کی موجودہ شکل اپنے خاتمے کے نزدیک ہے۔ یہ ضروری ہے کہ لوگ اس بات کو سمجھیں کہ وہ آن لائن جو کچھ بھی دیکھتے ہیں وہ مفت نہیں ہے بلکہ کسی نہ کسی شکل میں اس کی قیمت ہے۔ مثال کے طورپر سوشل میڈیا کی سب سے مقبول ویب سائٹ پر آپ نے اپنے بارے میں جو بھی معلومات مہیا کی ہیں وہ قیمتی ہیں اور فیس بُک اس معلومات سے معاشی فائدہ اٹھا رہا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ایپل کا اپنے آئی فون اور آئی پیڈ کے براؤزر ’سفاری‘ کے ذریعے اشتہارات روکنے کے فیصلے سے انٹرنیٹ کے اس اقتصادی ماڈل کو کافی نقصان پہنچا سکتا ہے

عام طور پر استعمال کیے جانے والے اٹرنیٹ براؤزر اپنے صارفین کو اشتہارات کے نئی ونڈو میں ایک دم سے کھلنے والے پیج (پوپ اپ ایڈز) کو روکنے کے اختیارات دیتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ سالہاسال سے یہ ایڈز پوپ اپ ہو رہے ہیں۔ ان اشتہارات کو روکنے کے لیے کئی پروگرام دستیاب ہیں جن میں ایڈ بلاک، ایڈ بلاک پلس، یو بلاک، اور ایڈگارڈ شامل ہیں۔ ان پروگراموں کو دنیا بھر میں لاکھوں صارفین استعمال استعمال کررہے ہیں۔

اشاعت و تشہیر کی صنعت سے وابستہ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ اب جبکہ ایپل جیسی بین الاقوامی طور پر معروف کمپنی بھی اشتہارات کی روک تھام کا حصہ بن گئی ہے یہ عمل اور بھی مقبول ہو جائے گا خاص طور پر موبائل فون میں۔

ڈیجیٹل ایڈورٹائزنگ ٹیکنالوجی فرم ’ایپ نیکسِس‘ کے چیف ایگزیکٹو برائن اوکلی سمجھتے ہیں کہ اس تمام تر صورت حال کی ذمہ دار ویب سائٹسں خود ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’کئی ویب سائٹس لالچ کا شکار ہوگئی تھیں۔ ان کی سائٹ کے پہلے پیج پر 50 فیصد جگہ اشتہارات نے گھیری ہوئی ہوتی ہے۔ اور ان میں زیادہ تر غیر ضروری چیزیں ہوتی ہیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ اشتہارات کا مقصد صارف کی توجہ اپنی مصنوعات کی جانب مبذول کرانا ہوتا ہے لیکن انھیں صارف کے لیے پریشان کُن بھی نہیں ہونا چاہیے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Peter Macdiarmid
Image caption ’ جیگوار کمپنی نے مخصوص سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کا رخ کیا جہاں قیمت ادا کرکے آپ اپنی مصنوعات کی تشہیر کی جاتی ہے‘

اشتہارات کے حوالے سے تحقیق کرنے والے ادارے آئی ایچ ایس کے سینیئر ڈائریکٹر ڈینیل کناپ بھی اس بات کی تائد کرتے ہیں کہ ’صارفین ان اشتہارات کی بے جا مداخلت سے اب تنگ آچکے ہیں۔ یہ اشتہارات نہ صرف صارف کے لیے مطلوبہ معلومات دیکھنے میں مشکل کا سبب بنتے ہیں بلکہ ان کی وجہ سے موبائل فون پر ڈیٹا کا غیر ضروری استعمال بڑھ جاتا ہے اور بیٹری بھی جلد کمزور ہو جاتی ہے۔‘

ڈیجیٹل مارکیٹنگ ایجنسی ’میٹیا‘ کے مینیجنگ ڈائریکٹر مارک پِنِسنٹ کہتے ہیں کہ اشتہارات کے حوالے سے ہمارے ملے جلے جذبات ہوتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’لوگ کہتے ہیں کہ وہ اشتہارات کو ناپسند کرتے ہیں اور جیسے ہی آپ انہیں یہ موقع دیں کہ وہ ان اشتہارات کو روک سکیں تو وہ فوراً ایسا کرتے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ہی ہم اکثر اپنے پسندیدہ اشتہارات کے بارے میں ایک دوسرے کو بتانا بھی چاہتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ اچھے اشتہارات کہ ساتھ بہت سارے بُرے اشتہارات بھی ہوتے ہیں۔‘

