آخری ایام کے لیے برطانیہ ’سب سے بہتر‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption درجہ بندی میں کچھ چیزوں کا جائزہ لیا گیا تھا جس میں ہسپتالوں کا معیار، ہسپتالوں کا ماحول، ارزاں دیکھ بھال اور اُس کا معیار شامل تھا

زندگی کے آخری ایام میں کی جانے والی دیکھ بھال کے لحاظ سے برطانیہ دنیا کا سب سے بہترین ملک ہے۔ یہ بات خدمات کی فراہمی اور اُن کے اچھے معیار کے بارے میں کی گئی ایک تحقیق میں سامنے آئی ہے۔

یہ تحقیق 80 ممالک میں کی گئی اور اِس میں برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس کا شکریہ ادا کیا گیا اور کہا گیا کہ برطانیہ ہسپتالوں کی جانب سے فراہم کی جانے والی دیکھ بھال میں ’کسی سے پیچھے نہیں‘ ہے۔

امیر ممالک میں بہترین کار کردگی کا مظاہرہ کرنے کا رجحان زیادہ ہوتا ہے۔ درجہ بندی میں آسٹریلیا دوسرے اور نیوزی لینڈ تیسرے نمبر پر ہے۔

لیکن معاشی انٹیلی جنس یونٹ کی رپورٹ میں کچھ غریب ممالک میں ہونے والی پیش رفت کی تعریف کی گئی ہے۔

مثال کے طور پر منگولیا کا نمبر 28 ہے جہاں ہسپتالوں کی سہولیات میں سرمایہ کاری کی گئی ہے جبکہ یوگینڈا کا نمبر35 ہے جہاں عوام اور حکومت کی شراکت داری سے درد کو قابو کرنے کے لیے رسائی کو بہتر بنانے میں کامیابی ہوئی ہے۔

درجہ بندی میں کچھ چیزوں کا جائزہ لیا گیا تھا جس میں ہسپتالوں کا معیار، ہسپتالوں کا ماحول، عملے کی تعداد اور مہارت، ارزاں دیکھ بھال اور اُس کا معیار شامل تھا۔

80 ممالک میں سے صرف 34 ممالک میں زندگی کےآخری ایام میں فراہم کی جانے والی دیکھ بھال کو اچھا قرار دیا جا سکتا ہے اور یہ بالغ آبادی کا صرف 15 فیصد ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آبادی میں تیزی سے اضافے کے باعث زندگی کےآخری لمحوں میں فراہم کی جانے والی دیکھ بھال کا معیار اہم ہوتا جا رہا ہے۔ لوگ تیزی سے موت کے منھ میں جا رہے ہیں۔

برطانیہ کے پہلے نمبر پر آنے کی وجہ سہولیات کی کم قیمت فراہمی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AmelieBenoist BSIPSCIENCE PHOTO LIBRARY
Image caption عراق اور بنگلہ دیش اِس فہرست میں سب سے آخر میں جبکہ چین بدترین دس ممالک میں شامل ہے

مجموعی طور پر برطانیہ کو 100 میں سے 93.9 پوائنٹ دیے گئے لیکن رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مزید بہتری کی گنجائش موجود ہے۔

حال ہی میں برطانیہ کی پارلیمانی اور صحت کی خدمات کے محتسب کی جانب سے ملک میں صحت کی سہولیات کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

’عالمی معیار‘

رپورٹ کی مصنفہ اینی پینیلی کا کہنا ہے کہ ’بیماری میں فراہم کی جانے والی دیکھ بھال میں برطانیہ کے کردار کو سب تسلیم کرتے ہیں۔ یہ مسئلے کی جانب اِس کی جامع حکمت عملی کی عکاس ہے اور اُس کے ساتھ ساتھ اِس میں مزید بہتری کرلی گئی ہے۔

’لیکن برطانیہ بیماری میں فراہم کی جانے والی دیکھ بھال کے معیار میں سب سے آگے رہنے کے لیے بہت کچھ کر سکتا ہے۔ جیسا کہ کمیونیکیشن میں کبھی کبھار پیش آنی والی مشکلات کو دور کرنا یا علامات پر قابو پانا۔‘

قومی کونسل برائے دیکھ بھال کی چیف ایگزیکٹیو کلیری ہینری کا کہنا ہے: ’اِس کی سب سے بہتر بات یہ کہ برطانیہ جس طرح قریب الموت لوگوں کی دیکھ بھال کرتا ہے یہ بہت اعلیٰ معیار کی ہے لیکن اِس پر اطمینان نہیں کیا جا سکتا خاص کر اُس وقت جب اِس کی مانگ میں اضافہ ہو رہا ہے۔‘

سنہ 2010 میں جب آخری بار یہ رپورٹ آئی تھی برطانیہ اُس وقت بھی پہلے نمبر پر تھا۔اِس بار آئرلینڈ، فرانس، جرمنی اور امریکہ پہلے دس ممالک میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

عراق اور بنگلہ دیش اِس فہرست میں سب سے آخر میں جبکہ چین بدترین دس ممالک میں شامل ہے۔

عالمی ہستالوں کی تنظیم کے رکن ڈاکٹر سٹیون کونور کا کہنا ہے: ’سب سے بڑی مشکل جو موجود ہے وہ یہ ہے کہ ہمارا صحت کا نظام جلدی صحت یاب ہونے والی بیماریوں کی دیکھ بھال کے لیے ترتیب دیا گیا ہے جب کہ ہمیں دائمی بیماریوں سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔ اب بھی دنیا بھر میں ہر جگہ یہی مسئلہ ہے۔‘

اسی بارے میں