مراکش میں ماحولیات کے تحفظ کے لیے 36 ممالک کا اجلاس

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock
Image caption یہ دیکھنا ہے کہ ممالک اپنی معیشت سے کاربن کو نکالنے کے لیے کتنا جلد تیار ہو پاتے ہیں

عالمی ماہرین کے درمیان مراکش میں ماحولیات کے تحفظ کے لیے سیاست دانوں کے وعدوں کی موزونیت کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس ہو رہا ہے۔

اب تک کاربن کے اخراج کو روکنے کے لیے تقریباً 150 ممالک نے اقوام متحدہ کے ساتھ وعدے کیے ہیں لیکن تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صرف وعدے کافی نہیں ہیں۔

’ماحولیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ مسلمانوں کی مذہبی ذمہ داری ہے‘

چین کے ماحولیاتی منصوبے کا اعلان

کلائیمیٹ اینالیٹکس نامی تھنک ٹینک کے اندازوں کے مطابق اب تک کیے جانے والے وعدے درجہ حرارت کو 2.7 سینٹی گریڈ تک لے جا رہے ہیں جو کہ ’محفوظ حد دو سینٹی گریڈ سے کافی اوپر ہے۔‘

مراکش میں 36 ممالک کے درمیان ہونے والے اس اجلاس میں تمام ممالک ان وعدوں کی روشنی میں فیصلے کریں گے۔

ماحولیات پر ہونے والے گذشتہ اجلاس کے دوران یورپی یونین نے یہ تجویز دی تھی کہ اقوام متحدہ آئندہ ماہ پیرس میں ہونے والے ماحولیاتی اجلاس سے قبل ممالک کے وعدوں اور سائنس دانوں کے مطالبوں کے درمیان پایا جانے والا خلا کا تعین کر لیا جائے۔

اور جب چین سے ماحولیات کے بارے میں منصوبوں میں بہتری لانے کے لیے کہا گیا تو چین نے اس تجویز کو رد کر دیا۔

اس کے بعد یورپی یونین نے خود آئندہ سال مراکش میں ہونے والی اقوام متحدہ کے ماحولیات پر اجلاس کے میزبانوں کے ساتھ مل کر رباط میں ایک اجلاس کی میزبانی کرنے کا فیصلہ کیا۔

اس اجلاس میں امریکہ اور بھارت کئی دوسرے ممالک کے ساتھ شریک ہو رہے ہیں جن میں برطانیہ، جرمنی، کئی افریقی ممالک اور آسٹریلیا شامل ہیں۔ ان ممالک کو پہلے ہی اخراج کے حوالے سے کیے جانے والے وعدوں پر شدید تنقید کا نشانہ بنایاگیا ہے۔

کلائیمیٹ اینالیٹکس کے بل ہئیر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ’بہت زیادہ پیش رفت ہو رہی ہے لیکن وہ اب بھی کافی نہیں ہے۔ بہت سے ممالک اس حد تک نہیں جا رہے جہاں تک انھیں جانا چاہیے بلکہ وہ اتنا بھی نہیں کر رہے ہیں جو ان کے لیے بعد میں فائدہ مند ہو۔‘

درحقیقت بعض عدم تحفظ کا شکار ملکوں کا کہنا ہے کہ درجہ حرارت کو ایک سینٹی گریڈ سے بڑھنے نہیں دینا چاہیے اور ہم اس درجے تک پہلے ہی پہنچ چکے ہیں۔

اسی بارے میں