اگرتمام انٹرنیٹ صارفین ہی اشتہارات کو روکنا شروع کردیں گے تو آن لائن ناشرین سالانہ آمدنی میں ہونے والی اس کٹوتی سے کیسے نمٹیں گے جو اس عمل سے ناگزیر ہو جائے گی۔ اور مشتہرین اپنے صارف تک کیسے رسائی حاصل کرسکیں گے؟

اوکلی کہتے ہیں کہ ’ایسی صورت میں اشتہارات کی تعداد کم ہوجائے گی اور اس کے ساتھ ان سے آنے والی آمدنی بھی۔ لیکن وہ بالکل ختم نہیں ہوگی، بس آمدن میں سے سب کا حصہ کم ہوجائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption انٹرنیٹ ایڈورٹائزنگ بیورو کے ڈیوڈ فِریو کا کہنا ہے کہ ’ایڈ بلاکنگ اشتہارات کی پوری صنعت کے لیے خطرہ ہیں‘

ان کا خیال ہے کہ ویب پروڈیوسروں اور آن لائن ناشرین کو اپنے صارفین کے ساتھ یہ ’مشکل گفتگو‘ کرنی پڑے گی اور انھیں راضی کرنا پڑے گا کہ وہ اشتہارات کو روکنے والے پروگرام یعنی ایڈ بلاکراستعمال نہ کریں۔

وہ کہتے ہیں ’صارفین کا پاس اس بات کا اختیار ہونا چاہیے کہ فیصلہ کر سکیں کہ وہ کس قسم کے اشتہارات دیکھنا چاہتے ہیں، ان کی ڈاؤن لوڈنگ کے لیے وہ کیا رفتار چاہتے ہیں، اور نجی معلومات تک وہ خوشی سے کتنی رسائی دینے کے لیے تیار ہیں۔ جب آپ اشتہارات روکنے والے پروگرام کے ساتھ کسی ویب سائٹ پر جائیں تو اس ویب سائٹ پر موجود معلومات تک رسائی مفت حاصل کرنے کا اختیار نہیں ہونا چاہیے۔‘

ایسی دنیا میں جہاں انٹرنیٹ پر موجود مواد تک مفت رسائی روزانہ کے معمولات کا حصہ ہو اورسبسکِرپشن کا طریقہ کار صرف خصوصی طور پر شائع ہونے والے مواد تک محدود ہووہاں قیمت کے عوض معلومات تک رسائی کا سوچنا کتنا حقیقت پسند ہو سکتا ہے؟

معروف رسالوں جیسے کوسمُوپولیٹن، گُڈ ہاؤس کِیپنگ، اوراِسکوار کے ناشر اور برطانوی جریدے ہارسٹ میگزین کے چیف ٹیکنالوجی آفیسر ڈیرن گولڈزبی اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ ایڈ بلاکر ’بھی ہمارے کام کے لیے اتنے ہی خلل کی باعث ہیں جتنا کہ خود انٹرنیٹ کی آمد تھی۔ اشتہارات کی روک تھام کرنے کا رجحان خطرناک ہے اور وقت کے ساتھ ان پروگراموں کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔ اس کا مطلب ہے کہ ہمیں ایسا کام کرنے کے لیے سخت محنت کرنا ہوگی جو تجارتی بنیادوں پر کامیاب ہو اور لوگ اُسے پڑھنا چاہیں۔‘

گولڈزبی کہتے ہیں کہ اس کا مطلب ہے کہ ہمیں زیادہ توجہ ’نیِٹو ایڈورٹائزنگ‘ ( آن لائن اشتہاری مہم کا طریقہ کار جس میں اُس ویب سائٹ پر موجود اصل مواد سے ملتی جلتی صورت میں ہی مصنوعات کی تشہیر کی جاتی ہے) پر دینی ہوگی۔ نیٹو ایڈورٹائزنگ میں سپانسرڈ کانٹینٹ ایڈورٹوریل، برانڈڈ مائکرو سائیٹس وغیرہ شامل ہیں اور انھیں ایڈ بلاکر کے ذریعے نہیں روکا جا سکتا۔

پنِسنٹ کہتے ہیں کہ مشتہرین پہلے ہی سماجی رابطے کی ویب سائٹس کے ذریعے صارفین کی توجہ حاصل کرنے اور ایسی معلومات ان تک پہنچانا سیکھ رہے ہیں جو صارف کسی اور کو بھی بتانا یا دکھانا چاہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AdBlock
Image caption ’ایڈ بلاک‘ کا دعویٰ ہے کہ یہ پروگرام تمام قسم کے اشتہارات کو بلاک کرسکتا ہے

