فیس بک نے برطانیہ میں صرف چار ہزار پاؤنڈ ٹیکس دیا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یہ تازہ انکشاف برطانیہ میں جاری اس بحث کو مزید تقویت دے گا کہ برطانیہ میں کمپنیاں کتنا کارپوریشن ٹیکس ادا کرتی ہیں

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک نے گذشتہ برس برطانیہ میں چار ہزار تین سو 27 پاؤنڈ کارپوریشن ٹیکس ادا کیا۔

برطانیہ میں کمپنیوں کی جانب سے حالیہ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق فیس بک نے گذشتہ برس ٹیکس ادا کرنے سے پہلے دو کروڑ 82 لاکھ پاؤنڈ کا خسارہ ظاہر کیا لیکن اس نے برطانیہ میں 362 افراد پر مشتمل عملے کو شئیر بونس کی مد میں تین کروڑ 54 لاکھ پاؤنڈ ادا کیے۔

فیس بک کی جانب سے عملے کو فی کس 96 ہزار پاؤنڈ ادا کیے گئے جبکہ فیس بک کی جانب سے ادا کیے جانے والا کارپوریشن ٹیکس اس کے برطانیہ میں عملے کی تنخواہ میں ہونے والی ٹیکس کٹوتی سے کم ہے۔

پرائیویسی کی عدالتی جنگ میں فیس بک کو دھچکہ

برطانیہ میں اوسط تنخواہ ساڑھے 26 ہزار پاؤنڈ ہے اور اس میں سے ہر ملازم نیشنل انشورنس اور انکم ٹیکس کی مدد میں پانچ ہزار تین سو 92 پاؤنڈ ادا کرتا ہے۔ جنوری میں فیس بک نے چوتھی سہ ماہی میں 70 کروڑ دس لاکھ ڈالر منافعے کا اعلان کیا تھا اور یہ گذشتہ برس کے اسی عرصے میں ہونے والے منافعے سے 34 فیصد زیادہ تھا۔ اس کے علاوہ اسے دو ارب 90 کروڑ ڈالر کا مجموعی منافع ہوا اور یہ 2013 کے منافعے سے تقریباً دگنا ہے۔

یہ تازہ انکشاف برطانیہ میں جاری اس بحث کو مزید تقویت دے گا کہ برطانیہ میں کمپنیاں کتنا کارپوریشن ٹیکس ادا کرتی ہیں۔

یورپی کمیشن گوگل، ایمزون، فیئٹ موٹرز کے ایک ڈویژن اور سٹاربکس کی تحقیقات کر رہا ہے۔ ان تحقیقات کا آغاز ان معلومات کے سامنے آنے کے بعد ہوا کہ سٹاربکس نے 1998 سے 2012 تک برطانیہ میں محض 86 لاکھ پاؤنڈ کارپوریشن ٹیکس کی مد میں ادا کیے جبکہ کمپنی نے اسی مدت میں برطانیہ میں تین ارب پاؤنڈ کی مصنوعات فروخت کیں۔

فیس بک کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ ’ہم برطانیہ کے ٹیکس قوانین کی تعمیل کرتے ہیں اور ہم برطانیہ میں اپنی کاروباری سرگرمیوں کو بڑھاتے رہیں گے اور جبکہ اس برطانیہ میں اس کے تمام عملے نے دیے جانے والے معاوضوں پر انکم ٹیکس ادا کیا۔‘

اسی بارے میں