’اینٹی بائیوٹک کے خلاف مزاحمت وقت کے ساتھ سنگین سے سنگین تر‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption امریکہ میں آپریشن کے بعد انفیکشن پیدا کرنے والے نصف کے قریب جراثیم میں اینٹی بائیوٹک ادویات کے خلاف مزاحمت پائی جاتی ہے

ایک برطانوی طبّی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق اینٹی بائیوٹک ادویات کے اثرات میں 30 فیصد کمی کے باعث امریکہ میں سالانہ چھ ہزار اموات کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

طبّی جریدے لانسٹ میں شائع ہونے والی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ اضافی اموات کا خدشہ بڑی آنت اور کولھے کی ہڈی کے آپریشن اور خون کے سرطان کے مریضوں کی کیموتھیراپی کے دوران زیادہ ہے۔

برطانوی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تحقیق سے ان کے اس خدشے کی تصدیق ہو جاتی ہے کہ انفیکشن میں اینٹی بائیوٹک ادویات کے خلاف پیدا ہونے والی مزاحمت کی صورت میں معمول کے آپریشن متاثر ہوں گے۔

انگلینڈ کے چیف میڈیکل آفیسر کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ ’گزرتے وقت کے ساتھ سنگین سے سنگین تر‘ ہو رہا ہے۔

مجوزہ تحقیق میں مختلف امریکی اداروں سے تعلق رکھنے والے سائنس دانوں پر مشتمل ٹیم کے لگائے گئے اندازوں کے مطابق امریکہ میں آپریشن کے بعد انفیکشن پیدا کرنے والے نصف کے قریب جراثیم میں اینٹی بائیوٹک ادویات کے خلاف مزاحمت پائی جاتی ہے۔

انھوں نے یہ اندازہ بھی لگایا کہ کیموتھیراپی کے بعد پیدا ہونے والے چار میں سے ایک انفیکشن میں اینٹی بائیوٹک ادویات کے خلاف مزاحمت پائی جاتی ہے۔

اس تحقیق کے دوران سائنس دانوں نے موجودہ رجحانات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ اگر اینٹی بائیوٹک ادویات کے خلاف انفیکشن کی مزاحمت میں ایک تہائی اضافہ ہوا ہے تو اس کے مریضوں پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

اس عمل کے لیے ان مریضوں کا مشاہدہ کیا گیا جو سرطان کے علاج کے لیے کیموتھیراپی اور معمول کے آپریشنوں سے گزر رہے تھے۔

سائنس دانوں کے اندازے کے مطابق امریکہ میں انفیکشن کے سالانہ تقریباً سوا لاکھ اضافی کیسز سامنے آ سکتے ہیں جبکہ سالانہ چھ ہزار تین سو اضافی اموات کا خدشہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ spl
Image caption امریکہ میں انفیکشن کے سالانہ تقریباً سوا لاکھ اضافی کیسز سامنے آ سکتے ہیں جبکہ سالانہ چھ ہزار تین سو اضافی اموات کا خدشہ ہے

اس تحقیق کے سربراہ اور واشنگٹن میں سینٹر فار ڈیزیز ڈائنیمکس، اکانومی، اور پالیسی کے ڈائریکٹر پروفیسر رامانن لکشمی نارائن کہتے ہیں کہ اینٹی بائیوٹک ادویات جدید طِب کی بنیاد ہیں لیکن ان کے کم ہوتے ہوئے اثرات ایک ’اہم توجہ طلب مسئلہ‘ ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’خطرے کی بات یہ ہے کہ اینٹی بائیوٹک ادویات کے خلاف مزاحمت کی وجہ سے جدید طب کی قدر میں کمی آ رہی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک میں انفیکشنز کے اندر اینٹی بائیوٹک ادویات کے خلاف پیدا ہونے والی مزاحمت پہلے ہی نوزائیدہ بچوں اور عمر رسیدہ افراد کی اموات کا سبب بن رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب عمر رسیدہ افراد کی آبادی میں اضافہ ہو گا تو زیادہ آپریشنوں کی ضرورت پڑے گی اور انفیکشن ہونے کے خطرات میں مزید اضافہ ہو گا۔

انھوں نے صحت کے ماہرین پر زور دیا کہ وہ ’قومی اور بین الاقوامی سطح پر اینٹی بائیوٹک ادویات کے خلاف پیدا ہونے والی مزاحمت کی روک تھام کے لیے نئی حکمت عملی‘ بنانے پر کام کریں۔

اینٹی بائیوٹک ایکشن کی ڈائریکٹر اور برمنگھم یونیورسٹی کی مائیکرو بائیولوجی کی پروفیسر لارا پڈک پہلے ہی معمول کے آپریشن کے بعد انفیکشن میں اینٹی بائیوٹک ادویات کے خلاف پیدا ہونے والی مزاحمت کے بارے میں خبردار کر چکی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’اینٹی بائیوٹک ادویات کے خلاف پیدا ہونے والی مزاحمت کے بارے میں امریکہ میں کی جانے والی تحقیق کے ذریعے شواہد سامنے آنے سے ان سنگین خدشات کی تصدیق ہو جاتی ہے کہ اس کے سرطان کے مریضوں سمیت طب کے کئی پہلوؤں پر اثرات مرتب ہوں گے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مائیکرو بائیولوجی سوسائٹی کے صدر پروفیسر نائیجل براؤن کہتے ہی کہ مجوزہ تحقیق برطانیہ کے لیے بھی اہم ہے

ان کا کہنا تھا کہ وہ امید کرتی ہیں کہ یہ تحقیق ’ادویات بنانے والی کمپنیوں کو خبردار کرنے کے لیے کافی‘ ہونی چاہیے کہ وہ جراثیمی انفیکشنز کے خلاف تحقیق کریں اور نئے علاج دریافت کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ان کے بغیر سرطان کے مریضوں کے بچنے کے امکانات کم ہو جائیں گے اور وہ اس کے جدید علاج کا فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے۔‘

دوسری جانب برطانیہ میں فی الحال معمول کے آپریشن کے بعد انفیکشن روکنے کے لیے استعمال ہونے والی اینٹی بائیوٹک ادویات کی ناکامی کے زیادہ آثار نظر نہیں آتے، بلکہ پبلک ہیلتھ انگلینڈ کی رپورٹ کے مطابق انفیکشن کی شرح میں قدرے کمی آئی ہے۔

مائیکرو بائیولوجی سوسائٹی کے صدر پروفیسر نائیجل براؤن کہتے ہی کہ مجوزہ تحقیق برطانیہ کے لیے بھی اہم ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’اینٹی بائیوٹک ادویات کے خلاف مزاحمت عالمی مسئلہ ہے اور اگر اس مسئلے کی روک تھام نہیں کی گئی تو برطانیہ میں کولھے کی تبدیلی کے آپریشن اور زچگی کے لیے پہلے سے طے شدہ آپریشن جیسے آپریشن شاذ و نادر ہی ہو سکیں گے۔‘

اسی بارے میں