مثال کے طور پر جیگوار گاڑی بنانے والی کمپنی نے اپنی نئی گاڑی ’ایف پیس فور وہیل ڈرائیو‘ کا رولر کوسٹر جھولوں کے عمودی دائرے میں چلانے کا مظاہرہ فلمبند کیا۔ گاڑی چلانے کے لیے استعمال ہونے والا یہ دائرہ قطر کے حساب سے دنیا کا سب سے بڑہ دائرہ تھا اور اپنی انفرادیت کے باعث اخباروں نے اپنی شہہ سرخیوں میں اس خبر کو جگہ دی۔

پنِسنٹ نے بتایا کہ ’اس کے بعد جیگوار کمپنی نے مخصوص سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کا رخ کیا جہاں قیمت ادا کرکے آپ اپنی مصنوعات کی تشہیر کی جاتی ہے تاکہ فلمبند مناظر کوان صارفین تک پہنچایا جا سکے جن کے لیے یہ دلچسی کا باعث ہوں۔ اور یہ انھوں نے کسی روایتی مشتہر کا سہارا لیے بغیر کیا۔ آگے چل کر کمپنیوں کی اپنی مصنوعات خود کانٹینٹ پروڈیوسر بن جائیں گی۔

مشتہرین آن لائن آمدن میں ہونے والا اپنا خسارہ پورا کرنے کے لیے نیٹو ایڈورٹائزنگ اور برانڈڈ کانٹینٹ کے طریقے استعمال کر رہے ہیں لیکن یہ آزاد صحافت کے لیے کیا معنی رکھتا ہے؟

پنِسنٹ کہتے ہیں کہ ’جیسے ہی آپ اُن لکیروں کو دھندلا دیتے ہیں جو صحافت اور کسی کمپنی کی طرف سے اپنی مصنوعات کی تشہیر کے لیے لکھوائے جانے والے مواد کو ایک دوسرے سے جدا کرتی ہیں یہ بہت خطرناک ہوجاتا ہے۔ کیونکہ اس عمل سے صارف اس معلومات سے متاثر ہو سکتا ہے بغیر یہ جانے کہ وہ اصل صحافتی مضمون ہے یا تشہیری۔‘

ایک بار اگر انٹرنیٹ کے صارفین یہ بات سمجھ لیں کہ بغیر اشتہارات کے ویب سائٹ دیکھنے کے لیے انھیں ادائیگی کرنی پڑے گی تو ممکن ہے کہ ایڈ بلاکرز کی مقبولیت میں کمی آجائے۔ خاص طور پر اگر اس کا متبادل یہ ہو کہ انھیں ایسے مضامین برداشت کرنے پڑیں گے جو تجارتی مقاصد کے تحت لکھے گئے ہوں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Hearst Magazines
Image caption ہیرسٹ کا کہنا ہے کہ اس کے برطانیہ میں شائع ہونے والے ڈیجٹل ٹائلز ڈیڑھ کروڑ افراد تک پہنچتے ہیں

کچھ مبصرین سمجھتے ہیں کہ ایڈ بلاکر کی مقبولیت سے صارفین کو یہ موقع ملا ہے کہ وہ ناشرین اور مشتہرین کے ساتھ اس مسئلے پراپنے نقطعہ نظر کو سامنے لاتے ہوئے نئے سرے سے بات کر سکیں۔

صارفین کو اپنی ذاتی معلومات کو محفوظ اور تجارتی بنیادوں پر استعمال کرنے میں مدد فراہم کرنے والے ایک گروہ ’سٹیزن می‘ کے چیف ایگزیکٹو سینٹ جان ڈیکن کہتے ہیں کہ ’نئے طریقہ کار کے تحت انٹرنیٹ صارفین اپنی معلومات تک رسائی اپنی مرضی اور اپنی مرضی کی قیمت کے تحت دے سکیں گے۔‘

دیگر لوگ سمجھتے ہیں کہ اس تبدیلی سے فیس بُک، گُوگل، اور ایمیزون کی انٹرنیٹ کی معیشت پر گرفت مزید سخت ہوجائے گی۔

آئی ایچ ایس کے ڈینیل کناپ کہتے ہیں کہ ’سنہ 2020 تک یورپ کی آن لائن تشہیری صنعت پر 70 فیصد فیس بُک اور گُوگل کی اجارہ داری ہوگی۔ وہ ایسا نظام تشکیل دے رہے ہیں جس میں معلوماتی مواد، تشہیری مواد کے ساتھ ہوگا اور اپنے صارفین پر ان کی مکمل گرفت ہے۔‘

کیا وقت آگیا ہے کہ صارفین اس گرفت سے اپنے آپ کو آزاد کرا لیں؟

اسی بارے میں