دراز قد اور سرطان کے تعلق کی وضاحت ممکن؟

Image caption دراز قامت خواتین میں چھاتی کا سرطان ہونے کا خطرہ 20 فیصد زیادہ ہو سکتا ہے

اس طرح کی خبریں سامنے آئی ہیں کہ دراز قامت لوگوں کو سرطان کا مرض لاحق ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

لیکن دراز قد ہونے اور سرطان میں مبتلا ہونے کے درمیان تعلق کتنا مضبوط ہے؟ اور کیا اس بات کی وضاحت ممکن ہے؟

’دراز قامت افراد میں سرطان کا خطرہ زیادہ‘

کیا ہم نے سرطان کا علاج ڈھونڈ لیا ہے؟

جب کچھ ہفتے پہلے یہ بات منظرِ عام پر آئی تو اوسط قد سے کچھ زائد یعنی ایک پانچ فٹ آٹھ انچ لمبی برطانوی خاتون ہونے کے ناطے میں اس کے متعلق مزید جاننا چاہتی تھی۔

سٹاک ہوم میں کیرولنسکا انسٹی ٹیوٹ کی ڈاکٹر ایملی بین یی اور اُن کی ٹیم نےسویڈن کے سنہ 1938 سے 1991 کے درمیان پیدا ہونے والے 55 لاکھ افراد کا مطالعہ کیا۔

یہ معلوم ہوا کہ ہر دس سینٹی میٹر سے زائد قد کی حامل خاتون میں سرطان ہونے کے خطرات 18 فیصد زائد ہوتے ہیں۔

مردوں میں اس کی شرح کم ہے کیوں کہ ہر دس سینٹی میٹر سے زائد قدوقامت والے مرد میں سرطان ہونے کے امکانات 11 فیصد زیادہ ہوتے ہیں۔ اور یہ خطرات مختلف اقسام کے سرطانوں کے ہیں ہیں۔

دراز قامت خواتین میں چھاتی کا سرطان ہونے کا خطرہ 20 فیصد زیادہ ہو سکتا ہے جبکہ 10 سینٹی میٹر سے زائد دراز قامت مرد و خواتین میں جلد کے سرطان ہونے کے خطرات 30 فیصد زیادہ ہو سکتے ہیں۔

یہ تحقیق ابھی مکمل طور پر شائع نہیں ہوئی، اسی لیے فی الوقت استعمال کیے گئے ان طریقوں کی جانچ پڑتال کرنا ممکن نہیں ہے۔

کیا محققین نے اعداد و شمار میں اس حقیقت کا بھی خیال رکھا کہ جن لوگوں میں مطالعہ کیا گیا، کیا اُن میں وہ افراد بھی شامل تھے جن میں سرطان کا مرض لاحق ہونے کے خطرات اس لیے تھے کہ وہ تمباکو نوشی کرتے تھے یا پھر وہ بہت موٹے تھے؟ ہم نہیں جانتے۔

ماہرِ معاشیات انٹیلیجنس یونٹ کے ہیلتھ سیکشن سے وابستہ ڈاکٹر وویک موتھو کہتے ہیں کہ ’مجھے اس بات پر یقین کر لینے میں کوئی عار نہیں کہ اس تحقیق میں خامیاں موجود ہیں۔ لیکن اگر تصویر کا دوسرا رُخ دیکھیں تو امکان ہے کہ اس تحقیق میں کچھ سنگین خامیاں موجود ہو سکتی ہیں۔‘

ہم قد اور سرطان کے مابین باہمی تعلق سے متعلق پہلے ہی آگاہ تھے۔ 2011 میں آکسفرڈ یونیورسٹی کے محققین نے خواتین کے لمبے قد کا تعلق کو دس مختلف اقسام کے سرطان کے خطرات سے جوڑا۔

