دمے کی ادویات سے بچوں کی نشوونما متاثر ہوسکتی ہے

تصویر کے کاپی رائٹ THINKSTOCK
Image caption ماہرین کا کہنا ہے کہ حتمی نتیجا اخذ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ بڑے پیمانے پر یہ تحقیق کی جائے

یورپ میں کی جانے والی ایک تحقیق کے ابتدائی نتائج کے مطابق دمے کے دو سال سے کم عمر مریضوں کو اگر علاج کے لیے سٹیرائڈز والی ادویات دی جائیں تو ان کا قد چھوٹا رہنے کا اندیشہ ہے۔

فن لینڈ میں 12 ہزار بچوں پر کی جانے والی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ جن بچوں کو ایک لمبے عرصے تک سٹیرائڈز والی ادویات دی جاتی ہیں ان میں قد چھوٹا رہ جانے کا زیادہ رحجان نظر آتا ہے۔

حاملہ خواتین کی خوراک کا اثر بچوں کے دل پر

اس سے قبل کی جانے والی ایک تحقیق سے ایسے اشارے ملے تھے کہ سٹیرائڈز والی ادویات سے بچوں کی نشوونما پر منفی اثر پڑتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق یاد دہانی کراتی ہے کہ چھوٹے بچوں کو سٹیرائڈز دینے میں بہت احتیاط کرنی چاہیے۔

تاہم برطانیہ میں دمے کے مریضوں کے لیے کام کرنے والی خیراتی ادارے ’استھما یو کے‘ کا کہنا ہے کہ سٹیرائڈز والی ادویات چھوٹے بچوں میں دمے کی علامات پر قابو پانے میں اہم کردار کرتی ہیں۔

تحقیق کرنے والی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر اینٹی ساری جو یونیورسٹی آف ایسٹرن فن لینڈ سے وابستہ ہیں کا کہنا ہے کہ ان کی ٹیم نے اس حوالے سے تمام اعداد وشمار کو سامنے رکھ کے تحقیق کی ہے۔

تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اگر مستقل بنیادوں پر ان ادویات کا استعمال کیا جائے تو بڑے ہوکر بچوں کا قد تین سینٹی میٹر تک چھوٹا رہ سکتا ہے۔

ڈاکٹر ساری کا کہنا ہے کہ ’یہ ضروری ہے کہ ڈاکٹر چھوٹے بچوں کو دمے کی سٹیرائڈز والی ادویات دینے قبل اچھی طرح سوچ لیں کہ یہ ضروری ہے کہ نہیں۔‘

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ حتمی نتیجہ اخذ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ بڑے پیمانے پر یہ تحقیق کی جائے۔

اسی بارے میں