آسٹریلوی سائنسدان ’منی‘ گردے بنانے میں کامیاب

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ’منی‘ گردے لمبائی میں صرف ایک سنٹی میٹر ہیں۔

آسٹریلیا میں سائنسدان سٹیم سیلز کا استعمال کرتے ہوئے لیباٹری میں انسانی گردوں کے چھوٹے نمونے بنانے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

یہ ’منی‘ گردے لمبائی میں صرف ایک سنٹی میٹر کے ہیں۔

سائنسدانوں نے بتایا کہ یہ پیمائش میں ماں کے پیٹ میں 13 ہفتے کی عمر کے جنین کے گردے سے مناسبت رکھتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سے مستقبل میں تجربات اور گردوں کے ٹرانسپلانٹ کے عمل میں مدد حاصل ہو گی۔

اس تجربے میں سائنسدان ایک قدرتی عمل کی نقل کرنے کی کوشش کر رہے تھے جس میں زندگی کے ابتدائی مراحل میں انسانی جنین میں ہر قسم کے جسمانی اعضا پیدا کرنے کی صلاحیت رکھنے والے سیل پیدا ہوتے ہیں۔

ان مراحل میں انسانی جلد پیدا کرنے والے سیل دوسرے اعضا پیدا کرنے کی صلاحیت حاصل کر لیتے ہیں۔

انھیں سٹیم سیل کہا جاتے ہے اور یہیں سے سائنسدانوں نے اپنی تحقیق شروع کی۔

اس پر کام کرنے والی ٹیم نے کیمیائی سگنلز کی مدد سے سٹیم سیل کو دو محتلف سیلز میں تبدیل کیا جو خون کو صاف رکھنے اور اس سے آلودا مواد کو نکالنے کا کام کرتے ہیں۔

جب ان دونوں سیلز کو ایک ہی پیٹری ڈش میں ساتھ اگایا گیا تو انھوں نے خود بخود اپنے آپ کو ایک گردے میں تبدیل کر دیا۔

سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ ان کو صحیح معنوں میں گردے تو نہیں کہا جا سکتا لیکن یہ بہت چھوٹے پیمانے پر وہی کام کرتے ہیں جو انسانی گردے کرتے ہیں۔

اسی بارے میں