سٹم سیلز کی مدد سے بینائی کی بحالی کی کوشش

تصویر کے کاپی رائٹ SPL
Image caption اے ایم ڈی کا شکار مریض اپنی بینائی کھو بیٹھتے ہیں جس کے بعد انھیں مسخ شُدہ اور دھندلا دکھائی دیتا ہے

لندن میں بینائی کی بحالی پر تحقیق کرنے والے ڈاکٹروں نے بصارت کی بحالی کے لیے پہلے مرتبہ انسانی ایمبریونک سٹم سیل کی پیوندکاری کا تجربہ کیا ہے۔

اس طریقۂ کار کے ذریعے ایک 60 سالہ خاتون کا آپریشن مُورفیلڈز آئی ہسپتال میں کیا گیا ہے۔

اس آپریشن میں آنکھوں کے پردۂ بصارت (ریٹینا) کے عقب میں مخصوص خلیوں کی پیوندکاری کی جاتی ہے۔

نابینا پن کے علاج کے لیے ایک دہائی قبل ’لندن پراجیکٹ‘ کا آغاز کیا گیا تھا۔

اس منصوبے کا مقصد بڑھتی ہوئی عمر کے باعث ہونے والی بیماری میکیولرڈی جنریشن (اے ایم ڈی) کا علاج دریافت کرنا تھا جس میں مریض کی بینائی متاثر ہوتی ہے۔

اس تحقیق کے دوران دس ایسے مریضوں کا آپریشن کیا جائےگا جنھیں ویٹ (رطوبت) اے ایم ڈی کی شکایت ہے اور وہ آنکھ کی شریانوں میں خرابی کے باعث نابینا پن کا شکار ہیں۔

اس علاج کے مضر اثرات جاننے کے لیے اور یہ جاننے کے لیے کہ ان افراد میں آنکھ کی روشنی کس حد تک بحال ہوئی ہے ایک سال تک انھیں زیر معائنہ رکھا جائےگا۔

پہلا آپریشن خاتون مریضہ پرگذشتہ ماہ کیا گیا تھا جبکہ خاتون نےاپنی شناخت ظاہر کرنے سے انکار کیا ہے۔

تحقیق کے مصنفین میں شامل یو سی ایل انسٹیٹیوٹ آف آپتھلمولوجی کے پروفیسر پیٹر کافی کا کہنا ہے کہ ’کرسمس سے پہلے ہم یہ اندازہ نہیں لگا سکتے کہ ان خاتون کی آنکھ کی روشنی کس حد تک واپس آئی ہے اور یہ کتنے عرصے رہےگی۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ خلیے آنکھ کے پردہ بصارت کے عقب میں نیچے کی جانب موجود ہیں جہاں ان کو ہونا چاہیے اور وہ صحت مند بھی لگتے ہیں۔‘

اس طریقہ کار میں ریٹینل پگمنٹ ایپی تھیلیم کی تہہ سٹم سیل کی مدد سے بنائی جاتی ہے۔ یہ تہہ میکیولا (آنکھ کا وہ حصہ جس کے ذریعے ہم دیکھتے ہیں) میں اخذہ نور کو تقویت دینے اور مدد دینے کا کام کرتی ہے۔

میکیولر ڈی جنریشن (اے ایم ڈی) کی بیماری میں ریٹینل پگمنٹ ایپی تھیلیم خلیے مر جاتے ہیں جس کے باعث بینائی متاثر ہوتی ہے۔

اے ایم ڈی کا شکار مریض اپنی بینائی کھو بیٹھتے ہیں جس کے بعد انھیں مسخ شُدہ اور دھندلا دکھائی دیتا ہے۔

اسی بارے میں