لیکن اِس طرح کا باہمی تعلق کیوں قائم رہنا چاہیے؟

ان میں سے کوئی حتمی تو نہیں لیکن اس متعلق بہت بڑی تعداد میں نظریات موجود ہیں۔ ان میں سے ایک خیال یہ ہے کہ شاید اس کا انسانی نشوونما والے ہارمون سے کوئی تعلق ہے۔

لندن میں سینٹ جارج یونیورسٹی کے مالیکیولر سیل سائنس ریسرچ سینٹر کی سربراہ پروفیسر ڈورتھی بینیٹ کا کہنا ہے کہ اس بات کی سادہ سی وضاحت یہ ہو سکتی ہے کہ دراز قامت افراد میں زیادہ خلیے ہوتے ہیں۔

انھوں نے کہا: ’آپ جتنے لمبے ہوتے جائیں گے آپ میں خلیوں کی تعداد بھی بڑھتی چلی جائے گی۔ سرطان ایک خلیے سے شروع ہوتا ہے اسی لیے یہ بات قرینِ قیاس ہے کہ ایک خاص طرح کے سرطان میں مبتلا ہونے کے خطرات اُسی خاص قسم کے خلیوں کی تعداد پر منحصر ہیں۔‘

کینسر ریسرچ یو کے نے تخمینہ لگایا ہے کہ 1960 کے عشرے کے درمیان پیدا ہونے والے ایک برطانوی شہری میں سرطان ہونے کے 50 فیصد امکانات ہیں۔

اس بات کو دماغ میں رکھتے ہوئے برطانیہ کی ایک اوسط قدوقامت والی خاتون جس کا قد پانچ فٹ چار انچ ہوتا ہے میں اس سے دس سینٹی میٹر زیادہ لمبی ہوں۔

بین یی نے حساب کتاب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے زندگی بھر سرطان ہونے کے خطرات 16 فیصد زیادہ ہیں۔

دوسرے الفاظ میں آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ دوسروں میں اس کے امکانات 50 فیصد ہیں تو میرے معاملے میں یہ امکانات 59 فیصد بڑھ گئے ہیں۔

یہ اس مفروضے کی بنا پر کہا جا رہا ہے جس کے تحت برطانوی اور سویڈن کی خواتین میں سرطان اور قد کے درمیان تعلق یکساں ہے۔

یہ میرے لیے بُری خبر ہے۔

Image caption 10 سینٹی میٹر سے زائد دراز قامت مرد و خواتین میں جلد کے سرطان ہونے کے خطرات 30 فیصد زیادہ ہو سکتے ہیں۔

لیکن یونیورسٹی کالج لندن میں طبی اعداد و شمار کے پروفیسر ٹِم کول کہتے ہیں کہ دراز قامت افراد کو پریشان ہونے کی قطعاً ضرورت نہیں ہے۔

بلکہ دراز قدو قامت کا عام طور پر مطلب یہ ہوتا ہے کہ آپ میں دیگر حالات جیسے دل کے مرض میں مبتلا ہونے کے امکانات کم ہوتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’دراز قد ہونے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کا تجربہ اچھا رہا ہوگا اور آپ بچپن میں زیادہ صحت مند ہوں گے۔‘

ایک عام اصول کے مطابق اگر بچپن میں آپ صحت مند تھے تو اس بات کے روشن امکانات موجود ہوتے ہیں کہ آپ بعد میں بھی صحت مند زندگی گزارتے ہیں۔ اس کا قدوقامت کے ساتھ بھی تعلق موجود ہے وہ اس طرح کہ آپ کو امراضِ قلب بھی لاحق ہو سکتے ہیں جو دراصل عدم مساوات اور سماجی طبقے کے ساتھ منسلک ہیں۔

اسی لیے یہ میرے لیے بالکل بھی بُری خبر نہیں ہے۔بہرحال جیسا کہ کول نے کہا، آپ اپنے قد کے متعلق کچھ نہیں کر سکتے اس لیے پریشان ہونا اس بات کا حل نہیں ہے۔

اسی بارے میں