ایسٹروسیٹ: بھارت کی پہلی خلائی لیبارٹری

تصویر کے کاپی رائٹ ISRO
Image caption ایسٹروسیٹ کوخلا میں لانچ کرنے والے راکٹ (وہیکل) پر انڈونیشیا، کینیڈا اور امریکہ کی سیٹلائیٹس کے لیے ’پے لوڈ‘ بھی شامل ہیں

بھارت نے ایسٹروسیٹ نامی اپنی پہلی خلائی لیبارٹری اتر پردیش سے لانچ کر دی ہے۔

اس لیبارٹری کی زندگی کل پانچ سال ہے اور اس کے ذریعے زمین سے 650 کلو میٹر یا 404 میل اوپر اجرام فلکی کا معائنہ کیا جائے گا۔

’انڈین سپیس ریسرچ آرگنائزیشن(ISRO) کا کہنا ہے کہ ایسٹروسیٹ پر چار ’ایکس رے پح لوڈ‘، ایک „یو وی ٹیلیسکوپ‘ اور ’چارج پارلایکل مانیٹر‘ بھی موجود ہیں۔

ایسٹروسیٹ ISRO کے سنہ 2014 کے مریخ مشن کے بعد سب سے بڑا پروجیکٹ ہے۔

خبر رساں ادارے ’آئی اے این ایس‘ کے مطابق ایسٹروسیٹ کی کامیاب لانچ کے بعد اپنے کمپیوٹرز کی سکرین سے جڑے سائنسدان خوشی سے تالیاں بجانے لگے۔

ISRO کے مطابق ایسٹروسیٹ کے مقاصد میں ’نیوٹرون‘ ستاروں اور ’بلیک ہولز‘ والے ’بائنری سٹار سسٹمز کے ہائی اینرجی پروسس پر تحقیق اور آسمان پر کم مدتی تیز ایکس رے سورسز کی تلاش شامل ہیں اور لیبارٹری سے حاصل کی گئی معلومات کا بھارت کے بڑے خلائی ادارے اور کچھ یونیورسٹیوں میں جائزہ لیا جائے گا۔

ایسٹروسیٹ کوخلا میں لانچ کرنے والے راکٹ (وہیکل) پر انڈونیشیا، کینیڈا اور امریکہ کی سیٹلائیٹس کے لیے ’پے لوڈ‘ بھی شامل ہیں۔

یہ پہلا موقع ہے کہ امریکی سیٹلائٹس کو خلا میں چھوڑنے کے لیے ایک بھارتی راکٹ (وہیکل) کا استعمال کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں